بھارت میں سیکولر کی بجائے ہندو انتہاپسندی کا نظام مسلط ہے: جنرل اسمبلی سے عمران خان کا خطاب

  • ہفتہ 26 / ستمبر / 2020
  • 1610

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن چاہتا ہے اور تمام تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ لیکن بھارت میں سیکولر کی بجائے ہندو انتہا پسند حکومت قائم ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سالانہ اجلاس سے ورچوئل خطاب میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ تنازعات بڑھنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ فوج کے ذریعے قبضہ کرنے اور علاقوں کے غیر قانونی انضمام سے انسانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

عمران خان نے اسلاموفوبیا کا ذکر کرتے ہوئے بھارت پر الزام عائد کیا کہ دنیا میں اگر کسی ملک میں سرکاری سطح پر اسلاموفوبیا کو فروغ دیا جا رہا ہے تو وہ بھارت ہے۔ گاندھی اور نہرو کے سیکیولر بھارت کو اب ایک ہندو ریاست میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ بھارت میں کرونا وائرس پھیلنے کا الزام بھی مسلمانوں پر لگایا گیا ہے۔

کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا  عمران خان نے کہا کہ بھارت نے 72 سال سے کشمیر پر وہاں کے عوام کی خواہشات کے خلاف قبضہ کیا ہوا ہے۔ بھارت نے 80 لاکھ کشمیروں کو محصور کرنے کے لیے 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھی ہے۔ جب کہ وہاں کے تمام سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جغرافیائی تبدیلیاں کر کے کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس بھارت کے آئین میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا جنیوا کنونشن کے تحت جرم ہے۔

انہوں نے منی لانڈرنگ کو روکنے کے حوالے سے عالمی سطح پر کوششوں پر زور دیا۔ موسمی حالات کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کاربن کے کم اخراج والے ممالک میں شامل ہے تاہم موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔ ا

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس نیویارک میں ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار سالانہ اجلاس ورچوئل یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہا ہے۔ ہر ملک سے صرف ایک سفارت کار کو اسمبلی ہال میں آنے کی اجازت ہے۔ ورچوئل اجلاس کی مدد سے کورونا وائرس سے بچاؤ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے 193 رکن ممالک کے نمائندے خطاب کریں گے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چین کے صدر شی جن پنگ سمیت کئی اہم رہنما خطاب کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر بھارتی رد عمل کا جواب دیتے ہوئے پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی ہوگا۔ نئی دہلی کے پاس فوجی قبضے کے علاوہ اس خطے پر کچھ بھی دعویٰ کرنے کے لیے نہیں ہے۔

پاکستانی نمائیندے ذوالقرنین چیمہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں بھارت کا فوجی قبضے کے علاوہ کوئی دوسرا دعوی نہیں۔ وہ ناپسندیدہ اور مظلوم لوگوں پر اپنا قبضہ مسلط کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ یہ بات جموں و کشمیر کے عوام سے پوچھ لیں وہی آپ کو بتائیں گے۔

اس سے قبل بھارت نے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے اسے 'جھوٹ، غلط فہمیوں اور جنگی جنون سے بھرا ہوا' کہا تھا۔ بھارتی مندوب نے وزیر اعظم کی تقریر نشر کیے جانے کے وقت اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا تھا۔ بھارتی بیان کی تردید میں پاکستانی نمائندے نے کہا کہ بھارتی جواب اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کی ایک اور شرمناک کوشش تھی۔

loading...