جنگوں کی پانچویں نسل اور پاکستان کی پریشانی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تسلسل سے ففتھ  جنریشن اور ہائبرڈ طریقہ جنگ کے بارے میں متنبہ کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دشمن  براہ راست جنگ کی بجائے  پروپیگنڈا، تخریب کاری اور سفارتی  طریقوں  سے   پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی خبریں  اور ان پر شروع کئے گئے مباحث خاص طور سے زیر غور آتے ہیں۔ کسی بھی دوسرے ملک کی طرح پاکستان کو بھی یہ پریشانی لاحق ہے کہ  جدید دنیا میں اس قسم کے غیر محسوس حملوں  سے کیسے بچا جائے اور کیوں کر دشمن کے عزائم کو ناکام   بنایا جائے۔

ففتھ جنریشن وار یا جنگوں کی پانچویں نسل کی اصطلاح پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دو سال قبل استعمال کرنا شروع کی  تھی۔  البتہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں ففتھ جنریشن وار کا حوالہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ ہائبرڈ وار فئیر  کا اضافہ بھی کیا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا بھر میں ابھی  ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح عام نہیں ہے جبکہ جنگوں کی مختلف اقسام کو چار   حصوں میں تقسیم کرکے ان کی نوعیت کا تعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ البتہ پروپیگنڈا اور جعلی خبریں پھیلانے کے  لئے جدید ذرائع کو  ہائبرڈ ہتھکنڈے یا جنگ جوئی کا نیا طریقہ ضرور قرار دیا جاتا ہے۔ اس  اصطلاح سے عام طور سے یہ مراد  لی جاتی ہے کہ  کوئی دشمن مدمقابل کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ یا عملی اقدام کی بجائے بالواسطہ طریقہ جنگ اختیار کرتا ہے۔ ان ہتھکنڈوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی خبریں یا افواہیں پھیلانے کے علاوہ تخریبی کارروائیاں یا سفارتی صلاحیت  کے ذریعے کسی ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا طریقہ بھی شامل ہے۔

جنگ   جوئی کے مختلف طریقوں کو سمجھنے کے لئے  اسّی کی دہائی سے  امریکی ماہرین نے انہیں چار   حصوں یا نسلوں  میں تقسیم کیا ہے۔  پاکستان میں دریافت کردہ  جنگوں کی پانچویں نسل  یعنی ففتھ  جنریشن وار  پر  بات کرنے  سے پہلے  جنگوں کی باقی اقسام کے بارے میں مختصراً جان لینا اہم ہے۔ اس  نظریہ کے مطابق  فرسٹ جنریشن وار یا جنگوں کی پہلی نسل کا مطلب براہ راست  جنگ ہے جس میں ایک منظم  فوج ایک باقاعدہ کمان کے تحت دشمن سے  پنجہ آزمائی کرتی ہے۔ سیکنڈ جنریشن وار  یا جنگ کی دوسری نسل سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ  جب دو  افواج حالت جنگ میں ہونے اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا  ہونے کے باوجود براہ راست تصادم سے گریز کریں  لیکن میدان گرم رکھنے کے لئے   ایک دوسرے پر گولہ باری یا  کسی دوسرے  طریقے سے حملہ کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔  تھرڈ جنریشن وار یا جنگ کی تیسری  قسم میں   حالت جنگ میں  میدان  میں مقابلہ کرنے کی بجائے بالواسطہ طریقوں سے دشمن کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان میں فضائی حملے، رسد کو  روکنا یا آمد و رفت کے  راستوں کو نقصان پہنچانا شامل ہوسکتا ہے۔ جبکہ فورتھ جنریشن وار یا جنگ کی چوتھی قسم  میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے جنگ  کی جاتی ہے۔ براہ راست تصادم سے بچتے ہوئے ایسے عناصر کو دشمن کو      مصروف رکھنے یا نقصان پہنچانے  کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں باقاعدہ فوج  ملوث نہیں ہوتی اور  نہ ہی کوئی ملک ان جنگ جو گروہوں کی سرپرستی کرنے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اسے پراکسی وار کی قسم بھی کہا جاسکتا ہے۔

