سعودی فرمانروا کا اقوام متحدہ میں خطاب: ایران کے خلاف اتحاد کا مطالبہ

  • جمعرات 24 / ستمبر / 2020
  • 930

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کو انسانی تباہی کے ہتھیار کے حصول سے روکنے کے لیے متحدہ محاذ بنایا جائے۔

شاہ سلمان نے جنرل اسمبلی سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو اپنی توسیعی سرگرمیوں، دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کرنے اور دہشت گردی کے لیے استعمال کیا۔ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'اس سے صرف افراتفری، انتہا پسندی اور نفرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا'۔

سعودی شاہ نے کہا کہ عالمی سطح پر جامع حل اور مضبوط پوزیشن لینے کی ضرورت ہے۔ ایرانی حکومت کے ساتھ ہمارے تجربے نے ہمیں سبق سکھایا ہے کہ جزوی حل اور نرمی سے دنیا کے امن و استحکام کو لاحق خطرات کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے لیے ایرانی مشن کے ترجمان علی رضا میریوسفی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکمران کے غیر ضروری اور غیر تعمیری بیان کا مقصد خطے میں مستقل تقسیم اور ہتھیاروں کی فروخت کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔

شاہ سلمان بن عبد العزیز کا کہنا تھا کہ لبنان میں فیصلہ سازی کے عمل میں حزب اللہ کی من مانی کے باعث گزشتہ ماہ بیروت میں خوف ناک دھماکا ہوا تھا۔ اس دہشت گرد تنظیم کو غیر مسلح کیا جائے۔ یاد رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ میں 4 اگست کو ہونے والے خوف ناک دھماکے میں 190 سے زائد افراد ہلاک اور 6 ہزار زخمی ہوگئے تھے۔

loading...