موٹر وے ریپ کیس: دو لفظ ایک بے گناہ بیٹی کے بارے میں

پنجاب حکومت کے علاوہ وفاقی حکومت کے ترجمانوں نے گزشتہ تین روز کے دوران موٹر وے  ریپ کیس میں جس مستعدی اور چابکدستی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی روشنی میں  یقین کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہؤا۔  نیا پاکستان بنانے کا اعلان کرنے والی  حکومت دراصل پولیس کے پرانے ہتھکنڈے اور سیاسی رہنماؤں کے پرانے طریقے اختیار کرکے میڈیا میں ایک ایسی تصویر بنانا  چاہتی ہے کہ  جس سے سب کچھ بدلا ہؤا دکھائی دے۔

  اس تبدیل شدہ پاکستان میں البتہ دو ملزموں کی تلاش میں ناکام رہنے والی پولیس نے ایک خبر کے مطابق   ملزموں میں سے ایک کی بیٹی کو  حراست میں لے لیا ہے۔ کوئی ہے جو اس بیٹی کے حق کے لئے بھی دو لفظ کہہ سکے ۔ پوچھا جاسکے کہ   اگر باپ ریپ کے ایک افسوسناک واقع میں مطلوب ہے تو اس کی بیٹی نے کیا قصور کیا ہے کہ اسے پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ  عثمان بزدار کی سربراہی میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے   ملزموں کا سراغ لگانے والی پوری پنجاب حکومت میں سے کوئی  یہ بتانے کے لئے تیا رنہیں ہے کہ  اس ریپ کیس میں ان کے نامزد ملزموں پر پہلے بھی گینگ ریپ اور ڈکیتی کے متعدد مقدمے قائم ہیں  تو ان مقدمات میں انہیں کیا سزا دلوائی گئی تھی؟ اور اگر وہ ماضی میں   جبری آبروریزی کے  واقعات میں ملوث ہونے  کے باوجود آزاد تھے تو اب کیسے یقین کرلیا جائے کہ میڈیا کا دباؤ اور سیاسی شور وغل  ختم ہونے کے بعد یہ دونوں شخص پھر کسی  نئے جرم کے لئے کھلے نہیں  چھوڑ دیے جائیں گے؟

امید کی جانی چاہئے کہ ایک  ملزم کی بیٹی کو باپ کے گناہ میں  گرفتار کرنے کی خبر بے بنیاد  ہو لیکن یہ خبر دیگر میڈیا کے علاوہ وائس آف امریکہ میں جس پریس کانفرنس کے حوالے سے سے رپورٹ کی گئی ہے، اس کی سربراہی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کررہے تھے اور پولیس کی کارکردگی اور سرگرمی کے بارے میں انسپکٹرجنرل پولیس  انعام غنی  نے تفصیلات فراہم کی تھیں۔  باپ کے جرم میں پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی یہ پہلی بیٹی نہیں ہوگی کیوں کہ یہ اس ملک کی پولیس کے آزمودہ ہتھکنڈے ہیں جہاں روایت کے نام پر اکثر باپوں اور بھائیوں کے جرائم کی سزا بیٹیوں کو دی جاتی ہے۔ کسی ملزم کی تلاش میں اہل خاندان کو پکڑ لینا اور ہراساں کرنا پاکستان کے سب صوبوں کی پولیس کا روز کا معمول ہے۔    اس لئے یہ غیر معمولی واقعہ نہیں ہوگا کہ  پنجاب پولیس نے موٹر وے ریپ کیس کو ملنے والی شہرت  کی وجہ  سے مفرور شخص  پر گرفتاری    دینے  کا دباؤ ڈالنے کے لئے  اس کی بیٹی کو پکڑ کر تھانے میں بٹھا لیا ہو۔

