خانہ بدوشی میں نانی اماں والی عید؟

’اماں، عید کے دن میٹھے میں کیا بنائیں گی آپ؟‘

’ارے بیٹا تم لوگ تو ہو نہیں تو کیا اہتمام کروں، آئس کریم سے کام چل جائے گا‘

صاحب اپنوں سے سات سمندر دور رہنے کا قطعی یہ معنی نہیں کہ دور کی خبر ہی نہ لی جائے۔ سو یہ گفتگو عید سے ایک دن پہلے ماں بیٹی کے درمیان ہو رہی تھی۔

’ارے اماں، آپ سویوں کے بنا عید کیسے منا سکتی ہیں؟ بھول گئیں نانی اماں کی بنائی ہوئی سویاں‘

یک لخت دل پہ گھونسا سا لگا:  ’اماں اور سویاں… میں کیا فراموش کر بیٹھی‘۔

خانہ بدوشی کا المیہ یہ ہے کہ وہ لمحات جن میں زندگی کا رس قطرہ قطرہ پیا جاتا ہے، پیچھے رہ جاتے ہیں اور مسافر کسی اور منزل کو چل پڑتا ہے۔ وہ سب پل، دن، ہفتے، مہینے اور برس طاق پہ رکھی ہوئی البم کا حصہ بن جاتے ہیں جن پہ ماہ و سال کی جمع ہوتی گرد انہیں اوجھل کرتی جاتی ہے۔ وقت وہ ظالم دیو ہے جس کی قید سے کوئی واپس نہیں جا سکتا اور یوں فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ایک لفظ یا کوئی جملہ یا کوئی بھولا بھٹکا خیال کہیں سے در آتا ہے۔ نہ جانے ضرب پہنچتی ہے یا دستک کا ارتعاش، کہ کچھ مٹی مٹی سی تصویریں طاق سے ازخود گر پڑتی ہیں جن کی گرد جھاڑ کے ہم انہیں دوبارہ سینے سے لگا لیتے ہیں۔

سویوں کو ہماری اماں کی زندگی میں ایک خاص اہمیت حاصل تھی۔ سب سے پہلی یاد جو در دل پہ اترتی ہے وہ اس مہک کی ہے جو گھر میں پھیل رہی ہوتی جب ہم سکول سے آنے کے بعد کچھ دیر سو کے اٹھتے اور خبر ملتی کہ گھر میں بغیر اطلاع کے آنے والے مہمانوں کی ایک ٹولی تشریف لا چکی ہے۔ اماں ابا دونوں کا تعلق وسطی پنجاب کے دیہات سے تھا سو وسیع برادری میں جس کسی کو طبی سہولیات چاہیے ہوتیں، روزگار ڈھونڈنا ہوتا، یا تعلیم کے سلسلے میں مدد درکار ہوتی، ان سب کو شوکت کاظمی اور عظمت سیدہ کے گھر پہنچنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوتی۔ سب دور و نزدیک والے جانتے تھے کہ در دل بھی کشادہ ہے اور در خانہ بھی۔

مہمان عموماً شام کو پہنچتے سو اماں فوراً رات کے کھانے کی تیاری میں جٹ جاتیں۔ میٹھا بنانا لازم تھا کہ یہ روایت تھی۔ حلوہ بنے گا یا سویاں، اس کا فیصلہ اشیاۓ خوردونوش کی الماری میں سوجی یا سویوں کی موجودگی کرتی۔ دیسی گھی میں کڑکڑاتی الائچیوں کی خوشبو پورے گھر میں پھیل جاتی اور ہمیں اپنے کمرے میں ہی پتہ چل جاتا کہ اماں کے ہاتھ کا بنا ہوا سویوں کا قوامی زردہ دم پہ رکھا جا چکا ہے۔

