کیا جمہوریت انتخابات کا نام ہے؟

ایران آج کل عالمی خبروں میں ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے کے بعد ایران بڑی مقدار میں یورینیم بنا رہا، جس سے وہ نیوکلیئر بم بنا سکتا ہے۔ اس وجہ سے عالمی میڈیا اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایران پر گہری نظر ہے۔

 دوسری طرف پاکستان اور بھارت کی ایران میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔حال ہی میں چار دن کے وقفے سے دو بھارتی وزرا یکے بعد دیگرے تہران گئے تھے۔ پاکستان اور بھارت کی دلچسپی کی وجہ ایران کی خطے کی سیاست کے حوالے سے سوچ میں تبدیلی ہے جس کا اظہار اس نے چابہار منصوبے میں کیا ہے۔ ایران کا چین کی طرف جھکاؤ، ترکی، ایران، پاکستان، چین اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اس تبدیلی کا اظہار ہیں۔ اس وقت مختلف ممالک کی خارجہ پالیسیوں میں تبدیلی اور دنیا میں نئی صف بندیوں کے ساتھ ساتھ ملکوں کے اندرونی نظام بھی بدل رہے ہیں۔ پرانے اتحادوں کی طرح پرانے نظام بھی ٹوٹ رہے ہیں۔ یہ بات ایران پر بھی صادق آتی ہے، جہاں نظام کو لے کر قدامت پرستوں اور اصلاح پسندوں کے مابین رسہ کشی جاری ہے۔

ایران میں انقلاب کے بعد طاقت دو قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں رہی ہے ایک وہ جوپگڑی پہنتے ہیں اوردوسرے وہ جوبڑے بوٹ پہنتے ہیں۔ تاہم اب چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ طاقت سرسے پیرکی طرف جا رہی ہے یعنی پگڑی والوں کے ہاتھوں سے نکل کربوٹ والوں کی طرف منتقل ہورہی ہے ۔ اس کاایک ثبوت ایران کی نئی پارلیمنٹ ہے۔ اس پارلیمنٹ کا نیا سپیکر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کاسابق بریگیڈئیرجنرل ہے۔ پارلیمنٹ کے بورڈ میں بیٹھے ہوئے تین چوتھائی لوگ یاتو پاسداران انقلاب کے سابق رکن ہیں یا حاضر سروس ہیں۔ ایران میں کئی دانشور بار بار سپاہ پاسداران انقلاب کی طرف سے ایرانی حکومت کا براہ راست کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات پربات کرچکے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سمت میں اگلاقدم 2021 کے انتخابات میں ایسے صدرکاانتخاب ہوسکتا ہے جس کا تعلق پاسداران انقلاب سے ہو۔

امریکہ اوریورپ میں بائیں بازو کے دانشوروں کا خیال ہے کہ ایران میں پاورسٹرگل زورپکڑرہی ہے اورایران کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہاں معتدل مزاج لوگوں کی مدد کی جائے تاکہ ایران خوداندر سے اپنی اصلاح کرسکے ۔ 2015  میں صدراوباما نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کرتے وقت اسی دلیل کاسہارالیا تھا۔ ان کاخیال تھا کہ یہ ڈیل اعتدال پسندلوگوں کے ہاتھ مضبوط کرے گی۔ صدرروحانی کااس وقت بیانیہ یہ تھا کہ ایران میں معتدل مزاج لوگ تاریک قوتوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔ وہ ملک کی روح اورمستقبل بچانے کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ ڈیل سے ان لوگوں کے ہاتھ میں ایک کارڈ آجاتا ہے۔

اگراعتدال پسند یہ کارڈ استعمال کرنے میں کامیاب ہوگئے تواس کاپوری انسانیت کوفائدہ ہوگا مگربدقسمتی سے ایساہوانہیں، بلکہ نتائج اس کے برعکس نکلے ۔ اس سال موسم سرماکے انتخابات میں قدامت پسندوں نے تہران سویپ کیا، جبکہ شہرکی تیرہ ملین کی آبادی سے معتدل مزاج ایک لاکھ ووٹ بھی نہ لے سکے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اصلاح پسند اوراعتدال پسندوں نے عوام کی حمایت کھودی۔ تجزیہ کاراس کا ذمہ دارصدرٹرمپ کو قراردے رہے ہیں۔ ان کی طرف سے معاہدہ ختم کرکے دوبارہ پابندیوں نے سخت گیر عناصرکوایران کی ڈرائیونگ سیٹ پربٹھادیا۔

