دشتِ آب کی کربلا

ہم ایک لاکھ تھے ہم نے تو سر جھکا ڈالے

حُسینؑ! تیرے بہتر سروں کو  لاکھ سلام

عدیم ہاشمی مرحوم

آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو تاریخی روایت کے مطابق یومِ عاشور ہے اور میدانِ کربلا میں حسین علیہ السلام کا خاندان اپنے جانثاروں کے ہمراہ  یزیدی افواج کے گھیرے میں محصور ہے اور گھمسان کا رن جاری ہے ۔

 تاریخ اس سانحے کو پچھلی سولہ قمری صدیوں سے دوہرا رہی ہے ۔ شہر وں شہروں اور ملکوں ملکوں حسینیت کا پرچم بلند کیا جا رہا ہے ۔ حق و صداقت کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں اور یزیدیت کی مذمت کی جارہی ہے ، یزید پر لعن طعن ہو رہی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان سولہ صدیوں میں ہم نے من حیث الاُمت ، اِس سانحے سے کیا سیکھا اور اُس سے اخذ کردہ سبق کو کس طرح اپنا اجتماعی رویہ بنایا ہے ۔ یہ محض سوال ہی نہیں بلکہ ایک چیلنج ہے جو ہمیں درپیش ہے ۔کربلا کے میدان میں خانوادہء حسین ؑ اپنے جانثاروں کے ساتھ حق و صداقت کا پرچم بلند کیے اُترا تھا  ۔ وہ بہتر افراد یزیدی چیرہ دستی اور موروثی ملوکیت کے بر عکس بندگانِ خُدا اور جملہ جمعییتِ اسلامیہ کے ہر فرد کے جمہوری حق کی علامت تھے جو ہر صاحبِ ایمان کو اُس کا حقِ زندگی دلانا چاہتے تھے ۔

حقِ زندگی ایک معماتی اصطلاح ہے جو ایک طرف تو ہر شخص کی مادی ضرورتوں کی ضمانت کا منشور ہے ۔ یہ  من و عن  وہی مادی ضرورتیں ہیں جو اس دور میں روٹی ، کپڑا ، مکان ، تعلیم اور طبی سہولتوں کی فہرست کی صورت میں مرتب ہیں جبکہ حقوق کی میزان کے دوسرے پلڑے میں ہر شخص کی روحانی ، اخلاقی اور ایمانی ضرورتیں ہیں جن کو مادی ضروتوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ موضوع اور معروض کے درمیان توازن برقرار رہے اور آدمی اپنی بشری سطح سے گر کر جانوروں کی اقلیم کا قیدی نہ بن جائے ۔ دین اود نیا کی تعریف حضرت نور والے علیہ رحمت نے نہایت آسان لفظوں میں بیان کر کے سمجھائی تھی ۔ فرماتے ہیں :

اگر زندگی کو اپنی خواہشِ نفس کے مطابق گزارا جائے تو دنیا ہے اور اگر زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے گزارا جائےتو یہ دین ہے ۔

کربلا کے میدان میں ایک طرف دنیا تھی جو یزیدی افواج کی صورت میں دین کا محاصرہ کیے ہوئے تھی  اور دوسری طرف دین تھا  اور اس معرکے میں دینِ حق دنیا داری کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کر گیا ۔

کربلا کے میدان کا ایک المیہ یہ تھا کہ یزیدی افواج نے خانوادہ ء حسین ؑ کے لیے پینے کا پانی بند کردیا تھا ۔ چنانچہ پیاس وہ ہتھیار تھا جس نے کربلا کے میدان میں شیرخواروں سے زندگی چھین لی تھی ۔ اور آج کا منظر نامہ یہ ہے کہ پاکستان میں اہلِ کراچی دشتِ آب میں محصور ، افراطِ آب کا شکار ہیں اور یہ آبی موت کروڑوں لوگوں کی چار جانب سے گھیرے ہوئے ہے ۔ اس قدر پانی ہے کہ زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے ۔ لوگ بجلی کے ننگے تاروں کی بے رحمی کے ہاتھوں مر رہے ہیں ۔  کہیں گندے نالے معصوم بچوں کو کھا رہے ہیں ۔ غلاظت اور نجاست کچرا کنڈیوں سے نکل کر گلی کوچوں سے ہوتی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو گئی اور یہ زہر کرونا سے بھی بے رحم ہے ۔ اور دشتِ آب کی یہ کربلا سندھ کے حُکمرانوں نے ستر برس کی محنتِ شاقہ سے تعمیر کی ہے ۔

