خوابوں کے کھلاڑی

ہم خواب دیکھنے والی قوم ہیں ۔ جو لوگ جاگتے میں خواب دیکھتے ہیں،  خوابیدہ لوگ ہوتے ہیں ۔ سوئے ہوئے اونگھتے ہوئے جماہیاں لیتے  اور انگڑائیاں لیتے ہوئے لوگ جو ہر خیال سے ایک اُمید وابستہ کرلیتے ہیں۔ پہلے ہم نے خواب دیکھا کہ علامہ اقبال نے ایک جنت نظیر مسلمان ریاست کا خواب دیکھا ہے ۔

ہر چند کہ فرزندِ اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم نے صاٖف اور واشگاف کہہ دیا تھا  کہ اُن کے والد نے کوئی خواب نہیں دیکھا تھا لیکن ہم جو خوابوں کی سرزمین کے بلا شرکتِ غیرے مالک ہیں اپنے خوابوں کو  تیاگنے اور دست بردار ہونے پر تیار نہیں ہیں ۔ ہم اپنی بے پناہ عقیدت  کی جذباتی رو میں اپنے خوابوں کو ولیوں ، نبیوں اور اکابرینِ ملت سے منسوب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔

اب ایک نیا خواب زیرِ تعمیر ہے ۔ مدینے کی ریاست کا خواب ۔ اُس ریاست کا خواب جو اب مدینے میں بھی باقی نہیں رہی ۔ مدینے کا کُل اثاثہ فی الوقت  پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ  مبارک ہے ، جس کی زیارت یا تو دولت مندوں کو نصیب ہوتی ہے یا نصیب والوں کو ۔ اور یہ نصیب والے یا تو سیاسی لوگ ہوتے ہیں  یا پھر میڈیا والے جن کو مدینے کی زیارت بیت المال سے کروا دی جاتی ہے ۔ اور وہ کروڑوں مسلمان جن کو دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں ہوتی ، سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کبھی مدینے کا سفر کر سکیں گے ۔ اگر وہ پیدل بھی چلنے کا ارادہ کریں تو زادِ راہ کہاں سے لائیں ۔ مدینے کی زیارت تو اقبال کو بھی نصیب نہیں ہوئی  اور قائد اعظم کو بھی نہیں حالانکہ وہ دونوں صاحبِ استطاعت تھے ۔ شاید وہ بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو مدینتہ النبی ؐ کی زیارت کی حسرت دل میں لیے وہ قوالی سُنتے اور سر دھنتے ہیں کہ :

میرے مولا ! بُلا لو مدینے مجھے

لیکن اس سلسلے میں ایک بے حد فکر انگیز واقعہ ہے  جو حیران کردیتا ہے ۔ روایت ہے کہ حضرت با یزید بسطامی ایک صوفی بزرگ تھے جو عراق کے شہر بسطام میں رہتے تھے ۔ اُنہوں نے حج کا ارادہ  کیا ، زادِ راہ لیا اور گھر سے نکلے کہ حجِ بیت اللہ کے لیے مکہ کا عزم کریں گے ۔ اس زمانے لوگ پیدل یا گھوڑے گدھے کی سواری پر کیا کرتے تھے ۔ بایزید زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ اںہیں ایک شخص دکھائی دیا جس نے بایزید کو مؤدبانہ سلام پیش کیا اور پوچھا کہ کہاں کا قصد ہے تو  بایزید نے بتایا کہ وہ حج کے لیے جا رہے ہیں ۔ اُس نے کہا  کہ کتنا زادِ راہ ہے آپ کے پاس ؟ تو آپ نے رقم بتائی تو اس شخص نے کہا کہ لاؤ ، یہ رقم مجھے دیجے ، کیونکہ اس کا حق دار میں زیادہ ہوں ۔ آپ میرے گرد طواف کیجیے اور گھر جایئے ، کیونکہ مجھے اس رقم سے اپنی بیٹی بیاہنی ہے ۔ بایزید  نے رقم سائل کے حوالے کی ،  اس کے گرد سات بار طواف کیا اور گھر واپس لوٹ گئے ۔ اس واقع کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ حضرت بسطامی نے بارِ دگر حج کا قصد کیا اور  سوئے مکہ چل دیے ۔ راستے میں جنگل پڑا جس میں ایک لمبی داڑھی والا لکڑ ہارا لکڑیاں کاٹ رہا تھا ۔ اُس نے پوچھا کہ با یزید ! کہا ں چلے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ حج کا ارادہ ہے ۔ اس پر لکڑ ہارے نے درخت سے توجہ ہٹائی ، کلہاڑا کندھے پر رکھا اور بولا : با یزید ! اگر تم نے ایک قدم آگے بڑھایا تو میں تمہاری ٹانک کاٹ دوں گا ۔ اس پر آپؒ نے استفسار کیا کہ آخر کیوں ؟ تو لکڑ ہارا بولا کہ تمہارا رب تمہارے گاؤں بسطام میں رہتا ہے اور تم مکے کی عمارت دیکھنے جا رہے ہو ؟ مجھے مزید معلوم نہیں کہ پھر کیا ہوا لیکن بایزید واپس لوٹ گئے  کیونکہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اویس قرنی ؓ کی طرح بھی ہو سکتی ہے ، جبکہ  ابو لہب اور ابو جہل  کو مدینے والے کی شفاعت نصیب نہیں ہو سکتی ۔

