جن کو بوتل میں کیسے بند کیا جائے

ملک میں چیف جسٹس کی فعالیت اور عوامی ضرورتوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ڈاکٹرائن کا چرچا ہے۔  پاکستان کی خبروں  میں ان دو معاملات کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ صرف پاکستان سپر لیگ ہی ان کے علاوہ خبروں میں جگہ بنانے کے قابل رہی ہے۔ اس  دوران ملک کی معیشت کے ساتھ کیا بیت رہی اور دنیا میں ایسے کون سے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو پاکستان کے مفادات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس کے بارے میں نہ تو اہل پاکستان جاننا چاہتے ہیں اور نہ انہیں کوئی زیر بحث لانے میں  دلچسپی رکھتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو  دھوبی پٹرا دینے کے نت نئے طریقےسوچنے میں مصروف ہیں اور میڈیا کی دلچسپی اس بات تک محدود ہے کہ کس طرح کوئی ایسی سنسنی خیز بات سامنے لائی جائے کہ ریٹینگ یعنی چینل کی آمدنی میں  اضافہ ہو۔   قوم کا بوجھ اٹھائے ان دو طبقات کی ان پریشانیوں میں پھنسے پاکستانی عوام کو جب روز کی دال روٹی کا انتظام کرنے سے فرصت ملتی ہے تو انہیں صرف یہ سننے کو ملتا ہے کہ ملک پر مافیا کا قبضہ ہے جو اسے بیچ کھانے کا انتظام کئے ہوئے ہے یا اس صدا کو مسترد کرنے کے لئے خبر آتی ہے کہ کرپشن کا شور مچانے والوں کی اپنی زندگیاں کیسے گھناؤنے افعال کی زد میں ہیں۔ وہ تو اخلاقی طور پر بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ ایسے میں نہ کسی کی نجی زندگی محفوظ ہے اور نہ باہمی احترام کا کوئی رشتہ باقی بچا ہے۔ ہر شخص دوسرے کے بارے میں مشکوک ہے اور یہ شبہات معاشرے میں یوں سرایت کرچکے ہیں کہ ہر کسی نے اپنا پنا مسیحا تلاش کر رکھا ہے اور  دوسرے کے کھیون ہارے  کو مسترد کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا جائز سمجھا جاتا ہے۔

اس منظر میں ہر شخص جھوٹا ہے اور ہر کے پاس ایک سچ ہے جسے وہ پوری قوت سے بیان کرنا چاہتا ہے لیکن کوئی دوسرا اس سچ کو سننے یا ماننے کے لئے راضی نہیں ہوتا۔  ایسے میں حکومت اور فوج کے بیچ  پکنے والی کھچڑی اور چیف جسٹس ملک کی طرف سے انسانوں کے حقوق کے لئے  کمر بستہ  ہونے  کے معاملات  کو سیاسی لیڈروں کے کردار اور ناکامیوں کے قصے سنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔  اس طرح ایک ایسی فضا تیار کرلی گئی ہے جس میں جمہوریت کا نام تولیا جاتا ہے  لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ جمہوریت شعور، احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے اکثریت کی رائے سے چلائے جانے والے نظام کا نام ہے۔ کیوں کہ  اکثر کی رائے کو جلسوں کی حاضری سے ماپنے کا تصور عام ہو گیا ہے اور اگر انتخاب میں ووٹ اس معیار کے مطابق حاصل نہ ہو سکیں تو  دھاندلی کا شور مچا کر یہ باور کروایا جاسکتا ہے  کہ کس طرح حکومت اپنے اختیار کو ووٹ حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ بعض سیانے شیخ رشید کی طرح قبل از وقت  دھاندلی اور تباہی کا ہنگامہ کھڑا کرکے عوام کے ایک طبقے میں یہ مایوسی پیدا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں  کہ ووٹ کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں ہے۔ ووٹ تو اسی بکس سے نکلیں گے جس طرف حکومت کے کارکن چاہیں گے۔ اس طرح جمہوری ملکوں کے برعکس جہاں سارے سیاسی لیڈر عوام کو ووٹ ڈالنے اور اس طرح اپنی شہری ذمہ داری پوری کرنے کی تلقین کرتے ہیں ، پاکستان کے لیڈر  اپنی حرکتوں اور بیانات کے ذریعے لوگوں کو  یہ مان لینے پر آمادہ کرتے ہیں کہ انہیں تکلیف اٹھا کر ووٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ فیصلہ تو وہی ہوگا جو پہلے سے طے  ہو چکا ہے۔ اس کا ایک پہلو تو وہ ہے جو شیخ رشید دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اور ان کے حامی انتخاب ہار گئے تو مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی سازش کامیاب ہو گئی اور اسی تصویر کا دوسرا رخ وہ ہے جس میں عوام کے مینڈیٹ کو خفیہ طریقوں سے مینیج کرنے کے بارے میں  رائے تشکیل دی جاتی ہے۔ اس صورت حال میں عام شہری کا جمہوریت پر یقین اور ووٹ کی طاقت  پر اعتبار کمزور ہونا قابل فہم ہے۔

