صرف دو افراد اصل مسئلہ نہیں!

کئی ماہ سے  سامنے آنے والی  خبریں اور  انکشافات چغلی کھا رہے تھے کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں  کچھ پراسرار  رونما ہونے  والا ہے۔ چند روز قبل جب حکومت نے اپنے تمام مشیران  کی شہریت اور اثاثوں کا اعلان  کیا تو  اپوزیشن اور میڈیا  میں اس موضوع  نے خوب رنگ جمایا۔

 اگلے پچھلے کلپس اور بیانات مع تاریخ ِ  نشر و اشاعت  سے  یہ رنگ  مزید چوکھا  آیا۔ سیاسی کارزار کی گرمی  نے زور پکڑا تو معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کے دو مشیرانِ خصوصی نے اپنا  اپنا استعفی حکومت  کو پکڑا دیا  ہے۔  اب ایک اور بحث شروع  ہو گئی کہ استعفیٰ دیا نہیں لیا گیا ہے،  تانیہ ایدروس  کے بارے میں  عین الیقین کے ساتھ کئی  خبروں میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے سامنے استعفیٰ  کے لئے کاغذ رکھا گیا، انہوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم سے بات کرنے پر اصرار کیا مگر انہیں بتلایا گیا ہے کہ آپ کا استعفیٰ چوائس نہیں ہے۔ سو، مجبوراٌ انہوں نے استعفیٰ  لکھ دیا۔ بعد ازاں ٹویٹر پر انہوں نے اپنے استعفیٰ کی  کاپی شئیر کرتے ہوئے میڈیا میں ان کی دوہری شہریت پر ہونے والی تنقید کو  اپنے اس اقدام کی وجہ ٹھہرایا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے  اپنے استعفیٰ میں میڈیا  ٹرائل کو ہی اپنے اقدام کی وجہ بیان کیا۔ استعفیٰ  کے متن میں یہ تاسف بھی  تھا کہ  ورلڈ  ہیلتھ  آرگنائزیشن میں ڈائریکٹر کی ملازمت  کر رہا  تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی  خصوصی فرمائش پر ملک کی خدمت کرنے حاضر ہوگیا مگر  کچھ عرصے سے میڈیا میں تنقید کی بوچھاڑ نے بے مزہ کیا، بہت ہو گئی اس لئے  بقول احمد فراز۔۔ ہم نے آداب کیا  اور اجازت چاہی۔

یہ تو تھیں وہ رسمی وجوہات جو استعفیٰ کا متن اور  سوشل میڈیا کی زینت بنیں مگر  زبانِ خلق  پر جو افسانے تھے ان کے مطابق  جتنے منہ اتنی وجوہات سامنے آئیں۔   ایک تو یہ کہ  تانیہ ایدروس کا جہانگیر ترین کی وساطت سے وزیر اعظم سے تعارف ہوا تھا لہذٰا   اُن کے سائیڈ پر ہوتے ہی  اِن کے سر سے سائبان سرک گیا۔  دوسرے یہ کہ دوہری شہریت کی  حقیقت سامنے آنے کے بعد ہونے والی تنقید پر حکومت کو سبکی کا سامنا تھا، لہٰذا  سیاسی بوجھ ہلکا کرنے کا  فوری راستہ یہی تھا۔ تیسرے یہ کہ  ڈیجیٹل پاکستان فاؤنڈیشن کی بطور این جی او  رجسٹریشن کی صورت میں مفادات کا ٹکراؤ  سامنے آگیا۔  چوتھے یہ کہ ان سے توقع تھی کہ دنیا کے بڑے ڈونرز سے اس پروگرام کے لئے  فنڈز اکٹھے کریں گی لیکن ان  کی کارکردگی  مایوس کن رہی وغیرہ وغیرہ۔ یہ  خبر بھی زبان زدِعام رہی کہ ڈیجیٹل  پاکستان ویژن کا بجٹ اور دفاتر کا  مناسب سیٹ اپ تک مخصوص نہ  کیا گیا   مگر معجزوں کی توقع  باندھ لی گئی۔آئی ٹی وزرت کے ساتھ  اختیارات کا جھگڑالگ  جاری رہا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا پر بھی  اسی طرح کی فرد جرم گردش کرتی  رہی:   کروناکنٹرول  کرنے میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ مزید یہ کہ وہ دوائیوں کی قیمتیں کم کرنے میں  بھی کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ  یہ کہ بھارت سے لائف سیونگ ڈرگز   کے خام مال کی امپورٹ   اور ماسک برآمد  کروانے میں ان کے مبینہ  کردار  سے ان کی شخصیت متازع ہو گئی،  لہٰذا ایک ہی حل تھا  یعنی  استعفیٰ۔

