اچھا ہؤا قائد چل بسے ورنہ ابصار عالم اور بلال فاروقی کو کیا جواب دیتے

صدر مملکت عارف علوی نے آج قائد اعظم محمد علی جناح کی  برسی کے  موقع پر کراچی میں ان کے مزار پر حاضری دی اور کہا کہ قوم کی فلاح  و ترقی بابائے قوم کے اصولوں پر چلنے اور ان کا بتایا ہؤا راستہ اختیار کرکے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ ملک کا سربراہ جب کسی شخصیت کے اصولوں کو اس قدر اہمیت  دے رہا ہو تو یہ  باور کرنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ  وہ واقعی اس بات  پر یقین رکھتا ہے اور  حکومت کو ہدایت کررہا ہے کہ  قائد اعظم  کے   رہنما اصولوں کو فراموش نہ کیا جائے ۔

 البتہ آج ہی کراچی میں پولیس نے اپنی فیس بک پر فوج کے  خلاف    ’شدید قابل اعتراض‘   مواد شائع کرنے کے الزام میں  ایک انگریزی روزنامہ کے نیوز ایڈیٹر بلال  فاروقی کو گرفتار کرلیا ہے۔ دوسری طرف پنجاب پولیس نے صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم کے خلاف ’سنگین غداری‘ کا مقدمہ درج کیا ہے۔  یہ مقدمہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے حامی انصاف لائرز فورم کے ایک عہدیدار کی درخواست پر دینہ پولیس نے درج کیا ہے۔  ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ابصار عالم نے افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر ’انتہائی نامناسب زبان‘ استعمال کر کے ’دستور پاکستان کے آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری‘ کا ارتکاب کیا ہے۔  سوچنا چاہئے کہ اگر  قائد اعظم آج زندہ ہوتے تو وہ بلال فاروقی اور  ابصار عالم اور  ان کے اہل خانہ کو کیا جواب دیتے؟

یوں  تو  موت کا وقت معین ہے اور محمد علی جناح  کو بھی ایک دن اپنے رب کے پاس جانا ہی تھا لیکن اکثر یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ اگر وہ سال دو سال زندہ رہتے  اور ملک کو متفقہ آئین دے جاتے تو ان کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات اور سیاسی  و آئینی  کشمکش پیدا نہ ہوتی ۔    پاکستان اس نقصان سے بچ جاتا جو  قائد کی نگرانی میں بنے ہوئے کسی متفقہ آئین کے غیر موجودگی کی وجہ سے اسے  برداشت کرنا  پڑا۔ تن تنہا ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ  ملک کے حصول کی جد و جہد کرنے والے لیڈر کی نگرانی میں بنے ہوئے کسی آئین سے اختلاف ممکن نہ ہوتا۔ اس طرح موجودہ صدر عارف علوی  کو بھی یہ  کہنے کی ضرورت نہ پڑتی کی قائد کے اصولوں کو بھلایا نہ جائے۔  البتہ  صدر مملکت کی  اس ہدایت یا مشورہ پر غور کرتے ہوئے کیا ایک لمحہ کے لئے اس بابت غور کرنا ممکن ہے  کہ اس قسم کے بیانات  کیوں محض ایک رسم، نعرہ یا   ایسے سلوگن کی حیثیت اختیا رکرچکے ہیں جنہیں بیان کرتے ہوئے ہمیں پورا یقین ہوتا ہے کہ   قیام پاکستان کے ایک سال کے  بعد  فوت ہوجانے والے  رہنما کی  باتوں کو نئے پاکستان میں کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوسکتی ۔

