کورونا کا زور ٹوٹنے پر پاکستان میں کاروبار زندگی بحال کردیا گیا

  • جمعرات 06 / اگست / 2020
  • 1250

کورونا وائرس کا زور ٹوٹنے کے بعددحکومتِ پاکستان حکومت آٹھ اگست سے سیاحتی مقامات اور 10 اگست سے ریستوران، کیفے اور تفریحی مقامات کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

کورونا وائرس پر قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا۔ اسد عمر نے کہا کہ ملک بھر میں سیاحتی مقامات آٹھ اگست سے کھول دیے جائیں گے جب کہ سنیما گھر، ریستورانوں میں ڈائن اِن، کیفے، پارکس، میوزیم اور دیگر تفریحی مقامات 10 اگست سے کھولنے کی اجازت ہو گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جمنازیم اور اِن ڈور گیمز کی بھی اجازت ہو گی۔ البتہ کھیلوں کے مقابلے شائقین کے بغیر ہوں گے۔  تعلیمی ادارے  15 ستمبر سے کھلیں گے۔ سات ستمبر کو صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد سات لاکھ  آٹھ ہزارسے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 88 لاکھ سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21 اموات اور 727 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بدھ کو 15 ہزار کرونا ٹیسٹس کیے گئے جن میں سے 727 مثبت آئے۔​

بھارت میں مسلسل آٹھویں روز 50 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ بدھ کو ریکارڈ اموات بھی ہوئی ہیں۔ برازیل میں کورونا سے ہلاکتیں ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں 24 ہزار طبّی اہلکار کورونا کا شکار ہو چکے ہیں۔ افغانستان کی وزارتِ صحت کی جائزہ رپورٹ میں ملک کی ایک تہائی آبادی کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

امریکہ میں اعلیٰ ترین طبّی مشیر اور ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ دنیا سے کورونا وائرس کا مکمل خاتمہ کبھی بھی نہیں ہو پائے گا۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ اس وائرس کے ختم نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ متعدی نوعیت کا وائرس ہے۔ یہ بہت آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔

مؤثر ویکسین کی تیاری اور مناسب احتیاطی تدابیر سے کورونا وائرس کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔  ڈاکٹر فاؤچی نے مزید کہا کہ 2021 کے بعد اس وائرس پر بڑی حد تک قابو پالینے کے امکانات موجود ہیں۔ وہ پر امید ہیں کہ اس وقت تک کورونا وائرس کی ایک مؤثر ویکسین تیار کر لی جائے گی۔

ڈاکٹر فاؤچی نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال کے آغاز میں کورونا ویکسین کی کروڑوں خوراکیں دستیاب ہوں گی اور 2021 کے اختتام تک دوا ساز کمپنیاں ایک ارب خوراکیں تیار کر سکیں گی۔  ادھر امریکہ کی معروف دوا ساز کمپنی 'جانسن اینڈ جانسن' نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے ساتھ 10 کروڑ خوراکیں تیار کرنے کا معاہدہ کر چکی ہے۔ اس معاہدے کے تحت یہ کمپنی بعد میں ایک ارب خوراکیں تیار کرے گی۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ نوجوانوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر سے لے کر جولائی کے وسط تک کورونا وائرس کا شکار ہونے والے 60 لاکھ افراد میں سے 15 فی صد کی عمر 15 سے 24 سال کے درمیان ہے جب کہ اس سے قبل یہ شرح 4.5 فی صد تھی۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم نے منگل کو نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ادارہ پہلے بھی خبردار کر چکا ہے کہ نوجوان اس بیماری کے خلاف ناقابل تسخیر نہیں ہیں۔ نوجوان اس سے متاثر بھی ہو سکتے ہیں اور شدید بیمار ہو کر موت کے منہ میں بھی جا سکتے ہیں۔  نوجوانوں کو بھی اسی طرح احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جس طرح کی احتیاط زیادہ عمر کے افراد کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا رجحان کم دیکھا گیا ہے جب کہ نوجوان کام پر جانے کے علاوہ، شاپنگ، بارز اور ساحل پر بھی زیادہ جاتے ہیں۔

loading...