سیاست اور حکومت کے اکھاڑے میں ایک بار شروع ہونے والی بات آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔ میڈیا کے چند جغادری صحافی دو تین  اور وکٹیں گرنے کی پیشین گوئیاں کر رہے ہیں۔  حکومت کے تقریباٌ دو سال مکمل ہونے کو ہیں۔  اس مناسبت سے حکومت کی کارکردگی پر اپوزیشن اور میڈیا نے بہت کھل کر تنقید کی۔ بات بالآخر ٹیم سے ہوتی ہوئی وزیر اعظم  تک پہنچ جاتی ہے کہ اگر ٹیم پرفارم نہیں کر رہی تو یہ بھی  کپتان کی ذمہ داری ہے۔ حکومت پر دوسالہ کارکردگی کا بوجھ اب  واضح ہے۔ ماضی میں بھی حکومتیں دو اڑھائی سال کے بعد اپنی ٹیم  میں اتھل پتھل کرتی آئی ہیں تاکہ تنقید کا رخ  کچھ دیر کے لئے موڑا جا سکے۔ موجودہ حکومت میں بھی ان امکانات کے اشارے واضح ہیں۔ 

وفاقی وزیر برائے سائنس ایند ٹیکنالوجی  کے ایک انٹرویو نے تو کئی روز تک رونق لگائے رکھی کہ وزیراعظم نے سختی سے چھ ماہ میں کارکردگی دکھانے یا پھر  گھر جانے  کا عندیہ دیا ہے۔  ایسے میں حکومتی ٹیم میں کچھ تبدیلیاں انہونی نہیں البتہ جس انداز میں دیارِ غیرسے  معروف  ٹیکنوکریٹس  کو بلا کر انہیں چند مہینوں بعد راستہ دکھایا گیا، وہ انداز اور طریقہ کار  یقینا قابل رشک نہیں۔  پی ٹی آئی کی فنڈنگ  میں سال ہا سال سے سمندر پار پاکستانیوں کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے  بار بار غیر ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں، ٹیکنو کریٹس اور سرمایہ کاروں  کومخاطب کیا۔  اپوزیشن میں  رہتے ہو ئے تو انہوں نے بار بار دو سو سے زائد ٹیکنوکریٹس کا ذکر کیا جو پاکستان آکر اس کی قسمت سنوارنے کے لئے  تیار ہیں۔ مگر جس انداز میں ان دو  ٹیکنوکریٹس  کو راستہ دکھایا گیا ہے اس سے یقینا غیر ممالک میں پاکستانیوں کو  پی ٹی آئی  کے اپنے بیانیے کے خلاف پیغام گیا ہے۔

مکافاتِ عمل ہے کہ دوہری شہریت کے خلاف پی ٹی آئی کا  غیر لچکدار موقف  اور بیانیہ اب اس کے پاؤں کی زنجیر ہے۔ تانیہ ایدروس کو دعوت دیتے وقت کیا اس کی شہریت سے پی ٹی آئی قیادت لا علم تھی؟ اگر معلوم تھا تو انہیں  مقرر کرنے کی ضرورت کیا  تھی اور اگر معلوم نہ تھا تو یہ ایک سنگین غلطی تھی۔  بیرون ملک سے  اچھی پوزیشنوں پر کام کرنے والوں کو مدعو کرنے اور ان کی حکومت کی شمولیت  پر داد  اپنی جگہ، مگر بعد  میں ا ن  ماہرین  کو  پارٹی کے اندر کھینچا تانی کے ماحول  سے الگ رکھنا بھی تو قیادت کی ذمہ دار ی ہے۔ٹیکنو کریٹس  کاپارٹی  کے اندرونی جوار بھاٹے کے بعد  دوسرا  واسطہ بیوروکریسی سے پڑتا ہے جو اپنے مخصوص انداز میں حکومتی ڈھانچے  اور طریقہ کار پر مکمل گرفت رکھتی ہے۔ ماضی اور حال گواہ ہے کہ  بیوروکریسی  ایسی تقرریوں  کا راستہ کاٹنا خوب جانتی ہے، اس کے لئے درکار  تدبیر اور   تدبر میں انہیں ملکہ حاصل ہے۔ 

مسئلہ ان دو ماہرین کی رخصتی کا نہیں بلکہ اصل مسئلہ اس نظام کا ہے  جس میں ہر حال میں مقدم  سیاسی  مفادات، پارٹی کی  گروہی سیاست   اور بیوروکریسی  کی گرفت  پر ہی ہر تان توٹتی ہے۔ اس بار بھی کچھ الگ نہیں ہوا، آنے والے کچھ مہینوں میں اگر چند اور ٹیکنوکریٹس  کو بھی  راستہ دکھایا گیا تو بھی حیرانی نہیں  ہونی چاہئے۔  

loading...