ترک سگریٹ نوشی میں مدد گار متبادل

سگریٹ یا تمباکو نوشی کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں ستر سال قبل ہونے والی ایک سٹڈ ی میں بتایا گیا تھاتب سے اب تک دنیا میں کروڑوں لوگ تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث موت کی تاریک وادی میں جا چکے ہیں۔

لوگ سگریٹ پیتے ہیں کیونکہ وہ نکوٹین کے عادی ہو جاتے ہیں مگر ان کے مرنے کی وجہ نکو ٹین ہرگز نہیں ہے۔دراصل تمباکو کے جلنے سے جو مادّے پیدا ہوتے ہیں وہ سگریٹ نوش کی جان لیتے ہیں۔ نکوٹین کا کردار سگریٹ نوشی پر انحصار کرنے سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر سگریٹ کے عادی شخص کو سگریٹ کی بجائے کسی اور ذریعے سے نکو ٹین مہیا کر دی جائے تو  وہ شخص بہت آسانی سے سگریٹ نوشی چھوڑ دے گا۔ رائل کالج آف فزیشئنز کے ٹوبیکو ایڈوائزری گروپ(لندن) کا کہنا ہے کہ تمباکو کے استعمال سے جو خطرناک نقصان دہ اثرات بنتے ہیں وہ نکوٹین سے نہیں بنتے، ان کے بننے کی وجہ وہ دیگر اجزا ہیں جو تمباکو کے جلنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

آسٹریلیا کے معروف محقق ڈاکٹر کولن مینڈیلسون کا کہنا ہے کہ نکوٹین وہ کیمیکل ہے جس کے بارے میں اس سیارے پر سب سے زیادہ غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ تمباکو میں پایا جانے والا کیمیکل جس کے بارے میں عموماً یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ تمباکو کے استعمال سے موت کی وجہ نکو ٹین ہے، صریحاً غلط ہے۔ موت کی وجہ نکو ٹین نہیں ہوتی بلکہ وہ ہزاروں مادّے ہیں جو تمباکو کے جلنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر کولن مینڈیلسون کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈاکٹر بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر کولن مینڈیلسون نے اپنی کتاب میں ان موضوعات پر بات کی ہے:

کیا نکو ٹین انسانی جسم کے لئے نقصان دہ ہے؟

کیا نکو ٹین نو عمر دماغ کو نقصان پہنچاتی ہے؟

کیا حمل کے دوران نکو ٹین نقصان دہ ہے؟

نکو ٹین پر انحصار کتنا مضبوط ہے؟

کیا زیادہ عرصے تک نکو ٹین کا استعمال نقصان دہ ہے؟

کیا نکو ٹین کے مثبت اثرات بھی ہیں؟

نکوٹین کے حوالے سے دو واضح رائے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ سگریٹ پینے سے جو جان لیوا بیماریاں انسان کو لگتی ہیں اس کی ایک وجہ نکوٹین ہے تاہم اس خیال کی تائید میں ابھی تک کوئی تحقیق سامنے نہیں آئی۔ اس خیال کے مخالفوں کا کہنا ہے کہ ترکِ سگریٹ نوشی میں بڑی رکاوٹ گو نکوٹین ہے لیکن نکوٹین سے وہ بیماریاں ہرگز نہیں لگتیں جو سگریٹ نوش کو موت کی وادی میں دھکیلتی ہیں۔اس خیال کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر تمباکو نوش کو سلگنے والے سگریٹ کی بجائے کسی اور ذریعے سے نکوٹین میسر آ جائے تو سگریٹ نوشی چھوڑنا ممکن ہے اور یہ بھی ممکن ہو چکا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد نکوٹین کی عادت سے بھی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ نقصا ن کو کم کرنے کے طریقے منفی اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سگریٹ یا تمباکو نوشی سے چھٹکارا پانے کے لئے بہت سے ممالک میں متبادل طریقوں پر کامیابی سے عمل ہو رہا ہے۔ جاپان میں تمباکو کے نقصانات کو کم کرنے میں خاصی کامیابی ہوئی ہے۔ پچھلے چار سالوں میں آتش گیر سگریٹ کی فروخت میں 34 فیصد کمی آئی ہے جبکہ گرم تمباکو جیسے متبادل کا استعمال 30 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ چونکہ سگریٹ کا عادی بنانے میں نکوٹین کا رول اہم ہے چنانچہ ترکِ سگریٹ نوشی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے نکوٹین سے جان چھڑائی جائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے میں درج ذیل طریقے بہت معاون ہیں:

اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے نکو ٹین ریپلسمنٹ تھراپی پر عمل کیا جائے۔ اس کے لئے سپرے، انہیلر، پیچزاور چیونگم  ہمارے ہاں بھی دستیاب ہیں۔ اس کا مقصد نکو ٹین کی عادت کو کنٹرول کرنا ہے۔ جب سگریٹ کی طلب ہو تو شعوری طور پر اس لمحے طلب کو ٹالا جائے، یعنی خود سے یہ کہیں کہ دس منٹ بعد سگریٹ سلگاؤں گا۔ اس طریقے سے ایک سے دوسرا سگریٹ سلگانے کے دورانئے کو مسلسل بڑھایا جا سکتا ہے۔

loading...