لبیک تحریک کے مقاصد ، ایجنسیوں کی کارکردگی اور عدالت کا کردار

ایک  طرف اسلام آباد  کی دہشت گردی عدالت نے لبیک تحریک کے دو رہنماؤں خادم رضوی اور پیر افضل قادری کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں تو دوسری طرف سپریم کورٹ نے گزشتہ نومبر میں فیض آباد دھرنا کے بارے میں سو موٹو نوٹس کی دوبارہ سماعت شروع کی ہے۔ آج کی سماعت میں آئی ایس آئی کی طرف سے اس دھرنا، لبیک تحریک اور اس کے لیڈروں کے بارے میں 46 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی۔ تاہم سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس رپورٹ پر عدام اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے  ایجنسی کو مزید دو ہفتے کا وقت دیا ہے تاکہ وہ اس تحریک کے مالی معاملات کی تفصیلات  سامنے لاسکے۔ سپریم کورٹ کا دو رکنی  بینچ  جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فیض عیسیٰ پر مشتمل ہے ۔ اس مقدمہ کی آئیندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو طلب کیا گیا ہے۔ تاہم ججوں نے آج کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیئے ہیں ان سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ  ایک طرف اس معاملہ میں آئی ایس آئی کی کارکردگی  پر برہم ہے  تو دوسری طرف  وہ لبیک تحریک کے رہنماؤں کے کردار اور طرز عمل کے بارے میں بھی مطمئن نہیں ہے۔  جسٹس قاضی فیض عیسیٰ نے سماعت کے دوران آئی ایس آئی کی رپورٹ پر  پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ ’ اگر ملک کی اہم ترین ایجنسی کی کارکردگی کا یہ عالم ہے تو مجھے ملک کے بارے میں خوف آتا ہے‘۔  گویا عدالت کے نزدیک آئی ایس آئی نے فیض آباد دھرنا اور لبیک تحریک کے حوالے سے  پورا ہوم ورک نہیں کیا اور  وہ  ملک و قوم کی سلامتی کو درپیش اس خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔  عدالت عظمیٰ کے ایک جج کی طرف سے ملک کی اہم ترین ایجنسی کے بارے میں یہ  ریمارکس تشویشناک صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ اس سوموٹو کے تحت وفاقی حکومت اور اداروں کی سرزنش کرنے کے علاوہ کیا مقصد حاصل کرنا  چاہتی ہے۔

نومبر 2017 میں ہونے والے فیض آباد دھرنے کے موقع پر ایک طرف اسلام آباد ہائی کورٹ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کررہی تھی اور اسی کے حکم پر وفاقی حکومت کو دھرنا کے خلاف کارروائی کرنا پڑی تھی تو دوسری طرف سپریم کورٹ بھی از خود نوٹس کے ذریعے  اس دھرنے کے حوالے سے صورت حال پر قابو پانے کے لئے سرگرم ہوئی تھی۔ اب آئی ایس آئی کی رپورٹ میں  اس تحریک کے لیڈروں کی شخصیت اور عزائم کے حوالے سے بعض ایسے انکشافات کئے گئے ہیں جن  سے یہ اندازہ کر نا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ ان لوگوں کا  اصل مقصد حرمت رسولﷺ کا تحفظ نہیں ہو سکتا بلکہ  وہ اس معاملہ کی آڑ میں سیاسی عزائم  حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ جاننا اہم ہوگا کہ مختصر سی مدت میں فرقہ واریت  اور ملک کی  اعلیٰ ترین عدالت کے ایک فیصلہ کے رد عمل میں سامنے آنے والے اس گروہ کو کون سے سرکاری ادارے مضبوط کرکے کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 

پیغمبر اسلام ﷺ سے  خادم رضوی اینڈ کمپنی کی عقیدت اور ارادت مندی کا اندزہ تو اس بات سے ہی  کیا جاسکتا ہے کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دھرنا کے دوران چوری کی بجلی استعمال کی گئی تھی۔ جس رسول کی پاکیزگی اور اسوہ حسنہ  کے قصے سناکر یہ مولوی نما شیطان لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور نفرت، انتہا پسندی اور لاقانونیت کے بیج معاشرے میں بو رہے ہیں ، وہ اپنی حیات طیبہ میں  اصول پسندی اور سب کے لئے مساوی سلوک کا پیغام دیتے رہے۔ چوری کے معاملہ میں یہ حدیث نبوی ہر مسجد میں رقت آمیز لہجے میں سنائی جاتی ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ ’ اگر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیتا‘۔ اس رسول کے عشق کا دعویٰ کرنے والے اسی رسول کی حرمت کے  تحفظ کےلئے   کئے جانے والے دھرنے میں چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں لیکن انہیں اس پر کوئی شرمندگی اور پریشانی بھی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ رویہ دراصل توہین رسول ﷺ کے ضمن میں اآنا چاہئے۔ سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں اس گروہ کو ملنے والی سیاسی اور معاشی امداد کے بارے  میں بھی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئی ایس آئی نے  خادم رضوی کو نہ صرف بد عنوان قرار دیا ہے بلکہ طاقت کے ناجائز استعمال کا شوقین بتایا ہے۔ رپورٹ میں  ملک کے اعلیٰ ترین سیاست دانوں اور عہدے داروں پر بدترین ذاتی حملے کرنے والے خادم رضوی کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ  وہ گھمنڈی اور بدتمیز ہیں۔ اس کے باوجود اندرون اور بیرون ملک سے ان کی مالی اور سیاسی امداد کرنے والے لوگ موجود ہیں۔