ورنہ  یہ کیسے ممکن  ہوتا کہ اس شہر کی پولیس جس کی پہچان شہر قائد کے طور پر قائم کی جاتی ہے، جناح  کی برسی کے روز ہی  ممتا زانگریزی روزنامہ میں ایک ذمہ دار نیوز ایڈیٹر کی گرفتاری کو یقینی بناتی تاکہ ملک سے فوج کے خلاف  ’غیر ذمہ  دارانہ ‘ خبریں پھیلانے والے عناصر کا قلع قمع کیا جائے۔ دلچسپ بات ہے کہ  ایک ممتاز اور سینئر  پوزیشن پر کام کرنے والے ایک صحافی کی گرفتاری ایک ایسے شخص کی شکایت پر عمل میں لائی گئی ہے  جوخود لانڈھی میں رہتا ہے اور ایک فیکٹری میں مشین آپریٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔  البتہ اسے اچانک  کسی  وجہ سے  ڈیفنس آنے کا موقع ملا جہاں اتفاق سے بلال فاروقی  بھی کرائے  کے ایک مکان میں رہتے ہیں۔     ڈیفنس کے دورہ کے دوران ہی اسے بلال  فاروقی کے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس پر لگی ہوئی پوسٹس دیکھنے کا موقع ملا ( یہ سوال اپنی جگہ پر دلچسپ اور جواب طلب ہے کہ  کسی صحافی  کے فیس بک اور ٹوئٹر  کی  پڑتا ل  کے لئے ایک فیکٹری ورکر کو ڈیفنس ہی کیوں آنا پڑا اور وہ لانڈھی میں بیٹھ کر ہی کیوں  یہ کام نہیں کرسکتا تھا)۔ ان پوسٹس کی سنگینی نے اس مشین آپریٹر کی ملی غیرت کو اس قدر متاثر کیا کہ وہ گھر جانے کی بجائے سیدھا  ڈیفنس پولیس اسٹیشن گیا اور بلال فاروقی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی۔ شہر قائد کی پولیس کی پھرتی بھی دیدنی ہے کہ نہ صرف ایف آئی آر درج کرلی گئی بلکہ فوری طور سے ایک ٹیم روانہ کرکے ایک خطرناک ملزم کی گرفتاری کو یقینی بنایا گیا۔ گو کہ ابھی پولیس کو بھی علم نہیں ہے کہ بلال فاروقی کے خلاف الزامات کی نوعیت کیا ہے اور اس کے کون سے اظہار پر ایک مشین آپریٹر کی حب الوطنی پر آنچ  آگئی تھی۔

یاوش بخیر یہ وہی شہر اور وہی ملک ہے  جہاں پولیس   نہ چاہے تو کسی مجسٹریٹ کے حکم کے باوجود  ایف آئی آر درج نہیں ہوتی اور   سنگین ترین  جرم کا شکار ہونے والے شہریوں کو ایف آئی  آر درج کروانے کے لئے دنوں بلکہ ہفتوں تک تھانے کچہری کے چکروں میں جوتے گھسانے پڑتے ہیں۔  جرائم کی نوعیت اور ان کی بیخ کنی میں پولیس کے کردار کا  ایک نمونہ دو روز پہلے لاہور کے نزدیک موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی صورت میں دیکھا جاچکا ہے جس کے بعد لاہور کے پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ ’غلطی تو خاتون کی تھی کہ وہ آدھی رات کو گھر سے باہر نکلی اور موٹر وے پر چڑھتے ہوئے یہ بھی نہیں دیکھا کہ گاڑی میں پیٹرول ہے  یا نہیں ہے‘۔ ایک سنگین جرم کا شکار بننے والی مظلوم خاتون کے خلاف   ہرزہ سرائی  کرنے والے پولیس افسر  کو شدید احتجاج  کے باوجود  اپنی پوزیشن چھوڑنے کی توفیق نہیں ہوئی اور پنجاب حکومت  کےپاس  ایسےمعاملات طے کرنے کا وقت نہیں ہے کیوں کہ  وہ انسپکٹر جنرلز کے تبادلوں   پرغور  کرنے میں مصروف رہتی ہے۔

جس ملک میں ایک فیکٹری مزدور کے کہنے پر فوج کے  خلاف   ’نفرت پھیلانے‘ والے صحافی کی گرفتاری میں اتنی مستعدی دکھائی  گئی ہے ، اسی ملک میں موٹر وے پر اپنے ہی کمسن بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون  کو انصاف دلانے کے لئے ملک کے وزیر اعظم  کو ہدایات جاری کرنا پڑی ہیں اور  صوبے کے وزیر اعلیٰ کو دو اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیاں قائم کرنا پڑی ہیں۔  اس کے باوجود پولیس نے کارکردگی ڈالنے کے  لئے درجن بھر لوگوں کو ضرور حوالات میں بند کردیا ہے لیکن اسے ابھی تک معلوم نہیں  ہوسکا کہ خاتون  کے ساتھ زیادتی کرنے والے کون لوگ تھے۔    اس سے چند روز پہلے اسلام آباد سے ہی اچانک غائب ہوجانے والے ایک سرکاری اہل کار  کی بازیابی کے لئے بھی وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کو متحرک ہونا پڑا تھا۔ تب جاکر ساجد گوندل  ’شمالی علاقوں کی سیر‘ سے واپس آئے تھے۔ ورنہ  ان کی ماں اور اہلیہ کی چیخ و پکار ، اسلام آباد ہائی کورٹ کی ناراضی اور سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے طوفان  سے کسی کان پر جوں بھی  نہ رینگنے والا سماں تھا۔

