ذمہ داری سے گریزاں وزیر اعظم معاشرے میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ریپ اور جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویز دی ہے ۔ خبروں کے مطابق حکومت اس حوالے سے ایک مسودہ قانون  لانے کا ارادہ  بھی رکھتی ہے۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اس سے پہلے ہی قومی اسمبلی میں  ریپ کے  مجرموں کو سزائے موت دینے کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ آج ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان کا     جنسی مجرموں  کے بارے میں کہنا تھا  کہ ’میرے خیال میں  تو انہیں چوک میں لٹکانا چاہئے‘۔  اس طرح پہلی بار اپوزیشن اور  عمران خان ایک ہی  پیج پر دکھائی دیے ہیں۔

عمران خان نے البتہ اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی  ہے کہ  جنسی جرائم پر موت کی سزا دینا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا کیوں کہ یورپین یونین نے  ملک کو جو خصوصی تجارتی  حیثیت دی ہوئی ہے، ایسے فیصلے سے اس کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے متبادل کے طور پر جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کسی مجرم  کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کی سزا دینا  مناسب ہوگا کیوں کہ عمران خان کا خیال ہے کہ انہوں نے کہیں پڑھا ہے کہ بعض دوسرے ممالک میں بھی ایسی سزا دی جاتی ہے۔ گویا پاکستان کے ایماندار اور  بیباک وزیر اعظم ایک مقبول مطالبے یا نعرے کو اپنا بیانیہ بنا کر ایک طرف عوامی تائد و حمایت کے ثمرات سمیٹنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف وہ یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ اپنی تمام تر حوصلہ مندی اور  ملکی مفاد کے لئے ہر حد سے گز جانے کا دعویٰ کرنے کے باوجود، ان کی بھی کچھ  حدود ہیں  جنہیں وہ بوجوہ عبور کرنے کی ہمت و صلاحیت نہیں رکھتے۔

موت  یا جنسی صلاحیت سے محرومی کی سزا کی بحث  پاکستان جیسے معاشرے میں شاید سیاسی طور سے قابل قبول نہیں ہے،   جہاں   سارے فیصلے  جذباتی نعروں کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم کے انٹرویو  سے پہلے  آج قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کے نمائیندے موٹر وے ریپ کیس  سانحہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے  اور  یہ ثابت کرنے میں  مصروف رہے تھے کہ ان میں سے کس نے جرائم کی بیخ کنی کے لئے  زیادہ خدمات سرانجام دی تھیں۔ گویا ایک ایسا سانحہ جس سے ایک خاندان  کی زندگی تلپٹ ہوگئی ہو اور ملک بھر میں شدید غم وغصہ کا اظہار کیا جارہا ہو، ملک کے سیاست دان اس موضوع پر  ٹھوس گفتگو کرنے اور جنسی جرائم کے مسئلہ کو حل کرنے کے  کسی ورکنگ پلان پر متفق ہونے کی بجائے ، سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی دوڑ میں جتے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے  چوک پر لٹکانے کی خواہش کا اظہار کرکے  اور جنسی  صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویر دے کر  دراصل   منظر نامہ پر چھا جانے کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک بھر میں چند کمزور آوازوں کے علاوہ شاید ہی کوئی ہوگا جو وزیر اعظم کے اس طرز تکلم پر انگلی اٹھائے گا  کیوں کہ  لاہور سیالکوٹ موٹر  وے سانحہ  سے  پہنچنے والے دکھ کا زخم ابھی تازہ ہے۔

اس قسم کے انتہائی اور تشدد آمیز سیاسی نعروں کے خلاف ایک آواز وفاقی وزیر سائینس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کی بھی  ہے۔ انہوں نے ریپ پر سزائے موت دینے کے مطالبوں پر تبصرہ  کرتے ہوئے  کہا تھا کہ ’ اس سے تشدد میں مزید اضافے  ہوگا ‘ ۔  ان کا کہنا تھا کہ  وزرا اور پڑھے لکھے طبقات کی جانب سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایسی باتیں کرنا ہمارے معاشرے کی متشدد سوچ کا عکاس ہے، جو تشدد کو ہر مسئلے کا حل سمجھتی ہے۔ فواد چوہدری  نے  کہا کہ ’ایسے جرائم کے لیے اسلامی سزاؤں کا مطالبہ کرنے والوں کو  طریقہ کار کی پیچیدگیوں کا اندازہ نہیں ۔  یہ اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھ رہے ہیں‘۔   ایسا ممکن نہیں ہوتا کہ کسی کو بھی پکڑ کر لٹکا دو‘۔  اپنے  قائد اور ملک کے وزیر اعظم کے  ارشادات عالیہ سن لینے کے بعد فواد چوہدری بھی اپنے بیان سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