سپریم کورٹ نے اگرچہ اس رپورٹ کو ناقص قرار دیا ہے اور مزید معلومات جمع کرنے کے لئے آئی ایس آئی کو وقت دیا ہے لیکن جو معلومات سامنے آئی ہیں اور خادم رضوی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں جو تصویر اس رپورٹ  سے بنتی  ہے، اس کی روشنی میں سپریم کورٹ کو اپنا لائحہ عمل طے کرنے  کی ضرورت ہے تاکہ اس معاملہ پر کوئی ایسا مضبوط فیصلہ دیا جاسکے جو ملک کے لوگوں کو لبیک تحریک جیسے فتنوں سے محفوظ رکھنے  میں معاون ہو سکے۔ سب سے پہلے تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اگر خادم رضوی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف   ایسے جرائم میں مرتکب ہونے کے شواہد موجود ہیں جو ناقابل ضمانت ہیں یا اگر وہ  عوام کو اپنے پروپیگنڈا کے زور پر ساتھ ملاکر خود کو اس قدر طاقتور سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کی عدالتوں اور نظام کو خاطر میں نہیں لاتے۔۔۔ تو سپریم کورٹ کو دہشت گردی عدالت کے جج کو اکیلا چھوڑنے کی بجائے ، خود ان لوگوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنے چاہئیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ  کوئی شخص  جرم کرنے کے بعد اپنے اثر و رسوخ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی وجہ سے  قانون کی دسترس سے بچ نہیں سکتا۔ سپریم کورٹ ملک کے وزیر اعظم کو تنخواہ نہ لینے کے  معاملہ میں نااہل قرار دے کر  اس کے سیاسی کردار کو بھی معطل کرچکی ہے۔   یہ حوصلہ مندی اگر صرف  قانون اور انصاف کی بالادستی کے اصول پر دکھائی جارہی ہے تو خادم رضوی کے معاملہ میں نرمی دکھا کر اسی اصول کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

فیض آباد دھرنا میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات بھی آئی ایس آئی کی رپورٹ میں شامل ہیں۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ گروہ  کس طرح لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہوئے انہیں غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرنے پر مجبور کرتا رہا ہے۔ یہ  معاملہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ خادم رضوی انتہائی گھٹیا  گفتگو کرتے ہیں اور ان  کی زبان درازی سے اعلیٰ ترین عدالتوں کے جج بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔  ایک ایسے وقت میں جب وفاقی وزرا کو سپریم  کورٹ کے بارے میں غیر محتاط رویہ اختیار کرنے پر توہین عدالت کے مقدمات کا سامنا ہے تو ایک  مولوی کی ہر غیر قانونی حرکت کو کیوں معاف کیا جارہا ہے۔ فیض آباد دھرنا  دو ہزار سے بھی کم لوگوں پر مشتمل تھا لیکن اس نے تین ہفتے تک وفاقی حکومت کو معطل رکھا اور  اس کے لیڈرکسی قسم کی مفاہمت کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔  آئی ایس آئی کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس معاملہ میں مختلف ایجنسیاں باہمی تعاون کرنے میں ناکام رہیں اور پولیس کے اہل کار بھی لبیک تحریک کے شر پسند لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے بے یقینی کا شکار  ہوگئے تھے جس کی وجہ سے اس  دھرنا کے خلاف ایکشن لینے کی صلاحیت متاثر ہوئی تھی۔

تاہم اس حوالے جس سوال کا جواب اس رپورٹ میں نہیں دیا گیا اور جس کا جواب سپریم کورٹ کو تلاش کرنا چاہئے، وہ یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ فوج نے وفاقی حکومت کے حکم کے باوجود دھرنا سے نمٹنے کے لئے تعاون کرنے سے انکار  کیا۔  فوج  کی طرف سے  اپنی آئینی ڈیوٹی پورا کرنے سے تعرض کی یہ وجہ کافی نہیں ہو سکتی کہ آئی ایس آئی نے دھرنا کے خلاف تشددد  استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس مشورہ  اور اندازے سے قطع نظر فوج وفاقی حکومت کے حکم کی پابند ہونی چاہئے۔ دھرنا کے معاملہ میں فوج نے وفاقی وزارت داخلہ کی بات ماننے کی بجائے دھرنا والوں کے ’سرپرست‘ کا کردارا دا کیا اور فوج کے سربراہ ثالث کے طور پر یہ معاملہ حل کروانے میں ملوث ہوئے۔ اس طرح جو معاہدہ کروایا گیا اس میں ملک کی حکومت قانون  ہاتھ  میں لینے  والوں کے سامنے گھٹنے  ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔ 

سپریم کورٹ کی کارروائی  اور بینچ میں شامل ججوں کے ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے کہ  عدالت عظمی اس معاملہ میں کسی نتیجہ پر پہنچنا چاہتی ہے۔ تاہم یہ معاملہ چونکہ از خود نوٹس کے تحت آگے بڑھ رہا ہے تو مناسب ہوگا کہ سپریم کورٹ اگلی سماعت میں واضح کرے کہ  وہ دھرنا اور اس کے ذمہ دار گروہ کے بارے میں کیا قدم اٹھانا چاہتی ہے۔ سپریم کورٹ کا لائحہ عمل ملک میں مذہب کے نام پر لوگوں کو اکسانے اور گمراہ کرنے کا کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر یہ  مقصد مطلوب نہیں ہے تو لاچار وفاقی حکومت اور اس کے اٹارنی جنرل کی سرزنش کرنے سے بہتر ہوگا کہ اس معاملہ پر عدالت کا وقت اور عوام کا سرمایہ صرف کرنے سے گریز کیا جائے۔