 کسی کو ایک مشین آپریٹر  کی شکایت پر  بلال فاروقی کی گرفتاری  اور ساجد گل کے شمالی علاقہ جات کی سیر میں اگر کوئی مماثلت دکھائی دے رہی ہے تو اسے اپنی  آنکھوں کا علاج کروانا چاہئے۔ کیوں کہ ملک کا نظام  ایک  پیج کی شاندار روایت پر چلتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ولولہ انگیز قیادت میں اس وقت ففتھ جنریشن وار  میں دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں  مصروف ہے۔  البتہ یوم قائد کے حوالے سے یہ عرض  ضرورگزاری جاسکتی ہے کہ محمد علی جناح نے ساری زندگی قانون کی عمل داری اور  انسانی حقوق کی سربلندی  کے لئے صرف کی تھی۔  ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک کی جد و جہد  کی بنیاد  بھی ان کی قانون پسندی اور انسان دوستی ہی تھی۔ وہ کسی ایک خاص عقیدہ کی چاہ میں اس گروہ کے لئے کوئی خدمت انجام دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ   وہ دل کی گہرائی سے یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان سے انگریز کے جانے کے بعد  مسلمان اقلیت کے سیاسی و معاشی حقوق سلب کئے جائیں گے۔  ان کے خیال میں ہندوستان کے مسلمان ایک قوم کی تعریف پر پورا اترتے تھے ، اس لئے انہیں علیحدہ وطن کا تقاضہ کرنے کا پورا حق  تھا۔ یقین کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ اگر کسی دوسرے عقیدہ کے لوگوں کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوتا تو جناح جیسا بااصول انسان ضرور ان  کا مقدمہ بھی اتنی ہی مستعدی سے  لڑتا۔

جناح  کا  ورثہ   بنیادی  انسانی حقوق  کا تحفظ ہے۔ دیگر مواقع کے علاوہ   11 اگست 1947 کی تقریر میں وہ   شہریوں کے حق اور مذہب و ریاست کے  تعلق  کے حوالے سے اپنے دوٹوک خیالات کا اظہار کر  چکے ہیں۔ لیکن پاکستان کی صورت میں ان کی وراثت کو سنبھالنے والوں نے آئین سازی کے کسی مرحلہ  پر  قائد کے اصولوں کو اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بصورت دیگر پاکستانی آئین کے پیش لفظ میں  ’قرار داد مقاصد‘ کی بجائے قائد اعظم کی  11 اگست  والی تقریر میں بیان کئے گئے اصول درج ہوتے۔ اور اس ملک کے قوانین میں کسی فوجی آمر کو توہین مذہب کی ایسی شقات شامل کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا جن سے  مذہب کی سربلندی کی بجائے انسانوں کی توہین اور ان پر ظلم کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ یہ شقات کتنے ہی بے گناہوں کی جان لے چکی ہیں  اور کتنے ہی لوگ    ایک جاہ پسند آمر  کے مسلط کردہ قانون کی وجہ سے سال ہا سال سے جیلوں  میں بند ہیں لیکن  انصاف کا پھریرا اڑاتی حکومت اور آزاد و خود مختار عدلیہ کے ججوں کو ان مظلوموں کی مشکلات ختم کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔

قائد کے فرمودات کو   پاکستان کی فلاح کا راستہ بتانے والے صدر مملکت کیا اپنی حکومت کو بتائیں گے کہ محمد علی جناح انسانوں    کے احترام کا سبق سکھا کر گئے ہیں۔ انہوں نے مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت  ختم کرنے کا  اصول متعین کیا تھا۔  اور ان کا دوٹوک فیصلہ تھا کہ  ریاستی امور میں مذہب  کا عمل دخل نہیں ہوسکتا۔ کیا عارف علوی کے چہیتے وزیر اعظم اور لیڈر عمران خان،  سوڈانی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے بارے میں بھی ایسا ہی اعلان  کرسکتے ہیں  کہ  ملک میں انتظامی  و سیاسی معاملات میں  عقیدہ و مذہب کی  بجائے  انسانوں کی برابری کے اصول کو  بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔

loading...