اسی طرح ملک میں آئین کی حکمرانی اور قانون کی پابندی کی بات تو کی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ یقین بھی دلایا جاتا ہے کہ آئین تو موم کی ناک ہے جسے ہر طاقتور جب اور جیسے چاہے موڑ لے۔ اس کا مظاہرہ چونکہ ہماری تاریخ میں عام طور سے ہوتا رہا ہے ، اس لئے عام لوگوں کو یہ بات تسلیم کرنے میں دشواری بھی نہیں ہوتی۔ ملک میں قانون  اور آئین کی سب سے بڑی محافظ سپریم کورٹ اور اس کے چیف جسٹس بھی قانون کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار  تو کرتے ہیں جیسا کہ آج چیف جسٹس نے  اپنی عدالت میں مختلف سائلین سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صرف قانون کے مطابق ہی اقدام کرسکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی شکایت سیل کی صورت میں یا اس اعلان کے ذریعے کہ سرکاری محکمے کام نہیں کریں گے تو سپریم کورٹ سو موٹو کے ذریعے معاملات کو درست کرے گی اور چیف جسٹس ہسپتالوں کے دورے کرکے عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کو یقینی بنائیں گے ۔۔۔ یہ باور کروا دیا جاتا ہے کہ قانون تو  ملک کے چیف جسٹس کے منہ سے نکلا ہؤا لفظ ہے۔  جس طرح فوج کو قومی مفاد کے تحفظ کے لئے اقدام کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا ، اسی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو عام آدمی کا دکھ دور کرنے سے کوئی روکنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ قومی مفاد کے تحفظ اور عوامی ضرورتوں کی تکمیل کے درمیان جو جگہ بچتی ہے ملک کا ہر سیاست دان اسی میں اپنی حویلی کھڑی کرنا چاہتا ہے لیکن وہ بھی  اس جگہ میں حصہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔   اسی لئے فساد کی  کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔

کوئی ان سیاست دانوں کو یہ سمجھانے کا حوصلہ نہیں رکھتا کہ ملک کے دو طاقتور اداروں کی طرف سے نام نہاد جمہوری یا سیاسی قوتوں کے لئے سکڑتی جگہ ہی اصل مسئلہ ہے۔ اس سکڑتی جگہ پر اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے جھگڑنے کی بجائے اس جگہ کو وسیع کرنے اور پارلیمنٹ کو بااختیار اور طاقتور بنانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس  کے لئے جمہوریت پر جس اعتماد اور یقین کی ضرورت ہے وہ ملک کے سیاستدانوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ ایسے میں بجا طور سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر اس ملک میں ووٹ کی طاقت سے حکومت بنانے کے خواہشمند ہی جمہوریت کی اہمیت اور قوت سے آشنا نہیں اور اسے صرف ایک نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ اور طاقت  کے حصول کے لئے کبھی فوج کی طرف دیکھتے ہیں اور کبھی سپریم کورٹ سے عرض گزار ہوتے ہیں تو جمہوری رویّے کیسے پھل پھول سکتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ ملک میں اس بات پر چہ میگوئیاں تو موجود ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ڈاکٹرائن  کیا ہے اور انہوں نے اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے کیا بات کی ہے۔ حتیٰ کی ملک کے سب سے مؤقر انگریزی اخبار ڈان نے بھی آج اپنے اداریے میں آرمی چیف سے درخواست کی ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا مؤقف واضح کریں اور یہ بتائیں کہ انہوں نے کن الفاظ میں ان تبدیلیوں کا ذکر کیا تھا۔ یعنی ملک میں لبرل خیالات کا پرچار کرنے والے اور جمہوریت کے حامی اخبار کو بھی اس بات میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی کہ آرمی چیف کیوں سیاسی معاملات پر صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور  وہ  وردی میں ملبوس ہوتے ہوئے کسی بھی آئینی یا قومی معاملہ  پر کوئی رائے کیسے دے سکتا ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت نے منظور کی تھی۔ اس میں کوئی خرابی  یا کمی ہے تو اس کا جائزہ لینا، اس پر بات کرنا اور اس میں ترمیم کے لئے اقدام کرنا ملک کے سیاسی حلقوں، مبصرین  اور تجزیہ کاروں کا کام ہے۔ اس حوالے سے رائے تیار ہونے کے بعد پارلیمنٹ میں  مناسب ترمیم  کا ڈول بھی ڈالا جاسکتا ہے لیکن  یہ بات کیسے قبول کی جاسکتی ہے کہ فوج کے سربراہ  ملک کو عسکری ڈاکٹرائین دینے کی بجائے سیاسی اور آئینی مسائل سے نمٹنے کے لئے نظریہ پیش کررہے ہیں اور  ملک کی حکومت، آئین کی پاسبان سپریم کورٹ اور ملک میں جمہوری روایت کا نگہبان میڈیا  یہ سوال کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ فوج کے سربراہ کو اس قسم کی رائے  دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔

ملک میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے  سامنے آنے والے مباحث میں بھی  اس بات پر ہی زور دیا جاتا ہے کہ سیاسی حکومت یا پارٹیوں  سے کیا غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ بھی انسانی حقوق کے  تحفظ کے نام پر سوموٹو کا وافر استعمال کرکے حکومت کو ہی مورد الزام ٹھہراتی ہے اور ایسے سوال اٹھاتی ہے جن پر نہ اسے مہارت حاصل ہے اور نہ ہی آئین کسی عدالت کو یہ کردار ادا کرنے کا حق دیتا ہے۔ لیکن جب ملک کے آئین  کی روح کے خلاف فوج کا سربراہ آئینی ترمیم ، احتساب اور ملکی معاملات کے بارے میں اظہار رائے کرتا ہے تو کوئی سو موٹو دیکھنے میں نہیں آتا۔ لگتا ہے  سپریم کورٹ کی عمارت میں بیٹھے انصاف کے دیوتا کی آنکھوں پر پٹی تو بندھی ہے لیکن وہ اس پٹی کی اوٹ سے جو نظارہ کرتا ہے ، اس میں اسے سیاسی  حکومت کی بد اعمالیوں کے  سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

اس وقت ملک میں یہ بحث کرنے کی بجائے کہ سیاسی حکومت کو کیسے لگام ڈالی جائے یہ جاننے کی  ضرورت ہے کہ فوج کے بے مہار جن کو  بوتل  میں کیسے بند کیا جائے تاکہ وہ صرف اس وقت  مصروف عمل ہو جب  حکومت کے ہاتھ بوتل کا ڈھکن کھولیں ۔ واضح ہونا چاہئے کہ فوج  پر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا فرض عائد ہو تا ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا حکومت اور پارلیمنٹ کا کام ہے کہ یہ کام کیسے کیا جائے۔ حکومت چاہے تو قومی سلامتی کے امور پر فوج سے مشورہ لے سکتی ہے لیکن اسے ماننا یا مسترد کرنا عوام کے منتخب وزیر اعظم کا استحقاق ہے۔ فوج اسے حکومت یا قوم پر ٹھونسنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ جس دن فوج ملک کی منتخب حکومت کے اس حق کو تسلیم کرنے پر راضی ہوگی اور جب سپریم کورٹ ملک کی آئینی حکومت کو بااختیار بنانے کے لئے اس کا دست و بازو بنے گی، اسی دن سے عوام کو بھی یہ احساس ہونے لگے گا کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے حالات کو بدلنے کا اختیار رکھتے ہیں۔