العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

  • منگل 15 / ستمبر / 2020
  • 1730

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی  درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے نواز شریف کو مفرور قرار دینے کی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ اور نمائندے کے ذریعے کیس کی پیروی کرنے سے متعلق درخواستوں پر منگل کو سماعت کی۔ سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مختصر فیصلہ سنایا جس میں قرار دیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی حاضری سے استثنی اور نمائندے کے ذریعے اپیلوں کی پیروی کرنے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

قبل ازیں جب سماعت شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت منسوخی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ "آج ہم نے نواز شریف کے وکیل خواجہ صاحب کے دلائل سننے ہیں۔ خواجہ صاحب نے آج نواز شریف کی عدم موجودگی سے متعلق درخواست سننے پر عدالت کو مطمئن کرنا ہے۔"

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا ایک عدالت سے اشتہاری ہوتے ہوئے نواز شریف کی اپیل سنی جا سکتی ہے۔ اگر نواز شریف کی عدم حاضری پر اپیل سنی جا سکتی ہے تو پھر نیب کو بھی سن لیتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ابھی تو ہم نے طے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ خواجہ حارث نے دلائل میں مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا نواز شریف کو دوسری عدالت نے بغیر سنے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے پرویز مشرف کے اثاثوں کی چھان بین کی درخواست دی۔ پرویز مشرف کے وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی گئی۔ غیر معمولی حالات میں وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ جب کوئی اشتہاری قرار دے دیا جائے تو کیا ضمانت منسوخی کی الگ ضرورت ہے؟ حیات بخش کیس کا اسٹیٹس کیا ہے؟ جس پر وکیل صفائی نے بتایا کہ حیات بخش سپریم کورٹ آف پاکستان میں 1981 کا کیس ہے۔ اس کیس میں سپریم کورٹ نے اشتہاری کے لیے طریقہ کار وضع کیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ کیا آپ کے دیے گئے عدالتی فیصلوں کے حوالے یہاں قابل قبول ہیں؟ یہاں تو ہم ایک کریمنل کیس سن رہے ہیں جس میں آپ استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ میں العزیزیہ کیس میں استثنیٰ نہیں مانگ رہا۔ مشرف کیس میں سوال یہ تھا کیا اشتہاری اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے؟ سوال تھا کہ کیا مشرف اشتہاری ہوتے ہوئے کوئی درخواست دائر کر سکتے ہیں؟ یہاں تو ہماری درخواست بھی پہلے دائر اور وکیل بھی پہلے سے موجود ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک کیس میں تو اشتہاری ہوتے ہوئے بھی مشرف کو سنا۔ مفرور کے پاس اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں پیش ہونے کا حق باقی نہیں رہتا۔ عدالت کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ سرکاری وکیل مقرر کرے۔

loading...