صحت، تمباکو اور ریونیو

تمباکو نوشی کا انسان سے رشتہ بہت پرانا ہے۔ تمباکو اور اس سے متعلق مصنوعات کی طویل تاریخ ہے جو 6000سال قبل مسیح میں ملتی ہے۔مقامی امریکیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے تمباکو کی کاشت شروع کی اور یہ 6000سال قبل مسیح میں ہی ہوا۔

 یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اکتوبر1492میں جب کرسٹوفر کولمبس نے بر اعظم امریکہ کی سر زمین پر قدم رکھے تو اس نے قدیم مقامی باشندوں کو جو تحائف دیئے ان میں تمباکو کے خشک پتے بھی شامل تھے۔ 1492 میں ہی یورپ میں تمباکو کا پودا اور سگریٹ نوشی متعارف ہوئے۔ پندرھویں صدی میں پرتگالی ملاح اپنی تقریباً تمام تجارتی چوکیوں کے آس پاس تمباکو کی کاشت کرتے تھے جو ان کے ذاتی استعمال کے علاوہ تحفے تحائف کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔ 1531 میں یورپین نے سنٹرل امریکہ میں تمباکو کی کاشت شروع کی۔ اسی صدی کے وسط میں انہوں نے برازیل میں تجارتی مقصد کے لئے تمباکو کی کاشت کا آغاز کیا۔ جلد ہی اس کی مانگ بڑھنا شروع ہوئی چنانچہ یورپ اور امریکہ کی بندر گاہوں میں تمباکو کا کاروبار ایک منافع بخش کاروبار بن گیا۔ سولہویں صدی کے اختتام تک تمباکو کا پودا اور اس کا استعمال یورپ کے ہر ایک ملک میں رائج ہو چکا تھا۔ تمباکو پینے اور سونگنے(سگار، پائپ اور نسوار) کا استعمال عام تھا۔1776 میں امریکی انقلابیوں نے فرانس سے لئے گئے قرضوں کے لئے تمباکو کو بطور ضمانت بھی استعمال کیا۔

1847میں برطانیہ میں فلپس مورس  کے نام سے تمباکو کی پہلی کمپنی قائم ہوئی جس نے ہاتھ سے بنے ہوئے ترکی کے سگریٹ کی فروخت شروع کی۔ 1849میں، جے ای لیگیٹ اینڈ برادرز نے سینٹ لوئیس، امریکہ میں سگریٹ بنانے والی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔1881 میں جیمز بونسیک نامی امریکن نے سگریٹ بنانے والی مشین ایجاد کی جس نے سگریٹ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔جیمز بونسیک نے   ”جیمز 'بیوک' ڈیوک“ کے نام سے پہلی امریکن ٹوبیکو کمپنی اے ٹی سی کی بنیاد رکھی جو آج برٹش امریکن ٹوبیکو کے نام سے پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔ 2015 میں اس کمپنی کی آمدنی 13,104بلین ڈالر تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو کمپنیاں انسانوں کی صحت کی قیمت پر ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آج دنیا میں ایک ارب کے قریب لوگ تمباکو استعمال کرتے ہیں (سن 2000 میں بھی یہی تعداد بتائی جاتی تھی)۔ تمباکو کے استعمال  اور فروخت کرنے والوں کی وجہ سے لوگوں کی صحت پر اُٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ کھربوں ڈالر ہے۔ سگریٹ سازی اور سگریٹ نوشی سے ماحول کو پہنچنے والے نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔

سترویں صدی میں ایک چینی فلاسفر فانگ یزہی  نے سگریٹ نوشی کے خطرات کی نشاندہی کی تھی۔ اس نے کہا کہ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کا جھلسا دیتی ہے۔1610 میں سر فرانسس بیکن نے یہ محسوس کیا کہ تمباکو میں کوئی چیز ہے جو انتہائی نشہ آور ہے۔انہوں نے کہا کہ اسے چھوڑنا انتہائی مشکل کام ہے۔برطانیہ میں 1761 میں نسوار استعمال کرنے والوں کو متنبہ کیا گیا کہ اس کے استعمال سے ناک کا کینسر ہو سکتا ہے۔1795  میں جرمن ڈاکٹروں نے پائپ پینے والوں کو وارننگ دی کہ اس کے استعمال سے ہونٹوں کے کینسر کا خطرہ ہے۔1930 میں امریکی ڈاکٹروں نے سگریٹ نوشی سے پھیپھڑوں کے کینسر کے اندیشوں کا اظہار کیا اور 1964 میں جنرل سرجنوں نے سگریٹ نوشی سے مردوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کی باقاعدہ تصدیق کر دی۔

