اپوزیشن، حکومت اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے: وزیراعظم

  • ہفتہ 26 / ستمبر / 2020
  • 1940

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن، حکومت اور مسلح فورسز کے درمیان دراڑ ڈالنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاست دانوں کی عسکری قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کا انہیں علم ہوتا ہے۔

نجی ٹی وی چینلز کے نیوز ڈائریکٹرز سے ملاقات میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر تمام اپوزیشن اراکین اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیتے ہیں تو وہ ملک میں ضمنی انتخابات کرادیں گے۔ عمران خان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ سیاست دانوں کی ملاقاتوں کا علم تھا؟ اس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہیں ہمیشہ اس طرح کی ملاقاتوں کا معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ انہیں حالیہ مخصوص ملاقات کا بھی علم تھا۔

وزیراعظم نے اس ملاقات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جس میں وزیر ریلوے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی میں موجود تھے۔  وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ہمیشہ اس طرح کی ملاقاتوں کا علم ہوتا ہے لیکن عسکری قیادت سے خفیہ ملاقات کرنے والے لوگوں کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہیں اس ملاقات میں مدعو کیا گیا تھا یا نہیں تو عمران خان کا کہنا تھا کہ اصل میں یہ ملاقات گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو سیکیورٹی سے متعلق بریفنگ دینے کے لیے بلائی گئی تھی۔ میری اس میں شرکت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ سیکیورٹی سے متعلق تھی۔

عمران خان نے کہا کہ  دوسری بات یہ کہ میں اپوزیشن لیڈرز کے ساتھ  بیٹھنا نہیں چاہتا جو ہمیشہ حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق بلز پر حالیہ قانون سازی پر بھی ایسا ہی کیا۔ اپوزیشن، حکومت اور فوج کے درمیان 'بے مثال' ہم آہنگی دیکھ کر خوش نہیں ہے اور وہ سول عسکری قیادت کے درمیان دراڑ ڈالنا چاہتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ  فوج 100 فیصد وہی کرتی ہے جو میں ان سے کہتا ہوں۔ فوج نے مختلف معاملات جیسے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کو واپس کرنے، سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری کھولنے، افغانستان اور بھارت وغیرہ پر پالیسیز پر میرے فیصلے کا احترام کیا۔ فوج نے پاکستان تحریک انصاف کے منشور پر عمل کیا کیونکہ اس کی قیادت کرپٹ نہیں تھی۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت فوج کی مدد سے اقتدار میں آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ 'کرپٹ سیاستدانوں' کو قومی مفاہمتی آرڈیننس  کی طرح کا کوئی ریلیف نہیں دیں گے اور اگر اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفیٰ دے گی تو وہ ضمنی انتخابات کرا دیں گے۔ اس موقع پر ان کا یہ خیال بھی تھا کہ بڑی اپوزیشن جماعتیں ہمیشہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو ہمیشہ اپنے ساتھ اس لیے رکھتی ہیں کیونکہ ان کے کارکنان سڑکوں پر نہیں آئیں گے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے سیاست دانوں کو این آر او دے کر غلطی کی اور ایک دہائی کے لیے تاریخی بدعنوانی کی راہ ہموار کردی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے نشر ہونے والی حالیہ تقریر سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹی وی چینلز پر کی تقریر نشر کرنے کی اجازت دی تاکہ اپوزیشن کو 'کھیلنے کا میدان دیا' جائے۔

میں میڈیا کو تقریر نشر کرنے کی اجازت نہ دیتا تو مجھ پر اظہار رائے کی آزادی کو روکنے کا الزام لگا دیا جاتا۔ لیکن اپوزیشن پارٹی کے قائد بھارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے ان کی تقریر کو پڑوسی ملک میں اتنی زیادہ میڈیا کوریج ملی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ  نواز شریف نے ہمیشہ فوج کو بلیک میل کیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ  اداروں کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رکھ سکے۔ تاہم ہماری حکومت اور فوج کی بے مثال ہم آہنگی ہے اور یہ ہمیشہ اپوزیشن کو تکلیف دیتی ہے۔

نومبر میں گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت گلگت بلتسان میں بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنے مذموم عزائم کے لیے بہت پیسہ خرچ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، پاکستان میں شیعہ اور سنی مکتبہ فکر کے مذہبی رہنماؤں کو قتل کرکے فرقہ وارانہ فسادات بھی کرانا چاہتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد سے 2 گروہوں کو پکڑا گیا ہے جو ان دونوں مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

loading...