اگلے جنم بھی موہے بٹیا ہی کیجو!

خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کسی ایسے معاشرے میں معمول کی بات ہیں جہاں معاشرتی انصاف مفقود ہو۔ کہتے ہیں، طاقت گنہگار بناتی ہے اور بے انتہا طاقت گنہگار ترین بناتی ہے۔

ہمارے جیسے دیسی ساختہ معاشرے، جو قبیلوں سے بادشاہتوں، بادشاہتوں سے نو آبادیاتی ادوار اور نو آبادیاتی دور سے نکل کے سیدھے خریدار معاشرے میں تبدیل ہوئے، وہاں فرد کی تربیت ادھوری ہی نہیں بلکہ بے حد ناقص رہ گئی۔ جب میں فرد کی بات کر رہی ہوں تو میری مراد مرد ہیں کیونکہ عورت کو تو آپ نے فرد ماننے سے ہر لمحے پہ انکار کیا ہے اور اپنے فرد ہونے کا ثبوت دینے میں بھی مکمل طور پہ ناکام ہو چکے ہیں۔

سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والا سانحہ نہ تو پہلا واقعہ ہے اور نہ آخری۔ اس واقعے پر لاہور کے سی سی پی او صاحب نے جس ظالمانہ انداز میں تبصرہ کیا اس پر پورا ملک سراپا احتجاج ہے مگر اس واقعے سے پہلے تک وہ اس طرح کی بات کرنا معمول کا حصہ سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان سے بھی زیادہ بری طرح سے عورتوں کے بارے میں بات کرنے والے اس ملک میں کندھوں پہ اٹھائے جاتے ہیں اور عورتوں کو دیکھ کر بانچھوں سے بہتی رال پونچھنے والے ایسے حادثات کا شکار ہونے والی عورتوں کے سر پر ہاتھ پھیرنے آتے ہیں۔

اس واقعے پر بہت سے مرد حضرات نے ہمدردی اور دکھ کا اظہار کیا، بہت سے آج بھی ڈھٹائی اور بے حیائی کی سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں۔ کھڑے رہیں، آخر کب تک؟ ایک روز تھک جائیں گے۔ سچ یہ ہے کہ ڈکیتی کے اس واقعے نے پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کی قلعی کھول دی ہے اور ایک دفعہ پھر پاکستانی مردوں کا دماغ کھول کر سامنے رکھ دیا، جس میں حسب توقع ’بہت کام رفو کا نکلا۔‘

عورت اکیلی ہو، جوان ہو، بوڑھی ہو، کمسن ہو، خوب صورت ہو یا بد صورت، وقت دیکھ کے گھر سے نکلی ہو یا بے وقت، بلکہ گھر سے بھی نہ نکلی ہو تب بھی ہر طرح کے جسمانی اور ذہنی تشدد کی تلوار اس کے سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا صرف اس لیے ہے کہ آپ نے عورتوں کے لیے کچھ ’لچھمن ریکھائیں‘ کھینچ دی ہیں جن کے باہر آپ خود ہی راون کا روپ دھارے کھڑے ہیں۔

زمانہ بدل چکا ہے۔ آپ کی لچھمن ریکھا کو زمانے کی ہوائیں اڑا کر لے گئی ہیں۔ یہ ایک حادثہ تھا جس کی مکمل ذمہ داری ریاست اور امن قائم کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔  جس طرح سی سی پی او صاحب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اکیلی خاتون جی ٹی روڈ کی بجائے موٹروے سے کیوں رات گئے جا رہی تھیں اسی طرح مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ خیر سے ہمارے ملک کے ہر طرح کے وردی و سادہ لباس والے ہمارے معاشرے اور ملک کو اکیلی عورتوں اور بچوں کے لیے محفوظ کیوں نہیں بنا پائے؟

مزید حیرت مجھے ان لوگوں پر ہے جو اسے عصمت دری اور آبرو ریزی لکھ رہے ہیں۔ عصمت دری آپ کے معاشرے کی ہوئی اور آبرو ریزی آپ کی ریاست اور محکمے کی ہوئی ہے۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے آپ سب کے لیے کہ آپ اپنے عالی شان تھانوں میں غفلت کی نیند سو رہے تھے اور مجرم سڑک پہ دندناتے پھر رہے تھے۔

فرانس کی امن و امان کی صورت حال کے بارے میں حسرت سے تبصرے کرنے کی بجائے اپنے اختیار کو استعمال کیجیے اور ’پھوپھا رپھڑی‘ بننے کی بجائے اپنا کام کیجیے۔ اس واقعے نے صرف نااہلوں کی نااہلی کو واضح کیا ہے۔ عورتوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو اپنی زندگی گزارنے کے لیے جہاں جس وقت جانا ہے، پورے اعتماد سے جائیے۔

سڑکوں، بازاروں کو محفوظ بنانا جن کا فرض ہے، وہی بنائیں گے اور ہمارے ٹیکس کے پیسے سے بنے تھانوں میں سستانے کی اور سرکاری گاڑیوں میں سیر سپاٹے کرنے کی بجائے اپنی ڈیوٹی دیں گے۔ ان کو یہ کرنا ہی ہو گا کیونکہ یہ ہی ان کا فرض ہے۔  ڈکیتی کی اس واردات نے پولیس کے محکمے کو اچھی طرح سکھا دیا ہے کہ اس کا کام کیا ہے اور اپنی حد کے اندر رہتے ہوئے اپنا کام کیسے کرنا چاہیے۔ ہر خاتون کے لیے ناصح اور ناقد بننے کا انجام سب کے سامنے ہے۔ عبرت پکڑیے اور زبان کو لگام دیجئے۔

ایک اور بات یہ کہ اس واقعے کے بعد سے اکثر خواتین رنجیدگی کے عالم میں لکھ رہی ہیں، ’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو۔‘ کیوں نہ کیجو؟ اگر بیٹے ایسے ہوتے ہیں جیسے ہمارے چاروں طرف پھر رہے ہیں تو توبہ کیجئے۔ کانوں کو ہاتھ لگائیے اور خدا سے رو کے دعا کیجیے کہ اگلے جنم بھی موہے بٹیا ہی کیجو!

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...