جدید ترین طریقے اختیار کرنے  کے بارے میں آئی جی پنجاب کی یقین دہانی اور تفصیلی  بریفنگ کے باوجود پاکستانی پولیس اپنے آزمودہ ہتھکنڈے    ترک نہیں کرسکتی۔ اس کی ایک مثال ایک   بیٹی کو انصاف دلانے کے لئے دوسری بیٹی کو پکڑ کر تھانے پہنچانا ہے لیکن   اس سے بھی بھیانک مثال لاہور کے  سی سی  پی او     عمر شیخ کا وہ  افسوسناک اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے جو ریپ کا یہ سانحہ رپورٹ ہونے کے بعد انہوں نے دیا تھا۔ عمر شیخ نے انتہائی  ڈھٹائی سے  اس سانحہ کی ذمہ  داری مظلوم خاتون پر ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ ’ یہ بی بی آدھی رات کو سسرال جانے کے لئے گھر سے نکل پڑی۔ اسے جی ٹی روڈ سے جانا چاہئے تھا۔ یا کم از کم  یہی دیکھ لیتی کہ گاڑی میں پیٹرول ہے کہ نہیں‘۔ عمرشیخ کے اس بیان میں صرف یہ الفاظ  ہی چشم کشا نہیں ہیں بلکہ جس لب و لہجہ اور  کرختگی کے ساتھ انہوں نے  انٹرویو میں یہ الفاظ ادا کئے ہیں ، اس سے ان کی شخصیت، پولیس کی سنگدلی اور نظام کی سفاکی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ۔

اس سے بھی افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسا قابل مذمت بیان دینے پر حکومت کی طرف سے      سی سی پی او لاہور  کی  سرزنش کرنے اور انہیں اس معاملہ سے الگ کرنے کا حکم دینے کی بجائے ، وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس بیان پر افسوس کا اظہار کرنے کی  ’ہمت‘ بھی نہیں ہوئی۔ پہلے ایک ٹی وی انٹرویو میں اینکر نے بار بار عثمان بزدار سے  پوچھا کہ ایسا بیان دے کر کیا لاہور پولیس کے سربراہ نے ذمہ داری سے گریز کرنے کی کوشش نہیں کی اور  اس طرح  لوگوں کو اس افسوسناک سانحہ  کے بعد اشتعال  نہیں دلایا گیا۔ اس کے جواب میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کے منتظم اعلیٰ کا ایک ہی جواب تھا کہ ’  مجرموں کا سراغ لگالیا جائے گا۔ ماضی میں بھی  ہم نے سب مجرموں  کو پکڑا ہے اور آپ دیکھیں گے کہ اس بار بھی کوئی قصور وار بچ نہیں پائے گا‘۔ جب یہی سوال آج کی پریس کانفرنس میں بھی سامنے آیا تو  بھی وزیر اعلیٰ پنجاب نے عمر شیخ  کے بیان کو غلط قرار نہیں دیا بلکہ کہا کہ ایسا غیر ضروری بیان دینے کی ضرورت  نہیں تھی۔ اب آئی جی صاحب نے ان سے وضاحت طلب کرلی ہے اور وہ 7 روز کے اندر جواب دیں گے۔

عمرشیخ جیسے ’محبوب‘ پولیس افسر کو وضاحت دینے یا گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ہؤا اگر ملک کی اپوزیشن پارٹیاں،  سماجی و انسانی حقوق کی تنظیمیں اور معاشرے کے ممتاز عناصر عمر شیخ  کو اس عہدہ سے   ہٹانے کا مطالبہ  کررہے ہیں۔  ان کی حیثیت ’پیا من بھائے ‘ جیسی  ہے جس کے خلاف پنجاب کا سیاسی وسیم اکرم بھی اف کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ یہی نہیں بلکہ  پہلے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ    شہزاد اکبر  نے اسی  پولیس افسر کے ساتھ لاہور میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا ’ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا ہے‘ اس طرح نہ صرف  عمر شیخ کی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی  بلکہ   موٹر وے ریپ کے سانحہ  کی تحقیقات میں  انہی کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ۔ آج صبح وزیر اعلیٰ  کی پریس کانفرنس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کے ایک دوسرے معاون خصوصی  ڈاکٹر شہباز گل  کا کہنا تھا   کہ ’وزیراعلیٰ پنجاب رات چار بجے تک آئی جی اور سی سی پی او کے ساتھ تھے اور وزیراعلی نے پورے کیس کی خود نگرانی کی ہے‘۔ انہوں نے خاص طور سے وزیر اعلیٰ کے علاوہ  سی سی پی او کو  شاندار کارکردگی پرخراج تحسین پیش کیا۔ حالانکہ ملک بھر میں اس شخص کے  غیر شائستہ اور بے موقع بیان پر احتجاج ہورہا ہے اور انہیں ہٹانے کے لئے مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔

عمران خان کی قیاد ت میں تشکیل پانے والے ’نئے پاکستان‘ میں سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ ہو یا ان کے اپنے معاونین، وہ کسی ایسے فیصلے کے بارے میں کیسے آواز اٹھا سکتے ہیں جسے اس عہدے پر برقرار رکھنے کے لئے اسی ہفتے کے دوران پنجاب کا آئی جی پولیس تبدیل کیا گیا تھا۔  عمر شیخ کا سروس ریکارڈ تو ان کی خوبیوں کی شہادت نہیں دیتا لیکن وزیر اعظم نے نہ جانے ان میں ایسی کون سی خوبی تلاش کی ہے کہ  انہیں صوبے  کے آئی جی سے مشورہ کئے بغیر لاہور  پولیس کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ جب سابقہ آئی جی  شعیب دستگیر نے  اس پر احتجاج کیا اور کہا کہ وہ ایسے افسر کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو یہ جاننے کی بجائے کہ گریڈ 22 کا ایک دیانت دار افسر کیوں اس شخص کے بارے تحفظات کا اظہار کررہا ہے یہ کہتے ہوئے ان کا تبادلہ کردیا گیا  کہ ’ضرورت پڑی تو پانچ نہیں پانچ سو آئی جی تبدیل کردیں گے‘۔

پانچ سو آئی جی تبدیل کرنے کی اسی خواہش اور زعم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے   چیف جسٹس  گلزار احمد نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پولیس  کو سیاسی اثر و رسوخ سے نجات دلا  کر پروفیشنل انداز میں کام کرنے  کی آزادی دی جائے۔  انہوں نے کہا کہ پولیس میں سیاسی مداخلت کے نتیجے میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔  چیف  جسٹس نے  حالیہ واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے  کہا کہ یہ پولیس کے نظام میں گراوٹ کی علامت ہے اور سیاسی مداخلت کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومت جاگے اور محکمہ پولیس کی ساکھ کو فوری بحال کرے۔  چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ پولیس سیاسی ہو چکی ہے۔ ’حکومت یا سیاسی فرد محکمہ پولیس میں کسی بھی صورت کوئی مداخلت نہ کرے۔ سیاسی مداخلت سے کوئی بھی پولیس فورس پروفیشنل طریقے سے کام نہیں کر سکتی‘۔

چیف جسٹس کی  ان باتوں  کو اگرچہ رہنما اصول کے طور پر  اختیار کرنا چاہئے لیکن اس کا امکان  دکھائی نہیں دیتا۔ موٹر وے سانحہ  پر سامنے آنے والے احتجاج کے باوجود حکومت اور اس کے نمائیندوں نے   جو  رویہ اور طرز بیان اختیار کیا ہے وہ پولیس کو خود مختار بنانے کی بجائے اس کی بیڑیاں  زیادہ سخت کرنے کی علامت ہے۔ حال ہی میں   اچھی شہرت کے ایک آئی جی کو  ایک جونئیر افسر کے تبادلہ پر اعتراض کرنے کی پاداش میں تبدیل کرنے کے علاوہ   سینارٹی  میں کمتر ایک افسر کو آئی جی لگا کر واضح کیا گیا ہے کہ ملک اور پنجاب کی حکومتیں،  پولیس کو اپنے سیاسی عزائم کے  لئے استعمال کرنے کے  مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کے معاون گواہی دے رہے ہیں  کہ وزیر اعلیٰ  عثمان بزدار  نے قیادت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ وہ ساری رات جاگ کر  موٹر وے ریپ کیس  کی  نگرانی کرتے رہے۔  حیرت ہے پولیس  تو اطلاع  ملنے اور نشاندہی کے باوجود  ریپ کیس میں نامزد  ملزم کو گرفتار کرنے کی بجائے اس کی بیٹی کو پکڑ لائی لیکن وزیر اعلیٰ ساری رات جاگ کر کس کام کی نگرانی کررہے  تھے کہ انہیں توصیف بھرے ٹوئٹ  پیغامات سے نوازنا ضروری ہوچکا ہے۔

loading...