یومِ دفاع کا دفاع

  • سوموار 07 / ستمبر / 2020
  • 14480

آج 6 ستمبر ہے ۔ 6 ستمبر کو کیا ہوا تھا؟ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اور جیسا کہ میرے نکاح نامے میں درج ہے ، اس دن میں رشتہ  ازدواج میں منسلک ہواتھا۔یعنی پنجابی روز مرہ میں کہا جائے گا کہ میرا ویوانہہ ہواتھا ، جو بیاہ اور ویاہ بھی کہلاتا ہے ۔

یہ تقدیر کا لکھا تھا جسے وقت اور حالات نہ ٹال سکے مگر یہ آج سے 46 سال پہلے کی بات ہے جسے مستنصر حسین تارڑ صاحب نے اپنی یادداشتوں میں رقم کیا ہے  کہ وہ بھی اس شبھ گھڑی موقعے پر موجود تھے ۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ 6 ستمبر کو ایک اور واقعہ بھی رونما ہوتھا ۔یہ 1965 کی بات ہے ۔ میں دوپہر سے ذرا پہلے کراچی کی برنس روڈ سے گزر رہا تھا کہ قریب کی ایک دوکان سے اُس وقت کے صدرِ پاکستان جنرل محمد ایوب خان کی آواز سنائی دی کہ وہ کلمہ طیبہ پڑھ کر قوم کو بتا رہے تھے کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا ہے ۔ وہ فرما رہے تھے کہ دشمن کو پتہ نہیں کہ اُس نے کس قوم کو للکارا ہے ۔اور پھر دیکھتے ہیں دیکھتے پورا کراچی ایک جنگی مورچے میں تبدیل ہوگیا اور ہر شہری چاک و چوبند سپاہی لگنے لگا ۔

لگتا تھا 18 کروڑ دل ایک ساتھ دھڑک رہے ہیں ۔ فوج کے پیشہ ور سپاہی تو محاذ پر تھے مگر پاکستانی عوام کی فوجِ ظفر موج گلی کوچوں میں اپنی سلامتی اور وحدت کا دفاع کر رہی تھی ۔ میڈیا نئے ذخیرہ  الفاظ سے لیس ، نعروں کے بم برساتا صوت و قلم سے دشمن کے چھکے چھڑانے کے لیے تیار ہورہا تھا ۔ بھائی رئیس امروہوی اپنے ملاقات کے کمرے میں تھے کہ ریڈیو کی ٹرانسکرپشن سروس کے ایک افسر سلیم گیلانی  گارڈن ایسٹ تشریف لائے اور بھائی رئیس سے لاہور پر نغمہ لکھنے کو کہا ۔ تب قلم اور کاغذ نے رئیس صاحب کے ساتھ مل کر یہ نغمہ ایجاد کیا :

خطہ  لاہور تیرے جاں نثاروں کو سلام

غازیوں کو ، شہریوں کو شہ سواروں کا سلام

اور پھر اس گھر سے جہاں میں جون ایلیا کا روز کا مہمان اور ملاقاتی تھا ، جنگی ترانوں کا چشمہ اُبل پڑا ، جون ایلیا نے تان اُڑائی:

بہت لکھا ہے تری زُلفِ پُر شکن کے لیے

نگارِ فن ! مرے نغمے ہیں اب وطن کے لیے

اور ساتھ ہی ایک اور نغمہ موزوں ہوا کہ : ہم اپنے صف شکنوں کو سلام کرتے ہیں ۔ جون کی  دیکھا دیکھی میں نے بھی ایک چھوٹا سا گیت لکھا جسے کراچی ریڈیو نے نشر کیا۔ وہ گیت تھا:

لالہ زارِ وطن میرے گلشن

اے بہاروں کے دل کش نشمین

یہ ایک قلمی جنگ تھی جس میں بڑے سے بڑا جغادری شاعر ، ادیب اور صحافی شریک تھا ۔ اُسی جہادی رو میں جمیل الدین عالی نے لکھا :

اے وطن کے سجیلے جوانو!

میرے نغمے تمہارے لیے ہیں

اس آزمائش کی گھڑی میں پوری قوم اُس جنگ میں شریک فوجیوں کے دوش بدوش ہر محاذ پر لڑ رہی تھی اور اپنے بہادروں اور دلیروں کا ہر طرح سے حوصلہ بڑھا رہی تھی ۔ لگتا تھا کہ ڈھاکہ سے راولپنڈی تک ، کوئٹہ سے پشاور تک اور لاہور سے کراچی تک ایک ہی قومی وجود ہے جو دشمن سے برسرِ پیکار ہے ۔ہم سب ایک فوجی صدر ایوب خان کی قیادت میں خوب لڑے ۔اس جنگ میں عام آدمی کا جذبہ  حُب الوطنی دیدنی تھا اور اہل قلم  اُن کے کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوئے تھے ۔ لاہور سے آوازیں آ رہی تھیں:

میریا ڈھول سپاہیا ، تینوں رب دیا رکھاں

ایہہ پُتر ہٹاں تے نہیں وِکدے

میرا چن ماہی کپتان نی

میرا ماہی چھیل چھبیلا ہائے نی کرنیل نی جرنیل نی

ہر قلم بانسری بنا اپنے جوانمردوں کے لیے نو بہ نو دھنیں تخلیق کر کے اُن کا حوصلہ بڑھا رہا تھا ۔ ستمبر ۶۵ کا پاکستان ایک مثالی پاکستان تھا ۔ چونکہ مسلمان کے لیے دفاعِ وطن ایک مذہبی اور مِلّی فریضہ ہے اس لیے ہر شخص بے تیغ و تفنگ لڑ رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ بقولِ اقبال:

