فیس بک اور ٹوئٹر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس ہٹا دیں

  • جمعرات 06 / اگست / 2020
  • 1810

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئٹر نے کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات شیئر کرنے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس ہٹا دی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ترجمان نے اسے سوشل میڈیا کا متعصبانہ رویہ قرار دیا ہے۔

فیس بک سے بدھ کو ہٹائی جانے والی پوسٹ صدر ٹرمپ کے ایک ویڈیو انٹرویو پر مشتمل تھی جس میں صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے تھے کہ چھوٹے بچوں کو کرونا وائرس نہیں ہوتا۔  فیس بک کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ویڈیو گمراہ کن تھی جس میں کہا جا رہا تھا کہ ایک مخصوص گروپ کو کورونا وائرس نہیں ہو سکتا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ویڈیو کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات کی روک تھام کے سلسلے میں کمپنی کی پالیسی کی خلاف ورزی تھی۔ پہلا موقع ہے کہ صدر ٹرمپ کی کرونا وائرس سے متعلق گمراہ کن پوسٹ ہٹائی گئی ہے۔

اسی طرح کی ایک ویڈیو صدر ٹرمپ کی کمپین ٹیم نے بھی ٹوئٹر پر پوسٹ کی تھی جسے صدر ٹرمپ نے ری ٹوئٹ کیا تھا۔  بعدازاں ٹوئٹر نے اس ویڈیو کو کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات کے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ہٹا دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ترجمان کورٹنی پریلا نے الزام عائد کیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیز صدر ٹرمپ کے لیے متعصب ہیں۔ اُن کے بقول صدر ٹرمپ نے صرف حقیقت بیان کی ہے اور سوشل میڈیا کمپنیاں سچائی کی ثالث نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ بچوں پر کورونا وائرس کا بہت کم اثر ہوتا ہے۔  بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بچے بہت اچھے طریقے سے کورونا وبا سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ اگر آپ کورونا سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ بچوں کی قوتِ مدافعت بہت مضبوط ہوتی ہے اور وہ کورونا سے بہت کم متاثر ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 24 فروری سے 12 جولائی 2020 تک ساٹھ لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جن میں پانچ سے 14 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد تقریباً چار اعشاریہ آٹھ فی صد تھی۔  امریکہ کے وبائی امراض کے ادارے 'سی ڈی سی' نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے زیادہ تر بالغ افراد متاثر ہوئے ہیں تاہم یہ وبا بچوں سے دیگر افراد میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔

loading...