غُنڈوں کا یرغمال معاشرہ

ووٹ کی عِزّت لُوٹنے والے بڑے با کمال لوگ ہوتے ہیں جو لاجواب سیاسی اور مافیا آسا پرواز کرتے ہیں ۔ حکومت پاکستان پر کرتے ہیں مگر اُن کے عشرت کدے اور محل سرائیں لندن ، آسٹریلیا ، دوبئی ، امریکہ اور کینیڈا میں ہوتی ہیں ۔ خود تو سینکڑوں کنالوں کے بنگلوں میں رہتے ہیں اور ووٹ کو جھونپڑی ، فٹ پاتھ اور کھلے آسمان تلے رکھتے ہیں ۔

ووٹ کی بے حُرمتی پاکستانی جمہوریت کا طرہ امتیاز رہی ہے ، اب بھی ہے اور جانے کب تک رہے گی ۔ ہر ووٹ ایک فرد ہے ۔پاکستانی شہری ہے اور فرد کو اقبال نے قوم کی تقدیر کہا ہے بلکہ قرار دیا ہے ۔ فرماتے ہیں :

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

لیکن بدقسمتی سے یہ ستارے سیاسی ظُلمت کی زد میں ہیں  کیونکہ اس مُلک پر حکومت کرنے والوں کے پاس حکومت چلانے کے دو ہی طریقے ہیں : طاقت اور دولت ۔ دولت تو وہ عوامی بیت المال سے مختلف منصوبوں کے نام پر چُرا اور ہتھیا لیتے ہیں ، اور پھر اُس پرائے مال سے  اپنی نجی جاگیریں اور ریاست کے اندر اپنی ذاتی ریاستیں بنا لیتے ہیں ۔  اگرچہ  یہ عوام کی صریح نمک حرامی ہے مگر اُنہیں کیا ۔ اُنہیں مُفت کے  آم کھانے سے غرض ہے عوام کے پیڑ گننے سے نہیں ۔ جہاں تک طاقت کا تعلق ہے اُس کے لیے وہ نوکر شاہی اور پولیس پر تکیہ کرتے ہیں مگر جب یہ دونوں نا اہل ادارے اُن کا ٹارگٹ پورا کرتے نظر نہیں آتے تو معاشرے کے جن کو قابو کرنے کے لیے  بد معاشوں کی خدمات مستعار لی جاتی ہیں ۔

 کرائے کے یہ غُنڈے عام آدمی کو جو ووٹر ہوتا ہے ڈرانے دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کا وظیفہ انجام دیتے ہیں  تاکہ عوام اُن کی مٹھی میں رہیں اور اُن کی آنکھوں کے اشاروں پر سیاسی قیادت کی غلامی کریں ۔ مجھے پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کی صورتِ حال کا مکمل ادراک نہیں کیونکہ اُس وقت میں نے سکول جانا شروع کیا تھا اور لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا سیکھ رہا تھا مگر جب 1958 میں ایوب خان نے پہلوٹی کا مارشل لا لگایا تو میں آٹھویں جماعت میں تھا ، اخبار پڑھ سکتا تھا اور بالغوں کی باتیں اور ریڈیو سُن کر اپنی ووکیبلری بڑھا رہا تھا اور سیاسی حربوں کو براہِ راست پڑھ رہا تھا ۔

جنرل ایوب نے ، جنہوں نے بعد میں خود کو ترقی دے کر فیلد مارشل بنا لیا تھا ، صوبے توڑ کر ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا ۔ ایک تھی وحدتِ مشرقی پاکستان اور دوسری وحدتِ مغربی پاکستان ، اور اِن وحدتوں کو ون یونٹ کا نام دیا گیا اور بنیادی جمہوریتوں کا نطام رائج کیا گیا ۔ ایوب خان کے مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان آف کالا باغ تھے ، جنہوں نے ایوب شاہی کے تحفظ کے لیے غُنڈے پال رکھے تھے جنہوں نے فلمی اداکارہ نیلو کو  دربارِ شہی میں رقص سے انکار پر اغوا کروا کے دربار میں حاضر کروالیا تھا اور بعد کی باتیں سبھی کو یاد ہوں گی ۔لاہور میں اچھا شُکر والا اُن کا کامریڈ ان بدمعاشی تھا  ۔ لاہور ہی میں ایک وارث نام کا بدمعاش بھی تھا جس نے حبیب جالب کے خلاف مقدمہ درج کروایا کہ جالب اُسے قتل کرنا چاہتا ہے ۔

 کراچی کی اپنی تاریخ ہے جہاں بڑی اعلیٰ اور خاص برانڈ کے کن ٹُٹے الطاف بھائی کا پانی بھرتے تھے ۔  کراچی کی بھتہ خوری کی الگ کہانی ہےجس میں فیکٹریوں کو آگ لگا کر مزدوروں کو زندہ جلادینے والوں کے نام بھی آتے ہیں۔ ان میں بین الاقوامی قسم کے بدمعاش بھی تھے جو لندن جا کر بھی قتل کی وارداتیں کرتے تھے تاکہ بھائی کی حکومت قائم رہے ، ایم کیو ایم کا سکہ چلتا رہے اور مہاجروں کا رعب و دبدبہ قائم رہے ۔

