نیا پاکستان ابھرتا دیکھ رہا ہوں: عمران خان

  • منگل 15 / ستمبر / 2020
  • 1100

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کئی مرتبہ ایسا لگا کہ آگے نہیں جاسکتے کوئی دیوار آگئی لیکن اگر ادارے مضبوط اور خواب بڑھے ہوں تو تمام مشکلات سے مقابلہ کرنے کی قابلیت اور صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

لاہور میں راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میں نے میانوالی میں نمل یونیورسٹی بنانے کا ارادہ کیا تو سب نے کہا کہ دیہات میں پرائیوٹ یونیورسٹی نہیں صرف سرکاری یونیورسٹی بن سکتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے احساس ہوتا ہے کہ جس پاکستان کا ہم تصور کرتے ہیں وہ پاکستان یہاں نظر آرہا ہے۔  وزیر اعظم عمران خان نے 'نیا پاکستان' کے حوالے سے کہا کہ مشکل وقت میں لوگوں سے نیا پاکستان کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو لوگ اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ یقیناً جب ملک میں مشکل حالات ہیں تو لوگوں کے لیے مشکلات ہوتی ہیں ایسے میں کیمرا لے کر لوگوں سے نیا پاکستان کے بارے میں سوال کرنے سے منفی جواب ہی ملے گا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ  سابق حکمران پاکستان کو مقروض کرکے چلے گئے۔ حکومت کو قرضے دینا ہوں، ملک چلانے کے لیے قرضے لینا ہو تو ایسے حالات میں اگر اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے تو لوگوں کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ ہی دنیا کی تاریخ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے خواب چھوٹے رکھو.

وزیراعظم نے کہا کہ جب بھارت، برطانیہ اور دیگر ممالک نے کورونا وائرس کے عدم پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کیا تو مجھ پر شدید دباؤ تھا لیکن میں صرف ایک سوال کرتا تھا کہ غریب اور یومیہ اجرت والا شخص لاک ڈاؤن میں اپنے لیے کیسے وسائل جمع کرسکے گا۔  کورونا وبا میں بھارت کو غلط فیصلے پر سب سے زیادہ معاشی نقصان پہنچا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر بنا تھا جہاں غریب کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوگی۔ یہ میرا تھیسز ہے کہ ریاست مدینہ اگر فلاحی ریاست بنی تو اس کی وجہ پیسہ نہیں ہے بلکہ پہلے انہوں نے فلاحی ریاست بنائی پھر اللہ کی مدد اس میں شامل ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولمنٹ میں ہاؤسنگ کا منصوبہ ہوگا جہاں پر کچی آبادی کا طبقہ بھی اپنے لیے معقول گھر بنا سکے۔ لاہور میں زمین میں پانی کی سطح بہت کم ہوچکی ہے جبکہ راوی منصوبے میں شامل جھیل سے اس مسئلے پر قابو پائیں گے.

منصوبے کی لاگت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ یہ منصوبے کا تخمینہ تقریباً 50 کھرب روپے ہے۔ حکومت کے لیے تنہا ممکن نہیں اور اس کے لیے سرمایہ کاروں کو لے کر آئیں گے۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ 90 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کے پاس جو رقم موجود ہے وہ تقریباً ملک کے جی ڈی پی کے برابر ہے۔ یہ ان کے لیے بھی بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی رقم ملک میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کریں۔

تقریب میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز جبکہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے اراکین اور دیگر عہدیدار موجود تھے جبکہ خطاب سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سنگ بنیاد کے موقع پر پودا بھی لگایا۔

loading...