سویوں سے وابستہ دوسری یاد ان پوٹلیوں کی ہے جو عید آنے سے پہلے اماں تیار کرتیں۔ کئی دن پہلے اماں کے بازاروں کے چکر بڑھ جاتے، سویوں کے پیکٹ، چینی اور بادام کے لفافے، چوڑیاں،مہندی۔ ہم حیرانی سے دیکھتے ہوئے سوال کرتے کہ اتنی بہت سی چیزیں کس لئے ؟ اماں مسکرا کے کہتیں، عیدی تیار ہو رہی ہے۔ عقدہ اس دن کھلتا جب عید سے ایک دو دن پہلے اماں عیدی بانٹنے کے مشن پہ روانہ ہوتیں۔ اماں اور ابا کے بہت سے رشتے داروں کی بیٹیاں شہر میں موجود تھیں اور اماں ابا خود کو ان کا میکہ قرار دیتے ہوئے عید سے پہلے روایتی عیدی ان کو پہنچانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ سالہا سال روا رکھی جانے والی روایت کبھی کبھار ہمیں کھلتی کہ رشتے داروں کی بیٹیوں کے لئے اتنا تردد کیوں؟ ہمارے بہت سے اعتراضات کے جواب میں وہ کہتیں:

’بیٹا، یہ جو بیٹیاں ہوتی ہیں نا ان کے دل بہت نازک ہوتے ہیں۔ وہ ماں باپ کی دہلیز سے رخصت تو ہو جاتی ہیں لیکن ان کے دل اس آہٹ پہ دھڑکتے ہیں جو میکے کی طرف سے آئے۔ زندگی کے سرد و گرم کا سامنا کرتے ہوئے بیٹیوں کو میکے کی طرف سے محبت کے جھونکے کا انتظار رہتا ہے۔ تہوار وہ موقع ہوتا ہے کہ ہم کسی کو اپنی محبت کا احساس دلائیں۔ مانا کہ ہم ان کے والدین نہیں لیکن کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے عید کی خوشیاں کشید کر سکیں۔ کوئی بھی کسی چیز کا بھوکا نہیں ہوتا، یہ تو فقط محبت کے استعارے ہیں‘۔

اگلی یاد عید کی صبح کی ہے۔ ہمارے گھر سویوں کے بغیر عید کے ناشتے کا تصور نا ممکن تھا۔ شیر خورما بھی بنتا اور سویوں کا قوامی زردہ بھی۔ شیر خورما کی تیاری تو چاند رات کو ہی شروع ہو جاتی۔ دودھ کو کاڑھا جاتا ، چھوہارے اور سویاں ڈال کے پکایا جاتا، پستہ وبادام کی ہوائیاں چھڑکی جاتیں اور پھر قاب میں ڈال کے فریج میں رکھ دیا جاتا کہ صبح صبح نماز پہ جانے والے شیر خورما کھا کے نکلیں گے۔سویوں کا زردہ بنانے کے لئے اماں تڑکے اٹھتیں اور پھر دیسی گھی اور الائچیوں کی مہک فضا میں سرسرانے لگتی۔ سویاں بھون کے دم لگا دیا جاتا اور پھر اماں کی آواز، اٹھ جاؤ سب، ناشتہ تیار ہے۔ عید کے دن اماں کسی بھی فرد کو کسی اور چیز سے ناشتہ نہ کرنے دیتیں۔ ان کا موقف ہوتا کہ عید کے دن کا آغاز صرف سویوں سے ہو گا۔

ہم بڑے ہو گئے اور اماں نانی کی مسند پہ فائز ہو گئیں۔ اماں نے سویوں کی عید سے جڑی روایت کو اپنے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں سے بھی متعارف کروا دیا۔ عید والے دن ہم سب اماں کے گھر اکھٹے ہوتے۔ کوئی ناشتے پہ پہنچتا تو کوئی دوپہر کے کھانے پہ۔ لیکن ایک بات طے تھی کہ اماں کے ہاتھ کا بنا ہوا شیر خورما اور قوامی زردہ لازماً دستر خوان پہ موجود ہو گا۔

خانہ بدوشی ہوئی تو عید کے دن اماں کی یاد کے ساتھ سویوں کی مہک بھی اپنے اردگرد محسوس ہوتی۔ اب احساس ہوتا ہے یہ محض سویاں نہیں تھیں، یہ تو روایت میں گندھا ہوا محبت کا ایک بہاؤ تھا جو اماں کے اردگرد والوں کو اپنے گھیرے میں لیتا تھا اور اماں کی بے لوث اور بے پناہ الفت کا مظہر بنتا تھا۔ اماں کو شاید محبت کے اظہار کا یہی طریقہ آتا تھا اور اماں اس میں کامیاب بھی ٹھہریں۔تبھی تو سمندر پار سے نواسی ہم سے سوال کرتی ہے: ’آپ عید کے دن نانی اماں کی سویوں کی ریت کیسے بھول سکتی ہیں؟‘

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...