 اقوامِِ متحدہ کی اکنامک اور سوشل کونسل نے ایک واحد ادارہ صحت کے سدّ باب کیلئے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا جس نے 22 جولائی 1946 کے دن’عالمی ادارہئ صحت‘  کو اپنایا اور 7 اپریل 1948کو  ڈبلیو ایچ او   معرضِ وجود میں آیا۔  یہ یونائیٹڈ نیشنز کی خصوصی ایجنسی ہے جو بین ا لاقوامی سطح پر لوگوں کی صحت کے بارے میں تشویش و تفکر رکھتی ہے۔ عالمی ادارہئ صحت نے 21مئی 2003 کو ڈبلیو ایچ ا و۔ایف ٹی سی ٹی کو اپنایا تھا اور 27 فروری 2005 کو صحت عامہ کے پہلے عالمی معاہدے کے طور پر اسے نافذ کیا گیا تھا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول  کے معاہدے پر اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک میں سے 181 ملکوں نے دستخط کئے ہیں تاہم ابھی تک 168 رکن ملکوں نے  اس کی توثیق کی ہے۔

 عالمی ادارہ صحت اور ایف سی ٹی سی نے ’ٹوبیکو کنٹرول‘ کا سلوگن اختیار کرتے ہوئے کیا سوچا ہو گا؟ ایسا تو نہیں ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے! تمباکو کے نقصانات کا واویلا بھی کیا جائے اور ٹوبیکو انڈسٹری بھی پھلتی پھولتی رہے، آ م کے آم گھٹلیوں کے دام والا معاملہ تو نہیں۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد معرضِ وجود میں آنے والے اداروں کا بنیادی مقصد یورپ کے مفادات کا تحفظ تھا۔ یورپ کی صنعتی پیداوار کیلئے عالمی منڈیوں کو تلاشنا اور نئی منڈیوں کو بنانا تھا۔ ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بنک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں نے دنیا سے غربت ختم یا کم کی ہے یا غربت میں اضافہ ہوا ہے! اقوامِ متحدہ نے ایشیاء، افریقہ، مڈل ایسٹ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے کون سے مسائل حل کئے ہیں!! کیااقوامِ متحدہ امریکہ کو عراق پر حملہ کرنے سے روک سکا تھا!کشمیرو فلسطین اور ان جیسے دیگر مسائل کے حل میں اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل میں قراردادوں کے پاس فیل ہونے کے علاوہ آج تک ہوا کیاہے؟ اقوامِ متحدہ کا معا ملہ ’جس کا کھاؤ اُس کے گُن گاؤ‘والامعاملہ لگتا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ اور مغربی یورپ کے متعدد ممالک میں 1960 اور 1970 کی دہائی میں سگریٹ نوشی اپنے عروج پر تھی، چنانچہ ان ثبوتوں کے ساتھ کہ تمباکو نوشی بہت سی بیماریوں کا سبب ہے، ٹوبیکو کنٹرول یا ترکِ سگریٹ نوشی کے پروگرام شروع کئے گئے۔اس پالیسی میں اضافہ اور اس کے بعد تمباکو کی کھپت میں کمی کے باوجود، بیسویں صدی کے آخری سالوں میں،تمباکو کی عالمی وبا میں تیزی سے اضافہ ہوتا رہا۔چنانچہ کثیرالقومی کمپنیوں نے ان امیر ملکوں میں اپنے کاروبار کو سکڑتے دیکھتے ہوئے نئی منڈیوں کی تلاش شروع کی۔      گو پاکستان اور دنیا کے بہت سے ممالک میں، جنہوں نے ایف سی ٹی سی معاہدے پر دستخط کئے اور توثیق کی ہے سگریٹ کی تشہیر، ترغیب اور اشتیاق انگیزی پر قدغن ہے تاہم تمباکو انڈسری نے نوجوانوں کو سگریٹ کی لَت میں ڈالنے کیلئے تشہیری مہمات میں غیر حقیقی تصورات سے خوب کام لیا۔مثلاً سگریٹ نوش سمارٹ لگتا ہے، سگریٹ جوانوں کا شغل ہے، سگریٹ نوش جرأ ت مند اور بہادر ہے، ذہنی دباؤ میں سگریٹ توجہ ہٹاتا اور پُر سکون رکھتا ہے۔ اسی طرح خواتین سموکرز کے بارے میں ایسے تصورات پیدا کئے گئے جیسے سموکر خواتین زیادہ خود مختار ہوتی ہیں، جدت پسند اور فیشن ایبل خواتین ہی سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔یہ درست ہے کہ اب سگریٹ انڈسٹری کھل کھلا کر ایسی مہم نہیں چلاتی اب ان کے طور طریقے بدل گئے ہیں۔نئی نسل کو سموکنگ کی وبا سے بچانے اور سگریٹ کے استعمال کنندگان کی اس لَت سے جان چھڑانے کیلئے دنیا میں ہونے والی جدید تحقیق کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔سگریٹ میں موجود کیمیکلز مختلف قسم کے کینسر، دل اور سانس کی بیماریاں پیدا کرتے ہیں اور نکوٹین جو سگریٹ کے تمباکو کا اہم جزو ہے سگریٹ پینے والے کو سگریٹ پینے پر مائل کرتا ہے، یعنی سگریٹ کا عادی بناتا ہے۔ 