ایران کی سیاسی اشرافیہ کے اندراصلاح پسندلوگ دوعشروں سے منتخب اداروں کومتوازی ریاست کے مقابلے میں مستحکم کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔بڑی مدت بعد وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے پرتیارہوئے ہیں۔ وہ اب متوازی ریاست کے رہنماؤں کی طاقت پرقبضے کے خدشے میں مبتلا ہیں۔ کچھ دانشوروں کوخدشہ ہے کہ طاقت کی کشمکش میں جلد ہی عسکری قوتوں کاپلہ بھاری ہوجائے گا۔ ایرانی عوام گروہی کشمکش اورمرکب بحران سے تنگ ہیں۔ امریکی پابندیوں سے ملک کی معیشت سے لہونچوڑاجاچکا ہے ۔ عوام کی قوت خرید،  بہت کم ہوچکی ہے ۔وہ اس بات پرناراض ہیں کہ ایران کوعالمی سٹیج پراپنے کردارسے محروم کردیا گیا، جوان کاحق تھا اوراس سے ایک نئی قسم کی قوم پرستی جنم لے رہی ہے ۔ صدرروحانی اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں خواہ یہ خارجی محاذپرہوں یا داخلی۔ دوسری طرف ان اعتدال پسندوں کے مقابلے میں عسکری حلقوں کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں اوردن بدن مضبوط ترہوتے جا رہے ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب1979سے ہی قومی اورعالمی توجہ کا مرکزرہی ہے، جب سیاسی اصلاح پسندوں نے اقتداراپنے ہاتھ میں لیاتھا۔ نیوزمیڈیا کا ایک بڑاگروپ کھلے عام پاسدارانِ انقلاب کوہدف تنقید بناتا رہا ہے۔ اس کے جواب میں پاسداران نے اپنامیڈیا کھڑاکیا، جوان کے بیانیے کی تشہیر اوران کے محاسن کی تصویرپیش کرتا ہے۔ معاشی میدان میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاسداران نے اپنی ایک زیرزمین معیشت بھی بنالی، ملکی معیشت سے بھی انہوں نے بڑاحصہ وصول کیا۔

ملک کی بڑی بڑی کمپنیاں ان کے اثرو رسوخ کی وجہ سے ان کواعلیٰ ترین عہدے پیش کرتی رہیں اور ملک کے تعمیراتی منصوبوں میں یہ سب سے بڑے ٹھیکیداربن کرابھرے ۔ انتظامی معاملات میں بھی ان کی مداخلت کھلے عام ہوتی رہی۔انہوں نے بارہاحکومت کی پالیسیوں اورمنصوبوں کوپٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی۔ پاسبان کا میڈیا سیاست دانوں اور نوکر شاہی کے خلاف سخت پروپیگنڈے میں مصروف رہا۔ اس میڈیا میں صدر روحانی کی انتظامیہ کوکرپٹ اورنااہل بنا کرپیش کیا جاتارہا۔ان پرمغرب پرستی کاا لزام بھی لگایاجاتارہا۔ اب ان کی تنقید کا نشانہ تمام سیاسی قوتیں ہیں۔

گزشتہ عشرے کے دوران یہ لوگ ایسی فلمیں، ڈاکومنٹریز اورٹی وی ڈرامے بناتے رہے جواصلاح پسندی اوراعتدال پسندی کے خلاف ان کا بیانیہ پیش کررہے ہیں  اوران کا ہدف زیادہ ترنوجوان لوگ رہے ۔ وہ نوجوانوں کویہ بتاتے رہے کہ انہوں نے انقلاب لانے اور اسے بچانے کیلئے کام کیا، جبکہ سیاستدان ایک دوسرے سے دست وگریباں رہے یاپھرکریشن میں مصروف رہے اورذاتی وگروہی مفادات پرقومی مفادات کو قربان کرتے رہے۔ اپنے میڈیا میں یہ لوگ اپنے آپ کویہ کریڈٹ بھی دے رہے ہیں کہ یہ وہی تھے جنہوں نے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اورایران کوان کے اثرسے پاک رکھا۔

پاسبان کی پالیسی سے لگتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں خوف بھی پھیلاناچاہتے ہیں اور عوام سے محبت پانے کے خواستگاربھی ہیں۔ کورونا بحران کے دوران انہوں نے تین اعشاریہ پانچ ملین گھرانوں کی مدد کا دعویٰ کیا ۔ انسانی ہمدردی کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ اس وقت ان کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ ان کے مخالفین کمزورہیں۔ روحانی نے 2013  اور2017  کے انتخابات اس وعدے پرجیتے تھے کہ وہ ایرانیوں کی امیدیں بحال کریں گے ۔ اب وہ جب اپنی مدت ختم کرنے والے ہیں توملک میں گہری مایوسی ہے ۔

ایران کے آئندہ انتخابات میں سخت گیروں کی فتح کے امکانات واضح ہیں لیکن اس پرایران کی سیاست ختم نہیں ہوتی۔ ایرانی سیاسی اشرافیہ کے درمیان تصادم جاری رہے گا۔ پاسداران انقلاب ہوسکتا ہے براہ راست اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیں لیکن شاید وہ اس کے نتائج سے خوش نہ ہوں۔ ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد مسلسل انتخابات ہو رہے ہیں لیکن ایرانی سماج جمہوریت اوراس کی برکات سے اتنا ہی دور ہے ، جتنا نصف صدی پہلے تھا۔ اس تجربے میں سبق یہ ہے کہ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں، یہ ایک طرزِزندگی ہے جس کو فروغ دینے کیلئے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کااحترام بنیادی شرط ہے ۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

loading...