 خُدا جانے سندھ کے سید حکمران کو نیند کیسے آتی ہے جبکہ اُس کا سیاسی پیشوا بلاول زرداری  بھٹو اُسے مسلسل ہدایات دیتا رہتا ہے ۔سندھ کے ان حکمرانوں نے جو مابعدِ ذوالفقار علی بھٹو ، اقتدار پر قابض ہوئے ، اپنی املاک اور جمع پونجی تو بڑھاتے چلے گئے مگر عام آدمی سے زندہ رہنے کا حق تک چھین لیا اور یہ سب کچھ الطاف بھائی لندن والے کے ساتھ ملی بھگت کر کے کیا گیا ۔ اور یہ سب کیسے اور کیوں ہورہا ہے جب کہ پاکستان مین حسینیت کا اس قدر چرچا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہےکہ مظلوموں کو تکلیف اور اِذیت میں رکھنا یزیدیت ہے مگر ہم اپنے سیاسی بیانات میں ھسینی بن جاتے ہیں جب کہ اپنے روایتی جاگیردارانہ اور وڈیرانہ طرزِ زندگی میں سخت اور کٹھور قسم کے یزیدی ہیں ۔

ہم لوگ جو پچھلی پندرہ صدیوں سے حسینیت کا پرچم اُٹھائے یزیدیت کی مذمت کرتے چلے آئے ہیں ، در اصل یزیدیت اور حسینیت کے درمیان ایک تیسری راہ کے راہی ہیں ۔ یعنی  منافقت کے راستے کے راہی ۔ ہم خُدا کو بھی خوش رکھنا چاہتے ہیں اور شیطان کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے ۔ اگر ہم کربلا کے استعارے کو سچ مچ سمجھ گئے ہوتے تو ہمارے معاشروں سے تمام یزیدی روایات مٹ چکی ہوتیں ، معدوم ہو چکی ہوتیں اور ہمارا معاشرہ ایک پاکیزہ حسینی معاشرہ بن چکا  ہوتا جہاں خُدا کی حکمرانی ہوتی ، قرآن کا آئین اور قانون  چلتا  اور خُدا کے حضور بندوں اور آقاؤں میں  کوئی تمیز نہ ہوتی ۔ سیاسی محمود و ایاز ایک ہی صف میں یکساں عجز و انکسار سے کھڑے ہوتے اور پروٹوکول کا غرور اور کبر نام کو نہ ہوتا ۔ ہم سب حسینیت کے پرچم تلے ایک اور نیک ہوتے اور دنیا بھر کے جمہوری ادارے ہم سے جمہوریت کا سبق سیکھتے ۔

مگر افسوس ہمارے لیے حسینیت اور یزیدیت دو سیاسی استعارے ، نعرے اور ہتھکنڈے  بن گئے ہیں جنہیں حکمران حسبِ ضرورت استعمال کر کے مظلوموں کا استحصال کرتے ہیں  ۔ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ حسینیت کی یہ روایتی یاد ہمارے معاشرے کو یزیدیت سے پاک کر کے ایک خالص ، پاکیزہ اور مضبوط حسینی معاشرہ نہیں بنا سکی ۔ اور ہم آج بھی آہوں ، آنسوؤں اور سسکیوں کے درمیان یزیدانِ عصر کی قید میں ہیں اور نہ جانے کب تک رہیں گے:

ہر شمر کے ہاتھوں میں ہے خنجر سرِ کوچہ

مولا کی قسم لوگ شکایت نہیں کرتے

ہم سہل طلب مدحت و ماتم کے گرفتار

اور جاں میں بپا اپنی ، قیامت نہیں کرتے

شبیر کے پرچم کی قسم کھاتے مسعود

شبیر ؑ کے پرچم کی حفاظت نہیں کرتے

loading...