 کشمیر کے مسئلہ پر بھارت کے ساتھ تصادم کی صورت حال میں پاکستان   اور بھارت جنگ کے یہ سب طریقے  ایک دوسرے کے خلاف آزما چکے ہیں۔   تاہم اب پاک فوج کو اندیشہ  ہے کہ دشمن خاص طور  ہائبرڈ وار فئیر کو استعمال کرکے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح کی مہم جوئی کا بنیادی مقصد کسی ملک کی شہرت کو نقصان پہنچانا اور اس میں آباد عوام کے حوصلوں کو پست کرنا  ہوتا ہے۔ اس حد تک  آرمی چیف کی پریشانی  قابل فہم ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دشمن براہ راست جنگ پر آمادہ نہ ہو اور محاذ پر پنجہ آزمائی اور ایک دوسرے کی صلاحیت کو پرکھنے کی بجائے بالواسطہ  اور غیر روائتی طریقے اختیار کئے جارہے ہوں تو ان سے کیسے نمٹا جائے۔   اس مقصد کے لئے  ضروری ہوگا کہ پہلے یہ جان لیا جائے کہ ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ طریقہ جنگ سے دشمن کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ان ہتھکنڈوں میں     افواہ سازی ، جعلی خبریں  پھیلانا، فوج اور قومی اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا اور تخریبی سرگرمیوں کی وجہ بننا یا ان کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ پاک بھارت  تعلقات اور ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی نوعیت پر نگاہ ڈالی جائے تو  سمجھا جاسکتا ہے کہ دونوں ملک اپنے اپنے طور پر  ان طریقوں سے  دشمن کو کمزور اور بے حوصلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  جھوٹی خبروں یا افواہوں کی تردید  تو آسان ہے لیکن اس طریقہ کا دیرپا نقصان یوں محسوس کیا جاسکتا ہے کہ مواصلت کے جدید ذرائع  تک آسان دسترس کی  وجہ سے  کوئی خبر بہت تیزی سے بہت زیادہ لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے ۔ اس کی تردید ہونے تک ایک تو نقصان ہوچکا ہوتا ہے  لیکن اس کے ساتھ  ہی  یہ اندیشہ بھی موجود رہتا  ہے کہ  بعض لوگ پھر بھی اس جھوٹ کو سچ مانتے ہوئے پریشانی کا شکار ہوں گے۔ 

اس ایک نقصان کے علاوہ ہاک و ہند تعلقات کے تناظر میں   اگر  مہم جوئی کے اس طریقہ کے اثرات کا جائزہ  لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں ممالک میں  عوام کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی منظم کوششیں کی گئی ہیں۔ حالانکہ ثقافتی  اور سماجی  رسوم و رواج  اور لسانی  حوالوں سے   دونوں ملکوں میں آباد لوگ ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان دوستی اور صلہ رحمی کا بہتر تعلق استوار ہونا چاہئے۔ لیکن دونوں ملکوں میں پھیلائی گئی نفرت کا نتیجہ  ہے بھارت میں پاکستان ہی نہیں بلکہ  وہاں پر بڑی تعداد میں آباد مسلمانوں کے خلاف بھی نفرت کے بیج بوئے گئے ہیں۔ پاکستان اور مسلمانوں کا نام دہشت گردی سے منسلک کرکے عام لوگوں کو   مسلسل ہمسایہ ملک کے خلاف  جارحیت  پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی ہی صورت حال دیکھی جاسکتی ہے۔ جب دونوں ملکوں کی حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ  مواصلت اور    کسی افہام وتفہیم  پر بھی آمادہ نہ ہوں تو اس دوری اور نفرت میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔

