بزم ادب برلن کی مجلس مسالمہ

شعر موضوع کرنے والے شعراء ایک خاص طبیعت اور رجحان کے حامی ہوتے ہیں۔ اچھا شاعر ایک اچھا انسان بھی ہوتا ہے۔ زوم جیسے پلیٹ فارم پر جبکہ لوگ اس کو براہ راست یا بعد میں ریکارڈنگ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ 

اول تو یہ کہ شعر کی تعریف کرتے وقت خیال رکھا جائے کہ شاعر کی توجہ نہ بٹے۔ دوم کسی فنی اور تیکنیکی تعطلل کی صورت میں خاموش رہ میزبان کی بات سنیں اور سوم بلاوجہ کے مشورہ دینے سے پرہیز کریں۔۔۔۔اس طرح سے ہی ایسی محفل کو کامیاب اور دیدہ زیب بنایا جاسکتا ہے۔

انہی امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے  مورخہ 6 ستمبر 2020 بروقت 4 بجے(جرمن وقت) بزم ادب برلن نے اپنی گزشتہ سال کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے   ایک عالمی مجلس مسالمہ منعقد کیا۔بزم ادب کے جنرل سیکریٹری سید سرور ظہیر غزالی نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور مجلس مسالمہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے واقعہ کربلا پر مختصر روشنی ڈالی۔ ناچیز نے شعراء وشعرات کو خوش آمدید کہا۔ پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید نے مجلس کی صدارت فرمائی۔ مندرجہ ذیل شعراء وشعرات نے اپنا کلام پیش کیا:

سرور غزالی: 

شاہ دیں شاہ شہید دیں    سلام کرتی ہے میری جبیں

فاطمہ کے لال علی کے پسر   بچایا دین کٹا کے اپنا سر

حیدر عابدی وفا:

دنیا کے صبروضبط کا پیارا حسین ہے

ملت کی بے کسی کا سہارا حسین ہے

انسانیت کی آنکھ کا تارا حسین ہے

ہر قوم کہہ رہی ہے ہمارا حسین ہے

سید غم خوار حسین:

چاند سورج یہ ستارے کہکشاں شبیر کا

دو جہاں کیا چیز ہے،ہے لا مکاں شبیر کا

سید افضل حسین:

توڑا جنہوں نے زیست کے اک اک اصول کو

تاراج ہر کلی کو کیا اور پھول کو

کرتے نہیں قبول کبھی اپنی بھول کو

اب تک اڑا رہے ہیں نحوست کی دھول کو

ضیاء زیدی:

جہاں میں پرچم اسلام رہتا خم ہو کر

اگر نہ رہتا وہ عباس کا علم ہو کر

فرحت حسیں خوشدل:

کربلا کی سر زمین پہ یہ حادثہ ہوا

ہو کر شہید آج بھی زندہ حسین ہے

جمیل عثمان:

ملا ہے حکم کہ ابن علی پہ لکھوں سلام

کہاں پہ خاک نشیں اور کہاں وہ ماہ تمام

عشرت معین سیما:

یزید ظلم کا اک نشاں ہے   حسین چاہت کی داستاں ہے

رضائے حق ہے اسیر حرمت   اگرچہ قدموں میں کل جہاں ہے

فاطمہ حسن:

شب عاشور حفاظت کے لئے کیا دیتے

رات بھر صبح شہادت کے لئے کیا دیتے

سلام حمید:

وقت نے خون کی کربل میں بتایا پانی

پھر تو اک عمر تلک خوب لجایا پانی

شمیم زمانوی:

لے کے اسلام کی حرمت کا پیام آیا ہے

خون سے لکھنے محمد کا۔نظام آیا ہے

جس کی تطہیر میں خالق کا پیام آیا ہے

اہل ایماں کے تڑپنے کا مقام آیا ہے۔

سعادت سعید:

نا حق قتل کا سامان تھا   عرش کا کنگرا لرزگیا

ہو گئے قربان سبط نبی     وقت نے یہ منظر دیکھا۔

مجلس مسالمہ  تقریباً 6:40 پر اختتام پر پہنچی۔

loading...