مدینہ ایک استعارہ ہے اور مہاجر ہونے کی اہمیت اور نوعیت یہ ہے کہ برائی کے شہر کو چھوڑ کر نیکی کے شہر کی طرف ہجرت کی جائے ۔ تاریخ میں رقم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو صحابی ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ پہنچے تو اُنہوں نے ہجرت کی بنا پر خود کو دوسروں سے افضل جاننا شروع کردیا اور اس کا اظہار بھی برملا کیا تو ادارہ ء رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحتی  فرمان جاری ہوا کہ اصل مہاجر وہ ہے جس نے خطا کے شہر کو چھوڑ دیا ۔ شہرِ خطا سے شہر عطا کا سفر دشوار مرحلہ ہے ۔ لوگ اپنے خاکی وجود کو سہولت سے بدل لیتے ہیں کیونکہ وہ دکھائی دیتا ہے مگر روحانی اور اخلاقی وجود کو بدلنا مشکل ہوتا ہے ۔ چنانچہ ظاہر کو بدلنا لباس بدلنے سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہوتا ۔ لیکن مدینے کی ریاست میں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں قائم ہوئی دلوں اور اخلاقی وجود کو بدلنا ہی ہجرت کا پہلا سبق تھا ۔

اُن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخات کا سبق دیا کہ مہاجر اور انصار بھائی بھائی ہیں ۔ چنانچہ انصار بھائیوں نے مہاجر بھائیوں کے ساتھ اپنا سب کچھ ایسے تقسیم کرلیا جیسے ایک باپ کی سگی اولاد اپنے موروثی ورثے کو برابر تقسیم کرتی ہے ۔ چنانچہ ایسے معجزے بھی رونما ہوئے کہ بعض دریا دل انصار  نے جن کی دو بیویاں تھیں ، ایک بیوی مہاجر بھائی کو دے دی کہ وہ اس سے نکاح کر لے اور خود اسے برضا و رغبت طلاق دے دی ۔ مگر ہمارے خوابوں میں وہ مواخات کہیں موجود نہیں ۔ ہم نے پچھلے بہتر سالوں میں خطِ غربت سے نیچے سسکنے والوں کی ایک باقاعدہ الگ قوم قائم کر لی ہے اور اس وقت بھی پاکستان میں دو قومیں آباد ہیں جن میں سے ایک خطِ غربت کے نیچے رہتی ہے جن کے لگ بھگ ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں  اور دوسری خطِ افراطِ مال ددولت سے بہت اوپر رہتی ہے جن کے بچے یورپ اور امریکہ میں پڑھتے ہیں۔ اور یہ صورتِ حال گواہ ہے کہ پاکستان میں دو قومیں آباد ہیں اور یہ دو قومی نظریے کی نئی جہت ہے ۔ اگرچہ امارت اور غربت کا یہ فر ق اسلام کے نظریہ  مواخات اور اور اصولِ مساوات کی تردید پر مبنی ہے مگر اس کی پرواہ کون کرتا ہے ۔ ہم تو اپنے خواب میں مست ہیں کہ ہم دنیا کی بہترین اُمت ہیں اور ہمارے لیے یہ زبانی بیانیہ ہی کافی ہے کہ :

خوار ہیں ، بدکار ہیں ، ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں

کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوبؐ کی اُمت تو ہیں

حالانکہ جو شخص محبوبؐ کی اُمت میں شامل ہو وہ خوار ، بدکار اور ذلت میں ڈوبا ہوا کیسے ہو سکتا ہے مگر ہم جو مونہہ زبانی مسلمان ہیں ہمارا اسلام وہ نہیں ہے جو ابو زر غفاریؓ ، سلمان فارسیؓ اور بلال حبشیؓ کا تھا ۔ چنانچہ ہمارا مدینے کی ریاست کا خواب کیا اور ہماری دینی اوقات کیا ۔ مگر ہم نئے عہد کے پندھرویں صدی ہجری کے مسلمان ہیں اور پندرہ صدیوں کی جمی ہوئی گرد ہمیں قوالی سے آگے جانے نہیں دیتی اور نہ ہی ہماری دعائیں قبول ہوتی ہیں َتو بقول اقبال ہم یہی کہ سکتے ہیں :

اے بادِ صبا ! کملی والےؐ سے جا کہیو ،  پیغام مرا

قبضے سے اُمت بے چاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی

ہم بے چارے خوابوں کے کھلاڑی ہیں ۔ ہماری اس سے بڑھ کر اوقات ہی کیا ہے ۔

loading...