پاکستان کے سماجی اور قانونی ڈھانچے کے تناظر میں فواد چوہدری کا مشورہ صائب ہے لیکن ظاہر ہے کہ فواد چوہدری کے مقبولیت پسند وزیر اعظم کے لئے اس مشورہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان کے لئے  سب  سے اہم بات یہ  ہے کہ کوئی ایسی نئی بات کی جائے جس سے عوام میں حکومت کے خلاف پیدا ہونے والی مایوسی اور یکے بعد دیگرے سامنے آنے والےجنسی جرائم سے پیدا ہونے والے غم و غصہ کو    ٹالاجاسکے  بلکہ  اسے امیج بلڈنگ کے لئے برتا جائے۔  یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ چوک پر لٹکانے اور جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی بات کرکے  عمران خان نے پاکستان کی بہت بڑی اکثریت  کے دلوں کو چھو لیا ہے۔  وقتی طور سے  ہی سہی ایک تو لوگ تحریک انصاف کی ناکامیوں سے پہنچنے والی تکلیفوں کو بھول جائیں گے  ۔  اس کے علاوہ  موٹر وے سانحہ کے بعد پنجاب حکومت کی شدید ناکامی اور لاہور میں سی سی پی اوکے عہدے پر فائز کئے گئے عمرشیخ کے عاقبت نااندیشانہ بیان   سے پیدا ہونے والے بحران کو  حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔

عمران خان نے اس انٹرویو میں  سیاسی چابکدستی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پنجاب پولیس کی نااہلی اور اپنے  چہیتے عمر شیخ کی سفاکی   پر ہونے والی بحث کو ایک نیا موڑ دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنسی جرائم کا خاتمہ صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ  پوری قوم کو اس مقصد کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس سے تو بحث نہیں ہوسکتی کہ جرم کاسراغ لگانے اور مجرموں کی گرفتاری  میں عوام اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی علتوں کی وجہ سے سرزد ہونے والے جرائم  بھی، جن میں جنسی جرائم سر  فہرست ہیں،  اسی وقت ختم ہوسکتے ہیں جب عوام میں بہتر سماجی شعور پیدا ہو ۔    تاہم وزیر اعظم کیا اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ سماجی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف ریاستی  تشدد سے کیوں کر  بہتر سماجی شعور پیدا ہوگا؟

اس سے خوف و ہراس کی فضا تو ضرور پیدا ہوگی لیکن تشدد کی طرح  خوف کبھی  بھی جرائم کی بیخ کنی میں  اہم نہیں ہوتا۔  البتہ  یہ   ہتھکنڈے مقبولیت پسند  لیڈر   وں   کی سیاسی ضرورت پوری کرنے کے  ضرور کام آتے ہیں۔   یہی وجہ ہے  کہ وہ   سماج میں اپنے فدائین کا ایک حلقہ بنانے کے بعد  فسطائی  طریقے اختیار کرتے  ہیں تاکہ  اپنے طاقت ور اور  مضبوط ہونے کا تاثر قائم کرسکیں  اور سیاسی مخالفت یا آزادانہ رائے کا ظہار کرنے والے عناصر کا قلع قمع کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے ہر مقبولیت پسند لیڈر اپنی لابی کو مطمئن کرنے کے لئے تند و تیز اور روایت شکن طریقے اختیار کرتا ہے اور معاشرے  میں  خوف، سراسیمگی اور   اور دہشت کا ماحول پیدا  کیا جاتا ہے تاکہ اس کے اقتدار  کو خطرہ  لاحق نہ ہو۔ اس کی مثالیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برازیل  کے صدر بولسو نارو، فلپائن کے صدر    ڈیوٹرے اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی باتوں اور طریقوں میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ غور کیا جائے تو عمران خان بھی ان لیڈروں ہی کی شبیہ   ہیں۔

