بھارت اور چین نے لداخ میں مزید فوجی تعینات نہ کرنے پر اتفاق کرلیا

  • جمعرات 24 / ستمبر / 2020
  • 1150

بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے سرحدی علاقے لداخ میں مزید اہلکار نہ بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے سرحدی کشیدگی جاری ہے۔

منگل کو بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈزر کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر فریقین نے گراؤنڈ پر رابطے مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ غلط فہمیوں اور غلط فیصلوں سے بچا جا سکے۔ دونوں ملکوں کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں فوجی کمانڈروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

فوجی کمانڈرز سے قبل دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کر چکے ہیں۔ دو سفارتی شخصیات کی ملاقات حال ہی میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہوئی تھی۔  چین اور بھارت کے فوجی حکام نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے پر اتفاق پر بھی عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

فوجی کمانڈروں کی ملاقات میں ہونے والے مذاکرات کی مزید تفصیلات سرکاری طور پر دونوں ممالک نے جاری نہیں کیں۔ البتہ بھارت کے ذرائع ابلاغ فوجی حکام کی ملاقات کو اہمیت دے رہے ہیں اور اس کی بھر پور کوریج بھی کی جا رہی ہے۔ دونوں ملکوں میں لداخ کے سرد ترین پہاڑی علاقے میں مئی میں تنازع شروع ہوا جس کے بعد جون میں اس تنازع میں اُس وقت شدت آئی جب ایک جھڑپ میں 20 بھارتی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

اس جھڑپ کے بعد نئی دہلی اور بیجنگ نے لداخ کے قریب سرحدی علاقوں میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کیے تھے جب کہ ان فوجیوں کو بھاری توپ خانے، ٹینکوں اور جنگی جہازوں کی بھی مدد حاصل ہے۔  نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان سفارتی اور سیاسی حکام کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ جب کہ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان بھی مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں۔ البتہ کشیدگی میں کمی نہیں آ سکی۔

بھارت اور چین کے فوجی کمانڈرز نے پیر کو  14 گھنٹے طویل مذاکرات کیے تھے۔ منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی کمانڈرز کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور بھی جلد ہو گا۔ جب کہ مشترکہ طور پر سرحد پر امن و سکون قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

loading...