بدمعاشی کی کہانی کہتی ہے کہ ہر علاقے کا اپنا ایک بدمعاش ہوتا جسے غیر سرکاری ایس ایچ او کہا جا سکتا ہے ۔ یہ لوگ پولیس کے ساتھ مل کر سیاست دانوں کی سیاسی قوت بنتے ہیں  ۔ شریف برادران کے زمانے میں گُلو بٹ کی بہادری اور جرّأت مندی کے کارنامے دیکھنے کا موقع سب کو ملا ہے ۔ یہ بدمعاشیہ دراصل پولیس ہی ہوتی ہے ، جسے پولیس کا ظِلّی ادارہ بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ علاقے کے تھانے کا ایس ایچ او اور علاقے کا بد معاش ایک ہی سکے کے دو رُخ ہوتے ہیں جو  اپنے سیاسی آقاؤں کے لیے ووٹ کو  بجبر و اکراہ حاصل کرنے کی مشین کے کل پُرزے ہوتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دم سے پاکستان میں جمہوریت کا بول بالا ہے ۔

اس بد معاشی نظام میں وزیروں اور مشیروں سے لے کے اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین تک شامل ہوتے ہیں ۔ اس جمہوری نطام میں سینیٹ کی نشستیں تو باقاعدہ کروڑوں میں بکتی ہیں اور اس سرمایہ کاری پر منافع عوام کے خون سے   ووٹ کی عزت لوٹ کر وصول کیا جاتا ہے ۔ پولیس اور بد معاشیہ کے اس نطام میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ۔ یہ نظام ایک طرح سے عوام کو اشاروں کنایوں میں بتا دیتا ہے کہ : شہری اپنی جان و مال کی حفاظت خود کریں ۔ کسی حادثے ، قتل ، اغوا یا ڈکیتی کی صورت میں ریاست یا پولیس ذمہ دار نہیں ہوگی ۔الا ماشا اللہ

اور یہی کچھ چند روز پہلے لاہور میں سرِ راہے ہونے والے ریپ کے کیس میں ہوا ہے کہ پولیس کے ایک نامی گرامی افسر عمر شیخ کی طرف سے کہا گیا کہ عورت کو رات کے وقت گاڑی میں اکیلے سفر نہیں کرنا چاہیے تھا ، پٹرول چیک کر لینا چاہیے تھا ۔ اُس بے رحم ، سفاک اور درندہ صفت پولیس افسر کے لہجے میں اس واردات میں ریپ کا شکار ہونے والی خاتون سے ہمدردی کے بجائے اس کے لیے سرزنش تھی ۔ حیرت ہے کہ ایسے جانور پولیس میں اتنے بڑے اور اہم عہدوں پر کیسے متمکن ہو جاتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جس کا وزیر اعظم دن میں بہتر بار مدینے کی ریاست کی گرادن کرتا ہے ۔ یہ کیسے مسلمان ہیں جو ایک اسلامی ریاست کے سربراہ ہو کر قرآن کے متن سے بھی پوری طرح واقف نہیں ۔ ہما شما کی تو بات ہی کیا یہ جنابِ وزیر اعظم ہیں جن کو قرآن ایاک نعبد و ایاک نستعین تک آتا ہے ۔اس سے آگے جبریل جانے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جانیں  ۔ہر چند کہ  قرآن میں لکھا ہے کہ لما تقولون ما لا تفعلون کہ جس بات پر تم عمل پیرا نہیں ہو اسے زبان پر مت لاؤ مگر یہاں مدینے کی ریاست کی سیاسی قوالی ختم ہی نہیں ہوتی اورحکومت کے ایوانوں میں صبح و مسا ایک ہی ریکارڈ بج رہا ہے کہ :

میرے بلا لو مدینے مجھے

مگر وزیرِ اعظم صاحب کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ جس کی جیب میں دو وقت کی روٹی کے پیسے نہیں وہ مدینے کہاں اور کیسے جائے گا ۔ مدینہ تو ایک استعارہ ہے جس میں عمل کو خیال اور نعرے پر فوقیت حاصل ہے ۔ جہاں نوکریوں اور مکانوں کا وعدہ نہیں ، نوکریاں اور مکان بالفعل موجود ہوتے ہیں مگر ہماری بد قسمتی کہ ہم من حیث القوم  بہتر برس سے نعروں اور وعدوں پر پل رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی پچاس سال میں لوگوں سے کیا ہوا روٹی کپڑے اور مکان کا وعدہ پورا نہیں کرسکی مگر اپنی پچھلی کارکردگی بھول کر وہ نئے سرے سے روٹی کپڑے اور مکان کے پراجیکٹ کا احیا کرنے کے لیے پرتول رہی ہے۔ مگر تجربہ کہتا ہے کہ آزموداں را آزمودن کارِ خرد منداں نیست ۔۔ آزمائے ہوئوؤں کو آزما عقل مندوں کا کام نہیں مگر عوام بچارے عقل مند کہاں،  وہ تو غنڈہ شاہی میں اپنے مقدر کو رو رہے ہیں اور نہ جانے کب تک روتے رہیں گے ۔

loading...