کشمیری خود کو بھارتی نہیں سمجھتے، چینی فوج کشمیر میں داخل ہو تو عوام اس کا خیر مقدم کریں گے: فاروق عبداللہ

مقبوضہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور بھارتی لوک سبھا کے رکن فاروق عبداللہ  نے کہا ہے کہ اس وقت کشمیری عوام خود کو بھارتی نہیں سمجھتے اور اگر چینی فوج کشمیر میں داخل ہوجائے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات بھارتی یوٹیوب ٹی وی چینل دی وائر پر صحافی کرن تھاپڑ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔

فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ گرشتہ سال 5 اگست کو کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلہ سے کشمیریوں کی خود داری اور شناخت پر حملہ کیا گیا ہے۔ ایک ریاست کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دے کر مودی حکومت کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کشمیری قابل اعتبار نہیں ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ کشمیری بھی اب بھارتی حکومت اور جمہوریت پر اعتبار نہیں کرتے۔

انٹرویو میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کا بھارت کے ساتھ تعلق انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کی بنیادوں پر استوار تھا۔ گزشتہ سال کے اقدامات سے کشمیریوں کے اعتماد اور وقار کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ کشمیر میں گلی گلی میں مسلح دستے متعین ہیں۔ جس روز یہ صورت حال ختم ہوئی عوام کا ہجوم سڑکوں پر نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو جس طرح فوج کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے، وہ صورت حال اگر نئی دہلی میں بھی ہو تو یہاں بھی کوئی گھر سے باہر نہیں نکلے گا۔

فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے علاوہ بھارت میں جس طرح مسلمانوں کے ساتھ سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں مشکوک قرار دیاجارہا ہے، اس سے کشمیری یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ جناح کا مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ درست تھا۔ اور ان کے اپنے والد شیخ عبداللہ نے بھارت کے ساتھ ملنے کا فیصلہ کرکے شدید غلطی کی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس وقت ایک بھی کشمیری بھارت کے ساتھ رہنے اور خود کو بھارتی سمجھنے پر آمادہ نہیں ہے۔ مودی حکومت نے طاقت کے زور پر کشمیر کی سرزمین پر ضرور قبضہ کیا  ہے لیکن وہ کشمیری عوام کی حمایت اور بھارت کے لئے ان کی ’چاہ‘ سے محروم ہوگئے ہیں۔

کشمیری لیڈر کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد وادی کے عوام ایسے تمام کشمیری لیڈروں کو اس صورت حال کا ذمہ دار سمجھ کر مسترد کررہے تھے جنہوں نے بھارت کا ساتھ دیا اور کشمیر کو بھارت کے ساتھ رہنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ تاہم جس طرح مودی حکومت نے مجھ سمیت تمام کشمیری لیڈروں کو قید میں ڈالا اور ان کی آواز پر پابندی لگائی، ا س سے ہماری سیاسی ساکھ بحال ہوئی ہے۔ اور کشمیریوں جاننے لگے ہیں کہ ہم اصولوں پر سیاست کرتے ہیں، کسی کے غلام نہیں ہیں۔

فاروق عبداللہ نے واضح کیا کہ کہ نریندر مودی حکومت نے نئے ڈومیسائل قوانین نافذ کرکے کشمیریوں میں اس احساس کو راسخ کردیا ہے کہ ان کا مستقبل بھارت کے ساتھ وابستہ نہیں ہے۔ بلکہ اب ایک منصوبے کے تحت کشمیر میں مسلمان اکثریت کو  ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے اقدامات سے مایوسی اور غم و غصہ میں اضافہ ہؤا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی کشمیر پالیسی ناکام ہوچکی ہے اور وہ کشمیر کے سوال پر اس قدر خوفزدہ ہیں کہ انہیں لوک سبھا میں کشمیر کے مسئلہ پر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ دیگر سیاسی پارٹیاں بھی کشمیر پر بحث کروانا چاہتی ہیں لیکن اسپیکر وعدہ کرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرسکے۔

فاروق عبداللہ  نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کی 4 اگست 2019 والی حیثیت بحال کی جائے اور کشمیریوں کو یہ احساس دلوایا جائے کہ وہ ایک آزاد ملک میں آزاد شہری کے طور پر رہتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں خلیج وسیع ہوچکی ہے اور کشمیری عوام بھارت سے بہت دور جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے عزت و وقار کے لئے جد و جہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی عوام نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے لئے دو سو سال جد و جہد کی تھی۔ کشمیری بھی طویل جد و جہد کے لئے تیار ہیں۔ ہم اپنے عزت و وقار اور شناخت کا سودا نہیں کرسکتے۔

اس انٹرویو میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے کشمیریوں کی مایوسی اور ناراضی کا تفصیل سے ذکر کیا لیکن انہوں نے کشمیر کی آزادی کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے کشمیوں کی شناخت، خودداری اور آئینی حیثیت کا حوالہ دینا ہی کافی سمجھا۔  دو روز پہلے کئے گئے اس اہم اور چونکا دینے والے انٹرویو کے حوالے سے یہ بھی حیران کن ہے کہ پاکستانی میڈیا میں اس بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔ نہ ہی اس معاملہ پر کشمیر کی بھارت نواز قیادت کے موجودہ مؤقف کے حوالے سے کسی بحث کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ اس کی بجائے اقوام متحدہ سے خطاب میں وزیر اعظم نے پاکستان کی روائیتی پوزیشن دہرانے اور مودی حکومت پر الزامات عائد کرنا ہی کافی سمجھا ہے۔

loading...