وزیر اعظم نے صرف جنسی جرائم کے خلاف ناپسندیدگی اور سختی سے انہیں کچلنے کا ارادہ ہی ظاہر نہیں کیا ہے بلکہ  اس انٹرویو میں انہوں نے فحاشی اور سماج سدھار کے حوالے سے  ہوشربا خیالات کا اظہار  بھی کیا ہے ۔  عمران خان  نے دعویٰ  کیا کہ ’دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب فحاشی بڑھتی ہے تو ایک تو جنسی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور دوسرے خاندانی نظام ٹوٹتا ہے‘۔ برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں  فحاشی پھیلنے سے طلاقوں کی شرح 70 فیصد ہوگئی۔ اسی طرح بالی وڈ کی پھیلائی ہوئی فحاشی کی وجہ سے نئی دہلی دنیا میں ’ریپ کیپیٹل‘ بن چکا ہے۔   ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کے برعکس ہمارا خاندانی نظام مضبوط ہے۔ ہم قانون و انصاف کا نظام تو بہتر کرسکتے ہیں لیکن اگر خاندانی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ جائے تو اسے تعمیر کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے  انہوں نے ترک ڈرامہ ارتغرل دکھانے پر زور دیا تھا تاکہ پتہ چلے کہ  اسلامی اور تاریخی پروگرام بھی  مقبول  ہوسکتے ہیں۔

وزیر اعظم کے فراہم کردہ حقائق کا تجزیہ تو مؤرخ اور سماجی امور کے محققین ہی کرسکتے ہیں لیکن بادی النظر میں اگر عمران خان کے اس انٹرویو کو  لاہو رکے سی سی  پی او عمرشیخ کے  بیان کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو  واضح ہوجائے گا کہ دونوں دراصل ایک  ہی بات کہہ رہے ہیں۔ عمر شیخ  ریپ  کی ذمہ داری جرم کا نشانہ بننے والی خاتون پر ڈال رہے ہیں اور وزیر اعظم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اگر عورتیں  اسلامی تہذیب پر عمل نہیں کریں   گی اور معاشرے میں فحاشی کا سبب بنیں گی تو جنسی جرائم میں اضافہ ہوگا بلکہ خاندان ٹوٹنے کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوگی۔ لاہور پولیس کے سربراہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ مظلوم خاتون چونکہ بیرون ملک سے آئی تھی اس لئے اسے یہاں کے طور طریقوں کا پتہ نہیں تھا اور وزیر اعظم بھی یہی بتا رہے ہیں کہ پاکستان کو محفوظ رکھنا ہے تو اسے بالی وڈ کے کلچر سے بچاؤ۔   یہ دونوں اپنی ذمہ داری قبول کرنے  کی بجائے  کوئی ایسا کندھا تلاش کررہے ہیں جس پر وہ اپنی ناکامی کا بوجھ ڈال سکیں۔ عمر شیخ کو جرم کا شکار ہونے والی خاتون  مل گئی اور عمران خان  بھارت کے دارالحکومت  میں ریپ کی شرح کا غیر مستند حوالہ دے کر بطور حکمران اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا چاہتے ہیں۔

اس بیان بازی میں عمران خان یہ غور کرنے کی  کوشش  نہیں کی کہ کیا وجہ ہے کہ ملک میں مروج قوانین کے تحت جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا نہیں ملتی یا پولیس اپنی جان چھڑانے کے لئے کسی  بھی بے گناہ کو سزا دلانے کا اہتمام کرلیتی ہے۔ سخت اور نئے قوانین لانے سے اس پولیس کلچر کو کیسے تبدیل کیا جائے گا؟ سوال تو یہ ہے  کہ   موٹر وے  ریپ سانحہ کا اہم  ملزم اگر پہلے بھی اسی قسم کا جرم کرچکا ہے تو کیا ملک کی پولیس اور عدالتیں اسے سزا دلوا سکیں؟ وہ ایک نیا جرم کرنے کے لئے اس لئے آزاد نہیں تھا  کہ اسے عمران خان کی تجویز کے مطابق جنسی طور سے ناکارہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی ملک کا نظام قانون مجرم کی گرفت  کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔

 

loading...