متحدہ مجلس عمل کا احیا: جمہوریت کے لئے نیا چیلینج یا قومی مفاد کا تحفظ

پانچ مذہبی جماعتوں نے کئی برس کی علیحدگی کے بعد متحدہ مجلس عمل کے احیا پر اتفاق رائے کیا ہے اور  اپریل کے پہلے ہفتے میں ایم ایم اے کا ورکرز کنونشن منعقد کرنے اور مستقبل یعنی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لئے حتمی لائحہ عمل تیار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کراچی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں البتہ نئے ملاپ کے بعد جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اس نئے اتحاد کا صدر اور جماعت اسلامی کے  رہنما لیاقت بلوچ کو جنرل سیکریٹری بنا دیا گیا ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اپریل میں جو کنونشن منعقد ہوگا، وہ کوئی اہم فیصلہ  کرنے کی بجائے ان رہنماؤں کے اس نادر روزگار فیصلہ پر واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہوئے ان تمام فیصلوں ، امیدوں اور سیاسی امنگوں کی تائد و توثیق کرے گا جو  ان بظاہر مذہبی مگر درحقیقت سیاسی لیڈرں نے کراچی میں ہونے والے اجلاس میں اس سال کے دوران منعقد ہونے والے متوقع انتخابات سے وابستہ کی ہیں۔ ان میں سب سے اہم تو خیبر پختون خوا میں ایک بار پھر حکومت کے مزے لینے کے خواب کی تکمیل ہے ۔ اس کے علاوہ بلوچستان  میں بادشاہ گری  کا حصہ بن کر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ مذہبی بھیس میں سیاست کرنے والے ان رہنماؤں کی دلی خواہش ہوگی کہ وہ کسی طرح ایسی سیاسی حیثیت اختیار کرلیں یعنی قومی اسمبلی میں اتنی نشستیں جیت لیں کہ 2018 کے انتخابات کے بعد بننے اور ٹوٹنے والی حکومتوں میں ان کو بھی حصہ ملتا رہے یعنی وہ بھی قوم کی خدمت میں ویسا ہی کردار ادا کرسکیں جو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ادا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں بلوچستان کے نوجوان  وزیر اعلیٰ نے ایک دوسرے کی شکل سے بیزار پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو ایک مقصد کے لئے اکٹھا کرلیا تھا،  اسی طرح مستقبل میں ملک کا وزیر اعظم منتخب کرنے یا کسی منتخب وزیر اعظم کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکانے کے لئے  متحدہ مجلس عمل وہی کردار ادا کرنے کی تیاری کررہی ہو یا  اسے  اس بڑے مقصد کے لئے تیار کیا جارہا ہو۔ اس لئے  یہ جاننا بے حد اہم ہوگا کہ سیاسی اقتدار کے حریص ان  مذہبی سیاسی گروہوں   کی طرف سے متحدہ مجلس عمل کے مردہ جسم میں جان ڈالنے کے لئے یہ کوشش  ملک کے مذہبی عناصر کی مایوسی اور شکست خوردگی کے سبب کی جارہی ہے یا ایک بار پھر یہ معزز مذہبی رہنما ایک ایسے اسکرپٹ کی تکمیل کے لئے مل کر میدان میں اترنے کا اعلان کررہے  ہیں  جو اس وقت ملک  کی بادشاہ گر قوتوں کے لئے بے حد اہمیت  اختیار  کرچکا ہے۔  متحدہ مجلس عمل نے  2002 میں اس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف کی تائد اور سرپرستی میں خیبر پختون خوا میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ ایک طرف  پاکستانی فوج  کا یہ ریٹائر ہیرو  امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف اور شراکت کار تھا اور دوسری طرف اپنی نگرانی میں مذہبی گروہوں کو ملک کے اہم سرحدی صوبے میں اقتدار تفویض کرکے ملک کے مذہبی عناصر کو کنٹرول میں رکھنے کا کارڈ استعمال کرکے، امریکہ کو  دباؤ میں رکھتے ہوئے اس سے اپنی شاندار کارکردگی پر ستائش وصول کرتا رہا  تھا۔