ہفت کشور جس سے ہوں تسخیر بے تیغ و تفنگ

تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے

سپاہی لڑ رہا تھا ، صحافی لڑ رہا تھا ، شاعر لڑ رہا تھا ، مزدور اور محنت کش لڑ رہے تھے اور گھروں میں بیٹھی وفا کی دیویاں اپنے خوابوں اور دعاؤں سے اپنے سپاہیوں کی روحانی ڈھال بنی ہوئی تھیں ۔ تب چشمِ فلک نے دیکھا کہ یہ قوم اپنے سپاہیوں سے کتنی محبت کرتی ہے ۔ سپاہی سب کے ہیرو تھے ۔ سب کی آنکھوں کے تارے تھے ، سب کے دلوں میں بسے تھے ۔ لگتا تھا کہ یہ قوم اپنے سپاہیوں پر مر مٹی ہے ۔ شہید کی موت قوم کی حیات ہوتی ہے اور ہم اس جنگ میں من حیث القوم سرحدوں کے باہر اور اندر زندگی کے تعاقب میں تھے اور پورا پاکستان اپنے مشرقی اور مغربی دونوں  بازوؤں سمیت دشمن کے خلاف شعالہ جوالہ بنا سینہ سپر تھا ۔کس نے دیکھی ہے کبھی اتنی محبت جو کسی قوم نے اپنے سپاہیوں کی نذر کی ہو ۔ یہ پاکستانی تھے جو ٹینکوں کی راہ میں آنکھیں بچھاتے اور جیپوں کو اپنی ہتھیلیوں پر اُٹھائے پھرتے تھے ۔ لیکن اس جنگ کا انجام کیا ہوا ۔ اعلانِ تاشقبد۔ تب جالب نے کہا:

اعلانِ تاشقند کیے جا رہا ہوں میں

جو بولتا ہے بند کیے جا رہا ہوں میں

ائر مارشل اصغر  خان کے لہجے میں بھی شکایت تھی لیکن قوم کے دل میں اپنے سپاہی کے لیے صرف محبت تھی کیونکہ اقبال نے اُنہیں بتایا تھا کہ :

شہاد ت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

اب اس محبت کے باب میں جو اس قوم کو اپنی قومی سرحدوں کے محافظوں سے ہے ایک سُخن گسترانہ بات آن پڑی کہ ہمارا مومن کشور کشائی کا بھی  بڑا شوقین ہے ۔ چار بار مارشل لا لگایا اور سول سوسائٹی کو تاراج کیا اور بوٹوں تلے روندا ۔ آئین کو پامال کیا اور پورے پاکستان کو نیم فوجی رنگ میں رنگ دیا اور پھر انہی کی مہربانیوں سے طرح طرح کی مسلح مذہبی  تنظیمیں وجود میں آئیں جنہوں نے امن پسندی کو سرے سے ہی غیر ضروری قرار دے دیا ۔ چنانچہ جنگی جنون اور جذبات  نے دہشت گردی کا روپ دھار کر ملک کو تخریب کی راہ پر لگادیا اور اب گلی گلی ایسے وحشی درندے پل رہے ہیں جو ملکی امن کے لیے ایک لا ینحل مسئلہ بن کر رہ گئے ہیں ۔

غُربت کا مگر مچھ اپنا مونہہ کھولے کروڑوں انسانی جسموں کو نگل رہا ہے اور ڈھائی کروڑ کے قریب لوگ حضرت یونس ؑ کی طرح مفلسی کی مچھلی کے پیٹ میں قید ہیں جہاں سے دن رات یہ قرآنی کلمات سنائی دیتے ہیں : لا الہ الا انت سبحانک انی کُنت من الظالمین ۔ لیکن ان غریب پاکستانیوں کا حوصلہ دیکھو کہ وہ اس ھالت میں بھی اپنی سرحدوں کے محافظوں  سے محبت کرتے ہیں اور اس عشق میں یہ تک بھول جاتے ہیں کہ 1971 کے دسمبر میں کیا ہواتھا ۔ ڈھاکہ ڈوبنے کے بعد ایک لاکھ پاکستانی فوجی قیدی بنا کر بھارت لے جائے گئے تو ایک بار پھر اس قوم نے ان کے لیے اپنی محبت اور ہمدردی کے دریابہا دیے ۔ اُن کی رہائی کے لیے ایک باقاعدہ مہم شروع ہوئی ۔

اس بار ان کے لیے جو نغمے لکھے گئے وہ محبت سے زیادہ ہمدردی کے گیت تھے ۔وہ ساری محبتیں جو  فوجی جوانوں ، افسروں اور سپاہیوں کے لیے پاکستانی عوام اور اہلِ قلم کے دلوں میں ہیں ، تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں اور وہ فوجی قیادت کو یہ یاد دلاتی رہتی ہیں کہ محبت کا جواب محبت ہی ہوتا ہے سوہنیو !

اور اس سے زیادہ کہا ہی کیا جا سکتا ہے ۔

loading...