حکومت نے جماعت الدعوۃ کی 907، جیش محمد کی 57 املاک منجمد کیں: رپورٹ

  • بدھ 16 / ستمبر / 2020
  • 580

وزارت داخلہ نے بتایا ہےکہ ملک میں کالعدم تنظیموں جیش محمد کی 57 اور جماعت الدعوۃ کی 907 املاک کو منجمد کیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ سے سوال کیا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت چند مدرسوں کے اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں۔ اگر ایسا ہوا ہے تو ان مدرسوں کے نام، ان کے صوبوں کے نام، اکاؤنٹس منجمد کرنے کی وجوہات اور اس وقت ان سے بازیاب کی جانے والی رقم کی مالیت کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اقوامِ متحدہ سیکیورٹی کونسل کے 2019 کے حکم نامہ کے تحت نامزد کالعدم تنظیموں کی املاک کو منجمد کیا گیا ہے۔ جواب میں کالعدم تنظیموں کی منجمد شدہ املاک کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے 76 اسکولز، 4 کالجز ، 330 مساجد اور مدارس کو بند کیا گیا۔ اس کے علاوہ جماعت الدعوۃ کی 186 ڈسپنسریز، 15 ہسپتال، 262 ایمبولینسز اور ایک میت گاڑی کو قبضے میں لیا گیا۔

علاوہ ازیں جماعت الدعوۃ کی 10 کشتیاں، 3 ڈیزاسٹر منیجمنٹ دفاتر، 17 عمارتیں، مویشی اور اراضی کو منجمد کیا گیا۔ جماعت الدعوۃ کا ایک پلاٹ، ایک زرعی اراضی اور 2 موٹر سائیکلوں کو بھی سرکاری قبضے میں لیا گیا۔

اسی طرح جیش محمد کی منجمد کردہ 57 املاک میں 53 مدارس و مساجد، 2 ڈسپنسریز اور 2 ایمبولینسز شامل ہیں۔  صوبوں کے لحاظ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں جماعت الدعوۃ کی 611 اور جیش محمد کی 8 املاک جبکہ سندھ میں جماعت الدعوۃ کی 80 اور جیش محمد کی 3 املاک منجمد کی گئی۔

خیبر پختونخوا میں جماعت الدعوۃ کی 108 اور جیش محمد کی 29 املاک جبکہ بلوچستان میں جماعت الدعوۃ کی 30 اور جیش محمد کی ایک ملکیت کو منجمد کیا گیا۔ اسلام آباد میں جماعت الدعوۃ کی 17 اور جیش محمد کی 4، آزاد کمشیر میں جماعت الدعوۃ کی 61 اور جیش محمد کی 12 املاک کو منجمد کیا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستانی حکومت نے 14 جنوری 2002 کو جیش محمد نامی تنظیم پر پابندی عائد کی تھی۔

21 فروری 2019 کو وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے قومی سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا تھا اور باضابطہ نوٹیفکشین وزارت داخلہ کی جانب سے 5 مارچ 2019 کو جاری کیا گیا تھا۔

loading...