شنگھائی تعاون تنظیم نے پاکستان کے نئے نقشے پر بھارت کا اعتراض مسترد کردیا

  • منگل 15 / ستمبر / 2020
  • 1990

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) نے پاکستان کے نئے سیاسی نقشے پر بھارت کا اعتراض تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق قومی سلامتی مشیران کے اجلاس میں بھارت کے اجیت ڈوول کی جانب سے پاکستان کے نقشے پر اعتراض کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ تاہم ان کی بات قبول نہیں کی گئی۔

ایس سی او کے قومی سلامتی کے مشیروں کا آن لائن اجلاس منعقد ہوا تھا۔ بھارت نے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف پر اپنے پس منظر ڈسپلے کے طور پر پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ لگانے پر اعتراض کیا جسے کسترد کردیا گیا۔

دفترخارجہ کے مطابق بھارت کی نمائندگی کرنے والے اجیت ڈوول نے سیاسی نقشے کی نمائش پر پاکستان کے خلاف باضابطہ طور پر یہ اعتراض کیا تھا کہ نئے سیاسی نقشے میں پاکستان نے اپنے علاقوں کے طور پر 'خودمختار ہندوستانی خطے' دکھائے ہیں۔ اجلاس میں پاکستان نے اجیت ڈوول کے اعتراض پر جواب میں کہا کہ 'بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کو جموں وکشمیر کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے کو ہندوستان کے حصے کے طور پر دعویٰ کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے'۔

بیان کے مطابق پاکستان نےبھارتی دعوؤں کو بھی واضح طور پر مسترد کردیا اور کہا کہ نئے سیاسی نقشے میں بھارتی سرزمین کا کوئی حصہ شامل نہیں ہے۔  دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایس سی او سیکرٹریٹ کو آگاہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی غیرقانونی اور یک طرفہ کارروائیوں سے جموں و کشمیر تنازع پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی شدید خلاف ورزی ہوئی ہے۔

loading...