اپوزیشن سرکاری نیب بل منظور کروانے پر رضامند ہوگئی

  • جمعرات 24 / ستمبر / 2020
  • 1330

قومی اسمبلی نے 3 اہم بلز پر غور ملتوی کردیا ہے۔ اپوزیشن اراکین نے یہ اعلان کر کے حیران کردیا ہے کہ وہ حکومت کا قومی احتساب ترمیمی بل  منظور کرنے پر تیار ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین ریاض فتیانہ کی سربراہی میں ہوا جس کے ایجنڈے میں تین اہم بلز، قومی احتساب (دوسری ترمیم) بل 2019 (آرڈیننس نمبر 27 آف 2019)، وہسل بلوور پروٹیکشن اینڈ وجیلینس کمیشن، آرڈیننس نمبر 23 آف 2019 اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ریویو اینڈ ری کنسڈریشن) آرڈیننس نمبر 6 آف 2020 شامل تھے۔

اجلاس میں جب کاروباری افراد کے خلاف کیسز میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے اختیارات محدود کرنے سے متعلق بل پیش کیا جانا تھا سیکریٹری قانون نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وزارت اس اجلاس میں اس بل پر بات چیت نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شاہنواز رانجھا نے کہا کہ انہیں اس بل کی منظوری پر کوئی اعتراض نہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ اپوزیشن بل کو اسی حالت میں منظور کروانے کے لیے تیار ہے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف کے قانون ساز ملک احسان اللہ ٹوانہ نے کہا کہ اپوزیشن کے مؤقف نے حکومت کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا وہ کوئی غلطی کررہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی نے وزارت قانون کے رویے پر تنقید کی اور اصرار کیا کہ جب بل ایجنڈے پر موجود ہے تو اس پر لازمی بات چیت ہونی چاہیے۔

کمیٹی چیئرمین ریاض فتیانہ نے بتایا کہ وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا ہے۔ ان کی کچھ ذاتی مصروفیات ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں بل پر بات چیت کی جائے۔ نیب (دوسری ترمیم) بل کا مقصد نیب آرڈیننس 2019  احتساب قانون کے دائرہ کار میں وفاقی یا صوبائی ٹیکسیشن، لیویز یا امپوسٹس سے متعلق کیسز خارج کر کے کاروباری افراد کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اس حوالے سے چلنے والے مقدمات کو احتساب عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں منتقل کردیا جائے گا۔ یہ آرڈیننس نہ صرف کاروباری برادری کا خیال رکھتا ہے بلکہ بیوروکریٹرس اور سیاست دانوں کو بھی کچھ حد تک ریلیف فراہم کرتا ہے۔ اس میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور نیک نیت کے ساتھ کیے گئے کاموں، کی دوبارہ تشریح کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ جب گزشتہ برس دسمبر میں حکومت نے نیب کا کاروباری افراد، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کا اختیار محدود کرنے کا آرڈیننس پیش کیا تھا تو اسے این آر او کا باپ کہا گیا تھا۔

اپوزیشن پارٹیز نے حکومت کی جانب سے اس آرڈیننس کے نفاذ پر سخت شور شرابا کیا تھا اور حکمران جماعت پی ٹی آئی پر سب کا احتساب کے نعرے سے یو ٹرن لینے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم بعد میں نہ صرف اپوزیشن اس حوالے سے حکومت سے بات چیت کرنے پر رضامند ہوگئی بلکہ کچھ سیاستدانوں نے اس آرڈیننس کے تحت ریلیف بھی مانگا۔

loading...