اب حالات بدل چکے ہیں۔ اب پاک فوج دہشت گردوں کو کسی بیرونی امداد کے بغیر شکست دینے میں کامیاب ہو چکی ہے اور اس نے امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ  اب وہ ’ڈو مور‘ کا مطالبہ پورا نہیں کرے گی بلکہ اب امریکہ سمیت باقی دنیا کو پاکستان کی حفاظت کے لئے ’ڈو مور‘ کرنا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے چونکہ پاکستانی فوج کو امریکہ کے تاجر نما سخت گیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سامنا ہے ، اس لئے اسے جائز طور سے اس بات کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ ملک کی ہر منتخب حکومت، فوج کی سیاسی، اسٹریجک اور سفارتی ضرورتوں کو  سمجھتے ہوئے  قومی سلامتی کے ان مقاصد کے لئے کام کرے جن کے لئے فوج سرحدوں کے علاوہ ملک کے میدانوں اور پہاڑوں پر یکساں مستعدی سے سینہ سپر رہتی ہے۔ لیکن بدقستمی سے ملک کے سیاست دان مینڈکوں کی پنسیری کی طرح یک برتن میں سمانے اور ایک مقصد پر اکٹھا ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کو اس بات کا احساس  ہوجانا چاہئے تھا کہ قوم و ملک کو کیسے اندیشوں اور کن خطرات کا سامنا ہے اور اس مشکل میں (جو اس ملک پر گزشتہ ستر برس سے طاری ہے)   ہر سیاست دان اور گروہ کو  پوری دل جمعی  سے  فوج کاساتھ دینا چاہئے۔  لیکن حکومت میں ہونے کے  باوجود اور نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ  کی طرف سے  بار بار دو ٹوک اور صاف فیصلے سامنے آنے کے باوجود اس پارٹی کے لیڈر نواز شریف کو رہبر اعلیٰ تسلیم کرنے اور منوانے کی ضد کررہے ہیں۔ اب جبکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف  ایک دوسرے کو مسترد کرنے کی خواہش کے باوجود بعض عظیم قومی مقاصد  پر تعاون کرنے کے لئے آمادہ ہیں ، تو  نوا ز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) بدستور اس اہم قومی منصوبے کی تکمیل کے راستے کا پتھر بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ  پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ یہ واضح کرچکے ہیں کہ فوج حکومت کی ’تابع فرمان‘ ہے اور جمہوریت کی حفاظت کرے گی۔

ایسی ہی یقین دہانی سپریم کورٹ کے عوامی چیف جسٹس ثاقب نثار بھی کروا چکے ہیں۔ اس یقین دہانی کو مانتے ہوئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نواز شریف نچلا بیٹھتے اور اگر اپنے بھائی شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنا ہی دیا تھا تو خود اپنی بیمار بیوی کی تیمار داری کے لئے  اپنا نام ای سی ایل  پر آنے سے پہلے برطانیہ روانہ ہوجاتے تاکہ مسلم لیگ (ن) بھی حسب توفیق قومی مفاد کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرسکتی ۔ لیکن یہ بات چوہدری نثار علی خان کی طرف سے ببانگ دہل اور شہباز شریف کی طرف سے ہاتھ باندھ کر سمجھانے کے باوجود نواز  شریف کے دماغ میں سما نہیں پا رہی۔ اور وہ مسلسل یہ سوال کررہے ہیں کہ  ’ مجھے کیوں نکالا‘۔ اب اس کا جواب تو عدالتیں دیتی رہیں گی لیکن اس چخ چخ  میں قومی مفاد کو  توداؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔ ملک  کے سارے سیانے اور ادارے فوج کے عظیم مقصد کی تکمیل میں اس کے ہم نوالہ و ہم پیالہ بنے دکھائی دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ متحدہ قومی موومنٹ نے نہ صرف اپنے بانی الطاف حسین کو عضو معطل کی طرح  پارٹی معاملات سے نکال باہر کیا بلکہ پی آئی بی اور بہادر آباد گروپ میں تقسیم ہو کر باقی ماندہ کسر بھی پوری کردی تاکہ قومی مفاد پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے پائے۔ اس کے باوجود نواز شریف ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریں تو ملک کے وفادار مذہبی رہنماؤں کے پاس  بھی میدان عمل میں متحدہ مجلس عمل کو متحرک کرنے کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں فوج نے جمہوریت کے فروغ کے لئے کمر بستہ رہنے کا جو عزم کیا ہے ، متحدہ مجلس عمل اس میں ایک اہم سپاہی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ جماعت اسلامی ہو یا مولانا فضل الرحمان کی جمیعت علمائے اسلام، وہ اقتدار سے دور رہ کر سانس لینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود کراچی کے اجلاس میں ان جیّد  خادمین اسلام نے  یہ عظیم قربانی دینے کا عہد کیا ہے کہ ایک ماہ کے اندر وہ  اقتدار سے اپنا ہمہ قسم تعلق ختم کرکے  صرف قوم کی خدمت کے لئے خود کو وقف کردیں گے۔  یوں تو انگلی اٹھانے والوں کو کوئی  روک نہیں سکتا لیکن دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کی خیبر پختون خوا حکومت سے علیحدگی اور جمیعت علمائے اسلام کا وفاقی حکومت کو خدا حافظ کہنے کا   مشکل  فیصلہ صرف قوم کی تکلیف محسوس کرنے والے  علمائے دین سے ہی متوقع تھا۔ اب اللہ ان کا حامی و ناصر ہوگا اور چند ماہ میں ہونے والے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل انتخابی میدان میں ایسے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہو سکتی ہے جو ایک طرف ان رہنماؤں کی قربانیوں کا اجر عطا کرے گی تو دوسری طرف قومی مفاد کی امین فوج کے  بے لوث قربانی بھی رائگاں نہیں جائیں گی۔

کوئی چاہے تو اسے جمہوریت کے پیندے میں سوراخ قرار دے لیکن سچ تو یہی ہے کہ فوج نے یہ طے کرلیا ہے کہ ملک میں جمہوریت  کی حفاظت کی جائے گی۔ حالانکہ نواز شریف اداروں اور عدلیہ پر حملے کرکے چوہدری نثار کو ملول اور جمہوریت کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