جس کی لاٹھی اس کی بھینس سے معاشرے تعمیر نہیں ہوتے

لاٹھی بھی کمال کی چیز ہے۔ خدا کی بے آواز ہے، بندے کی بے نواز ہے۔ مرشد کی بے فیض ہے معلم کی بے دریغ ہے ظالم کی بے شمار ہے۔ عالم کی بے ضرر ہے قانون کی بے شرر ہے۔

 موسی کا عصا ہے۔ معذور کا سہارا ہے طاقت کا اشارہ ہے، مظلوم پر بھاری ہے کمزور پر حاوی ہے۔ کہیں اسٹک ہے کہیں ڈنڈا ہے، بے اثر اور ٹھنڈا ہے۔ ڈنڈا یا لاٹھی جن معاشرے میں طاقت کا مظہر ہوں وہاں انسان نہیں انسانوں کے ریوڑ پائے جاتے ہیں۔ انسانوں کو کسی ریوڑ کی مانند ہنکانے سے کبھی انسانیت عام نہیں ہوگی۔ ڈنڈا کبھی خود ٹوٹ جاتا ہے اور اپنی طاقت کھو دیتا ہے۔ دیر پا اور پراثر البتہ سنجیدہ اور باعمل قوانین کا اجرا اور قانون کی سختی سے عملداری ہوتی ہے۔ انسانوں کو بھیڑ بکری جان کر ریوڑ کی صورت میں چارا دینے سے معاشرہ سدھر نہیں سکتا ۔ سفید انسان کو برا بھلا کہنے، اسے اس کے ماضی سے جوڑے رکھنے یا استعماری دور کے رویہ کا طعنہ دینے سے باقی تمام اقوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ دوسروں کو برا کہنے سے پہلے اپنی برائی پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ استعماری یورپ اور مغرب نے دنیا کو غلام بنائے رکھا مگر غلاموں کی تجارت تحقیق سے ثابت ہوتی ہے کہ عربوں میں پہلے سے رائج تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ لندن میں کبھی پب کے دروازوں پر ایک تختی، ’ڈاگ اینڈ بلیک آر ناٹ الاؤڈ‘ کے مضمون سے آویزاں ہوتی تھی۔ مگر اب ان ممالک کی صورت حال اور یہاں رائج قوانین بالکل مختلف ہیں۔ یہاں کا ہر شہری بلا تفریق رنگ ونسل اور جنس برابر کا شہری ہے، قانون کی نظروں میں سب برابر ہیں۔ دنیا کا کوئی معاشرہ صد فیصد درست نہیں ہوتا۔ ان معاشروں میں بھی ناانصافی اور نسل پرستی کے واقعات ہوتے ہیں۔ اس کے خلاف عام انسانوں کے رویے سے البتہ احساس ہوتا ہے کہ یہ عمومی رویہ نہیں۔ عالمی منڈی اور سیاسی ریشہ دوانیوں میں اب بھی بندر باٹ جاری ہے۔

حالیہ جنگوں سے بھی استعماری قوتوں کی شد ومد سے دنیا پر بلا شرکت غیرے قبضے کا ہی رجحان ابھرتا ہے۔ اسلحے کی تجارت بھی اسی سوچ کا شاخسانہ ہے۔ مگر ان سب کے باوجود مطلق العنان نظام والے بادشاہی نظام، جبری حکومتوں اور اپنے اپنے ملکوں میں عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات کو مہیا نہ کرتے ہوئے عوام کو بنیادی حقوق سے دور رکھنے کے تیسری دنیا کے رجحانات کے مقابل مغربی ممالک میں رائج جمہوریت اور عوام کو بنیادی حقوق کا مہیا کیا جانا باعث اطمینان اور تقلید ہے۔

 پاکستان اور اس جیسے کئی ایک ممالک میں پھیلتی لاقانونیت، مذہبی عصبیت اور کمزوروں، عورتوں اور بچوں کے خلاف عمومی رویے، نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ معاشرتی انارکی اور ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ ان ممالک کے دانشوروں کو اپنے اپنے تجزیوں میں محتاط  اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اور ایسے تجزیوں سے پرہیز کرنا چاہیے جن سے لاقانونیت کی حمایت کا تاثر ابھرتا ہو۔ ان ممالک میں مذہبی جنونیت کے جو اثرات مرتب ہورہے ہیں، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اس جنونیت کا دفاع، مغربی تہذیب کے مضمرات بیان کرنے کی آڑ میں کرنا، انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ اس سے ان معاشرے میں مزید ٹوٹ پھوٹ ہوگی۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کا صنف مخالف کے لیے عمومی رویہ اور سوچ خاصا معاندانہ ہے۔ اس رویے کی نفی کی جانی چاہیے نہ کہ اس پر استدلال اور مغربی معاشرے میں عورت کی آزادی اور طرز معاشرت کو تنقید کا نشانہ بناکر معاشرے میں مذہبی قوانین کے نفاذ کا جواز تلاش کرنا چاہیے۔ جس قدر مذہبی رجحانات اور قوانین ان معاشروں میں موجود ہیں، ان معاشروں کو اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ان میں بتدریج کمی کرنے کی ضرورت ہے۔

جمہوری اصولوں کی بنیاد پر انسانی حقوق کے قوانین ہرطرح کی مذہبی اور طرز معاشرت کی آزادی کی ضمانت بھی دیتے ہیں اور مذہبی اختلافات اور ان کی آڑ میں لاقانونیت کی بیخ کنی بھی کرسکتے ہیں۔  انسانی حقوق کے عالمی قوانین کو معاشرے میں روشناس کرنے کی ضرورت ہے۔
جس کی لاٹھی اس کی بھینس جیسے رویوں سے معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں۔

loading...