کیا امریکہ کے صدارتی انتخابات مؤخر ہوسکتے ہیں

  • جمعہ 31 / جولائی / 2020
  • 1480

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں آئندہ صدارتی انتخابات موخر کرنے کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔  جمعرات کو ایک ٹوئٹ پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ڈاک کے ذریعے ہونے والی رائے دہی سے 2020 کے صدارتی انتخابات ''تاریخ کے سب سے زیادہ ناقص اور دھوکہ دہی کا شکار انتخابات ہوں گے''۔

ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ''یہ بات امریکہ کے لئے شرمندگی کا باعث ہوگی''۔ صدر ٹرمپ نے تین سوالیہ نشان لگا کر مکمل کئے گئے اپنے ٹویٹ پیغام میں پوچھا ہے کہ '' اُس وقت تک انتخابات کو موخر کر دیا جائے، جب تک لوگ مناسب، درست اور محفوظ انداز میں سلامتی کے ساتھ ووٹ نہ دے سکیں؟''

اس صورت میں امریکہ مین سوال پہدا ہؤا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کے پاس اس سال تین نومبر کے انتخابات کو موخر کرنے کا اختیار موجود ہے؟  ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لئے تین نومبر کی تاریخ طے ہے۔ اور یہ تاریخ کانگریس آئین کے تحت مقرر کرتی ہے۔ صدارتی تاریخ کے ماہر اور امریکی تاریخ پر دس کتابوں کے مصنف، مائیکل بیش لوس نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ''انتخابات کو موخر کرنے سے امریکی قانون کی خلاف ورزی ہو گی''۔

بیش لوس نے کہا کہ خانہ جنگی اور دوسری جنگ عظیم سمیت امریکی تاریخ میں کبھی بھی انتخابات کو مؤخر کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ امریکہ کی سائیبر سکیورٹی اور انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر، کرس کریبز نے 17 جولائی کو واشنگٹن کے بروکنگز انسٹیٹیوشن میں ایک سوال پر بتایا تھا کہ 2020 کے انتخابات امریکہ کی جدید تاریخ کے سب سے محفوظ انتخابات ہوں گے۔

کریبز کا کہنا تھا کہ کم از کم 92 فیصد امریکی ریاستوں میں اب ایسا نظام موجود ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر ووٹ کا کاغذی ریکارڈ بھی موجود ہو، جس سے انتخابی نتائج کی جانچ پڑتال آسان ہو جائے گی اور یہ بھی یقینی ہو جائے گا کہ کوئی بھی گنتی کے بعد اعداد کو تبدیل نہ کر سکے۔

کریبز نے مزید کہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بہت سی ریاستیں ڈاک کے ذریعے رائے دہی کی طرف جا سکتی ہیں۔

loading...