ساجد گوندل کیس میں پھنسی مظلوم ریاست

ایک طرف پاک فوج کے سربراہ تواتر سے ملک کو ففتھ  جنریشن  اور ہائبرڈ وار کے خطرہ سے آگاہ کررہے ہیں تو دوسری طرف ریاست کے  بعض ’غیر ذمہ دار ‘ افسر اپنے لاابالی پن  کی وجہ سے ریاست کے لئے پریشانی اور شرمندگی کا سبب بن رہے ہیں۔ اب  سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کے لاپتہ اور بازیاب ہونے کی  کہانی ہی دیکھ لیں۔ ایک طرف  اسلام آباد ہائی کورٹ تو دوسری طرف وزیر اعظم کی  سربراہی میں  وفاقی کابینہ چوکنا ہوگئی تو بیچ میں سے کہانی یہ  نکلی کہ ساجد گوندل  تو اپنی مرضی سے شمالی علاقوں کی سیر  پر  چلے گئے تھے۔

پاکستان کے ایک ٹیلی ویژن اسٹیشن سے نشر ہونے والی اس خبر کی نہ تو سرکاری طور سے تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی اس کی تردید  سامنے آئی ہے۔ البتہ یہ ضرور دیکھنے میں آیا ہے کہ لاپتہ  ساجد گوندل نے  فون پر اپنی اہلیہ کو اپنی ’رہائی‘ کے بارے میں مطلع کیا اور ٹوئٹر پر اپنی بازیابی کی اطلاع دیتے ہوئے ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے لاپتہ ہونے کے بعد  اہل خاندان سے اظہار یک جہتی کیا  تھا۔ البتہ  انہیں ’شمالی علاقوں ‘ سے واپسی کے باوجود  اپنے گھر واپس آنے اور نئے سفر کی تیاری کے لئے سامان وغیرہ باندھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی بلکہ  باہر ہی کہیں وہ  اپنے بیوی بچوں سے ملے اور  وہیں سے سرگودھا اپنے آبائی گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے۔ شاید اس  میں یہ حکمت ہوگی کہ شمال کے سفر سے ہونے والی تھکاوٹ کو گاؤں  جا کر اتار  لیا جائے تاکہ تازہ دم ہوکر   وہ اسلام آباد اپنے کام پر واپس جاسکیں۔  اس دوران میڈیا کے غیر ضروری سوالوں سے بھی بچے رہیں۔

ایک مقامی ٹیلی ویژن اسٹیشن نے البتہ    بظاہر  لاپتہ  ہونے کے اس سنسنی خیز  واقعہ کا ڈراپ سین یوں کیا ہے کہ اس کی خبر کے مطابق سرگودھا روانہ ہونے سے پہلے ساجد گوندل نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ  انہیں کسی نے نہیں اٹھایا تھا ، وہ تو اپنی مرضی سے شمالی علاقوں کی سیر کو چلے گئے تھے۔ وہاں چونکہ موبائل کام نہیں کرتا ، اس لئے  وہ اپنے گھر والوں کو اطلاع نہ دے سکے۔ مواصلات کی ترقی کے موجودہ دور میں جب  کسی سرکاری ادارے کا ذمہ دار افسر اس قسم کی وضاحت  دے رہا ہو تو اس پر شبہ کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ ساتھ ہی جس شخص کے بارے میں کہا جارہا ہو کہ اسے  اغوا کیا گیا ہے اور اس اقدام کا تعلق  سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن  میں  اس کی پوزیشن سے ہوسکتا ہے، اگر وہ خود ہی ان ’قیاس آرائیوں ‘ کو غلط کہہ رہا ہو تو اس پر سوال کیسے اٹھایا جاسکتا ہے؟ خبر کے مطابق ساجد گوندل تھکاوٹ   اتار کر جب اسلام آباد واپس آئیں گے تو وہ مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔ اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