کوئی بھی ملک دشمن کے خلاف ہائبرڈ جنگی طریقہ اختیار کرتے ہوئے دراصل دشمن کی مشکلات میں اضافہ کا خواہاں ہوتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے بنیادی مقصد کسی بھی ملک میں انتشار، بے چینی اور سماجی تصادم کی کیفیت کو جنم دینا ہوتا ہے۔ اس لئے ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کا مقابلہ کرنے کے لئے سب سے پہلے کسی بھی قوم کو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنے معاشرے میں  سکون  اور اطمینان پیدا کرنے کے لئے کیا کام کررہی ہے۔ پاکستان کو اس حوالے سے خاص طور سے یوں بھی مشکل کا سامنا ہے کہ ملک میں  سیاست، مذہب اور سماجی تعلق کی بنیاد پر  گروہ بندی اور تقسیم میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور کسی بھی سطح پر اس کی روک تھام کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

نامعلوم ہتھکنڈوں سے پاکستان کے مفادات پر حملہ آور دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے خاص طور سے اس بات کا خیال رکھنا بھی   اہم ہے کہ   تخریبی ماحول پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے معاشرے میں خوف، بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا نہ ہو۔  بدقسمتی سے  ملک میں اس پہلو پر توجہ دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ حکومت اپنی کامیابی کے لئے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنا  اپنا اولین فریضہ سمجھتی ہے  اور  مخالفانہ رائے کی ترسیل کے راستے مسدود کئے جاتے ہیں۔ سنسر شپ، میڈیا کنٹرول کرنے کے ہتھکنڈے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے طریقے اسی  قسم میں شمار ہوں گے۔ حتی کہ اب یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ  سوشل میڈیا پر گمراہ کن  مباحث یا سماج دشمن رائے کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائے   گئے قوانین کو بھی دراصل سیاسی بالادستی برقرار رکھنے  اور  مخالف رائے کچلنے کے لئے استعمال کرنا  عین قومی مفاد سمجھ لیا گیا ہے۔  حالانکہ  کسی سیاسی گروہ یا حکومت کے مفاد یا ترجیحات کو قوم کا مفاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسی طرح قومی اداروں نے جن میں  انٹیلی جنس ادارے بھی شامل ہیں،  قومی مفاد اور نظریہ پاکستان کی ایک خاص توجیہ کی بنیاد پر اپنے ہی شہریوں کے خلاف کارروائی کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان طریقوں میں   بدتر کسی شخص کو اچانک اٹھا لینا اور غائب کردینا شامل ہے۔  یہ طریقہ  پہلے شورش زدہ علاقوں میں اختیا رکیا جاتا  رہا ہے جس کی یہ دلیل سامنے آتی رہی ہے کہ  دشمن کے ایجنٹ  شہریوں کے بھیس میں ملکی مفاد کے خلاف سرگرم ہوتے ہیں جن کی روک تھام کے لئے ملک کے عام قوانین مؤثر نہیں ہوتے۔  البتہ اب اسلام آباد میں  گزشتہ دو ماہ کے اندر ایک سینئر صحافی اور ایک اعلیٰ  سرکاری اہل کارکی پراسرار گمشدگی اور بازیابی نے اس ہتھکنڈے کی حکمت پر سنگین سوال اٹھایا ہے۔  ففتھ جنریشن وار کے اثر سے نکلنے اور ہائبرڈ حملوں سے  قوم کو بچانے کے لئے عوام کو خوف اور بے چینی سے نجات دلانا ضروری ہے لیکن انسانوں کو لاپتہ کرنے کے طریقہ سے اس کے برعکس صورت پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جو نقصان دشمن  تخریب کاری کے ذریعے پہنچا سکتا ہے،  اس سے کہیں زیادہ نقصان حب الوطنی یا قومی مفاد کی حفاظت کے نام پر ہم خود ہی پہنچا لیتے ہیں۔

جنگوں کی پانچویں نسل کے طریقے طویل المدت نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب تک پاکستان میں آزادی رائے اور شہری حقوق کی حفاظت کی ضمانت فراہم نہیں ہوگی اور اختلاف کو دشمنی قرار دیا جاتا رہے گا، اندیشہ ہے کہ ملک  ہائبرڈ وار فئیر کے  ہتھکنڈوں سے محفوظ نہیں رہ پائے گا۔

loading...