2018 میں سگریٹ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج معالجہ پر حکومت پاکستان کو 192 بلین روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑا تھا جبکہ 2018-19 میں حکومت نے 110 بلین روپے سگریٹ انڈسٹری سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کئے تھے۔ ٹوبیکو کنٹرول پر کام کرنے والے ادارے سگریٹ پر ٹیکس اور قیمت بڑھانے پر زور دیتے ہیں کہ اس سے سگریٹ پینے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور لوگ سگریٹ پینا چھوڑ دیں گے۔ مذکورہ حقائق اس منطق کو رد کرتے ہیں۔ لوگوں کی صحت کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ دنیا میں ہونے والی جدید تحقیق کو اپناتے ہوئے سموکرز کی مدد کی جائے کہ وہ ترکِ تمباکو نوشی کیلئے متبادل ذرائع اختیار کرتے ہوئے سگریٹ کی لّت سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوں۔ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر یا اپنے اپنے طور پر سگریٹ نوشی چھوڑنے والوں کے لئے کونسلنگ کلینکز کی سہولت مہیا کریں۔تمباکو کے نقصانات سے بچنے کیلئے پہلے قدم کے طور پر نکوٹین کے حصول کے متبادل ذرائع قانونی طور پر اور آسانی سے مہیا کئے جائیں۔

یہ ٹیکنالوجی کا عہد ہے صبح سے شام تک دنیا میں نئی نئی چیزیں متعارف ہو رہی ہیں اور موجود چیزوں میں مزید جدت لائی جاتی ہے۔ تمباکو کی فصل کی جگہ کسی اور فصل کے امکان پر زرعی سائنسدانوں کی توجہ مرکوز کی جانی چاہئیے تاکہ کسان اور صنعتکار کو متبادل ذرائع آمدن میسر ہوں اور حکومتوں کو ٹیکس کی مد میں ہونے والی آمدن بھی جاری رہے۔ اگر دینا واقعی انسانوں کی صحت کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو ’ٹوبیکو کنٹرول‘ کے نعرے کو انسانوں کی زندگی سے ’تمباکو کا مکمل خاتمہ‘ کے نعرے میں سنجیدگی سے بدلنا ہوگا، اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ امن کی باتیں بھی کی جائیں اور تباہ کن اسلحہ سازی پر کام بھی جاری رہے، ٹوبیکو کنٹرول کی خوش کُن آوازیں کانوں میں رس گھولتی رہیں اور سگریٹ سازی کی صنعت بھی پھلتی پھولتی رہے۔

loading...