 ساجد گوندل ہی نہیں بلکہ  دو ماہ قبل  اس قسم کے پراسرار سفر پر روانہ ہونے والے اسلام آباد کے صحافی مطیع اللہ جان نے بھی ساجد گوندل کے بیان کی تصدیق کی ہے۔  انہوں نے ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ ’شمالی علاقہ جات واقعی بہت خوبصورت ہیں۔ میں بھی کچھ عرصہ پہلے ہی ہوکر آیا  ہوں۔ میں اپنی گاڑی اسلام آباد کے ایک اسکول کے سامنے پارک کرگیا تھا‘۔ بس جو لوگ ساجد گوندل کے بیان کو کسی ’دباؤ‘ کا نتیجہ سمجھتے ہیں یا اس بارے میں شبہ کا اظہار کررہے ہیں وہ مطیع اللہ جان کی اس ’گواہی‘ سے مطمئن ہوجائیں۔ ساجد گوندل بھی گزشتہ  جمعرات کو شمالی علاقوں کی سیر کے شوق میں یوں مبتلا ہوئے کہ  انہوں نے چک شہزاد کے فارم ہاؤس سے واپس آتے ہوئے  اپنی گاڑی چابی سمیت  راستے میں ہی زرعی تحقیقاتی سنٹر کے باہر چھوڑی اور  روانہ ہوگئے۔  لگتا ہے  کہ شمالی علاقے دیکھنے کا شوق  کسی ایسے جنون کی حیثیت رکھتا ہے کہ  چار بچوں کے باپ کو نہ تو اپنی بیوی کا خیال آیا اور نہ ہی  انہوں نے معصوم بچوں اور بوڑھی ماں کی پریشانی کے بارے میں سوچا۔ بلکہ گاڑی کو بھی چور اچکوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر  اڑنچھو ہوگئے۔

ساجد گوندل کی واپسی کی خبر سنتے ہی اسلام آباد پولیس  کے سپرنٹنڈنٹ فوری طور سے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے تھے جہاں بی بی سی اردو کے نمائیندے  کو انہوں نے بتایا تھا کہ  ساجد گوندل کے گھر پہنچتے ہی پولیس ان کا بیان لے کر معاملہ کو آگے بڑھائے گی۔ اس کی نوبت ہی نہ آسکی کیوں کہ ساجد گوندل اپنے گھر آنے سے پہلے  ہی سرگودھا روانہ ہوگئے تھے۔  پاکستانی  کے نجی ٹیلی ویژن چینل  پر چلنے والی خبر میں ساجد گوندل کے دورہ شمالی علاقہ جات کی جو اطلاع  دی گئی ہے وہ شاید کسی ایسے بیان پر مشتمل ہوگی جو ساجد گوندل نے متعلقہ ایس پی کو دینے کی بجائے اپنی مرضی کے پولیس افسر کو دینا پسند کیا ہوگا۔ جو شخص اہل  خاندان اور اپنے دفتر کو اطلاع دیے بغیر  اچانک تفریحی دورہ پر جانے کا عزم  کرلیتا ہے، اسے یہ حق بھی حاصل ہوگا کہ وہ بیان دینے کے لئے اپنی مرضی کا پولیس افسر چن لے۔

اس دلچسپ خبر کے تناظر میں البتہ آرمی چیف کی طرف سے بار بار ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار کے بارے انتباہ پر غور بھی بے حد ضروری ہوگیا ہے۔  جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بارے میں  متنبہ کیا تھا لیکن  آج کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے دشمن کے  ہائبرڈ اور ففتھ جنریشن  جنگی ہتھکنڈوں کا دوبارہ ذکر کیا اور فوجی کمانڈروں کو بتایا کہ  ’پاکستان دشمن عناصر نے ملک کے خلاف ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار شروع کی ہوئی ہے۔ اس جنگ کے خلاف حکومت کے ساتھ مل کر ملک کے اہم مفادات کا تحفظ بے حد ضروری ہے‘۔   جن جنگی  ہتھکنڈوں کے لئے  ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ  وار جیسی بھاری بھر کم  اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، ان کا تعلق جھوٹی خبروں کی ترسیل اور اس طرح ریاست کو بدنام کرنے کے  طریقہ سے ہے۔ فوج کا خیال ہے کہ دشمن کے ایجنٹ  سوشل میڈیا اور اپنے ہرکاروں کے ذریعے ایسی خبریں پھیلاتے ہیں جن کا  حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اور ان کا مقصد پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔

محب وطن عناصر حال ہی میں  سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے  اثاثوں کے بارے میں امریکہ میں مقیم صحافی احمد نورانی کی خبر کو ایسے  ہی  پروپیگنڈا    مہم  جوئی کا حصہ بتاتے رہے ہیں۔ بعد میں  عاصم باجوہ نے بھی اپنے تردید بیان میں اس خبر کو   ’ناقابل اعتبار اور جھوٹ کا پلندہ ‘ قرار دیتے ہوئے  ’حقائق‘ عوام کے سامنے پیش کردیے تھے ۔ وزیر اعظم نے  ان  ناقابل تردید حقائق سے مطمئن ہو کر ہی عاصم باجوہ کا استعفیٰ مسترد کیاتھا،  ورنہ نئے پاکستان کے  دیانت دار وزیر اعظم کرپشن کے بارے میں سخت رویہ رکھتے  ہیں اور وہ اپنے قریب ترین ساتھی کو بھی  نہیں بخشتے۔ جہانگیر ترین کے ملک سے ’فرار‘ ہونے کا واقعہ اس کی زندہ مثال ہے۔ عاصم باجوہ نے تو اپنے  اثاثوں  کے حوالے سے ’گمراہ کن معلومات‘   کے بارے میں یہ دعویٰ  نہیں کیاکہ اس طرح دراصل سی پیک  منصوبہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن سوشل میڈیا پر ففتھ جنریشن وار کا منہ توڑ جواب دینے والے ایسے محب وطن جیالے موجود ہیں جنہوں نے اس خبر میں سی پیک کو لاحق خطرات کا سراغ لگالیا تھا۔ یوں ملک و قوم کو ایک  خطرناک حملہ سے بچا لیا۔

اب ساجد گوندل کا واقعہ  پیچیدہ ہونے کے علاوہ دلچسپ بھی ہوچکا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد میں امن و امان کی صورت حال  پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ  سے باز پرس کی تو دوسری طرف وزیر اعظم  عمران خان  نے کابینہ کے اجلاس میں اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شیریں مزاری کے بقول  دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ وہ اپنی حکومت میں کسی کو ایسی لاقانونیت کی اجازت نہیں دیں گے۔   ساجد  گوندل کی  بازیابی کے لئے سہ رکنی کابینہ کمیٹی بھی بنادی گئی۔  ساجد گوندل کو شاید شمالی علاقوں میں وزیر اعظم کی اس پریشانی کی خبر مل  گئی تھی۔ اسی لئے ادھر وزیر اعظم کا حکم جاری ہؤا ، ادھر ساجد گوندل اسلام آبادکے افق پر نمودار ہوگئے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کے انتباہ کی روشنی میں محب وطن پاکستانیوں کو صرف  یہ جاننا ہے کہ ساجد گوندل کیس کیا کسی ففتھ جنریشن وار ہی کا کوئی ہتھکنڈا  تو نہیں تھا۔ یہ تو واضح ہے کہ دشمن موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور جوں ہی کوئی  غیر معمولی بات   ہوئی  سوشل میڈیا کے ذریعے  ریاست اور ملکی فوج کے خلاف  پروپیگنڈا اور بے بنیاد خبروں  کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔ ساجد گوندل کا معاملہ تو یوں بھی سنگین ہے کہ اس میں تو دارالحکومت کی ہائی کورٹ کے علاوہ وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ بھی ملوث رہی ہے۔  کیا یہ سب کچھ کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت ہؤا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ساجد  گوندل کو بھی پر اسرار طور سے  شمالی علاقوں  کی طرف نکل جانے پر آمادہ کرنے میں ففتھ جنریشن وار والوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

ملک و قوم جس خطرناک سائیبر  مہم جوئی  کے نشانے پر ہیں، اس  کی روشنی میں ضروری ہے کہ  ساجد گوندل کے معاملہ کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کی جائے۔ بلکہ اس معاملہ کی تہ تک پہنچا جائے کہ وہ کیوں اور کیسے شمالی علاقوں میں گئے کہ خود ان کا خاندان ہی   ففتھ جنریشن وار والوں کا ’آلہ کار ‘ بن گیا۔ عوام کو باخبر ہونا چاہئے کہ یہ جدید جنگ جوئی کس قدر ہولناک ہے کہ ریاست بیچاری  منہ دیکھتی رہ جاتی ہے اور   دشمن اسی  کے اہلکاروں کو استعمال کرتے ہوئے قومی مفاد پر حملہ آور ہوتا ہے۔ بیچاری ریاست۔

loading...