بھارت کی معاشی ترقی: حقیقت یا فسانہ؟

پچھلے کئی سالوں سے بھارت نے ساری دنیا میں ’شائنگ انڈیا‘ یعنی چمکتے بھارت کا ایک شور و غوغا مچایا ہوا ہے۔ بھارتی حکومتوں خاص طور پر مودی حکومت کی ایک عالمی پروپیگینڈا مہم سے ایسا لگتا ہے جیسے بھارت دنیا کی سب سے بڑی ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہے۔

وہاں پر خوشحالی کا دور دورہ ہے اور جلد ہی بھارت دنیا کی سب سے بڑی سیاسی قوت بھی بن جائے گا۔ پچھلی دو دہائیوں میں بھارت میں معاشی ترقی ہوئی ہے اور غربت میں قدرے کمی آئی ہے لیکن بھارتی معاشی قوت اور اس کی ایک بڑی آبادی کے معاشی حالات کی تصویر انتہائی بھیانک ہے۔  بھارت دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا دوسرا ملک ہے تو اس کی آبادی میں متوسط طبقے کی تعداد میں معمولی اضافہ بھی کم آبادی والے ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ اگر چند کروڑ بھارتی عوام کے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں تو اس سے کئی گنا زیادہ لوگ غربت اور انتہائی غربت کی حالت میں بدستور رہ رہے ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے حالات میں مستقبل قریب میں کسی طرح بھی بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد بڑے زور و شور سے مختلف معاشی اقدامات اٹھائے لیکن اس وقت تمام معاشی اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ پچھلے دو سالوں میں بھارتی معیشت میں بہتری کی بجائے تنزلی آئی ہے اور کرونا بحران نے اس تنزلی کے سفر کی رفتار تیز کر دی ہے۔ بھارتی آبادی کو زیر نظر رکھتے ہوئے بھارتی شرح نمو میں کمی آبادی کی بڑی تعداد کو دوبارہ غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے بھی نیچے لے جا سکتی ہے۔

بھارت میں پچھلے سال بے روزگاری کی شرح 6.1 فیصد تھی جو پچھلے 45 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ کرونا بحران کے بعد اس شرح میں خطرناک اضافے کا امکان ہے۔ معاشی ماہرین نے اس سال منفی شرح نمو کے بارے میں خبردار کر دیا ہے۔ حکومت نے خود اعلان کیا ہے کہ صرف صنعتی پیداوار میں اس سال مارچ میں 17 فیصد کمی ہوئی ہے جب کہ اس وقت تک کرونا بحران کے مکمل اثرات واضح نہیں ہوئے تھے۔ کرونا بحران کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں صنعتی پیداوار میں مزید کمی کا امکان ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق 2020 کے مالی سال میں بھارت کی شرح نمو 2018 کی سات سے گر کر چار فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ معاشی حالات غربت کے سفر میں مزید تیزی لا سکتے ہیں۔

بھارت کی 132 کروڑ آبادی میں سے تقریباً 80 کروڑ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 10 کروڑ سے زیادہ انتہائی غربت کی حالت میں ہیں۔ یہ اعداد کرونا بحران کے بعد بڑھ کر 92 کروڑ تک پہنچ سکتے ہیں۔ وسیع تر غربت زیادہ تر دیہی علاقوں میں ہے۔ ان میں 68 فیصد آبادی روزانہ دو ڈالر سے کم پر زندگی گزار رہی ہے اور 30 فیصد سے زیادہ صرف 1.25 ڈالر روزانہ کما پاتے ہیں، جس سے وہ بمشکل ایک وقت کا کھانا کھا سکتے ہیں۔

ان غربت کے مارے لوگوں میں سے ایک بہت بڑی تعداد بڑے شہروں میں کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہے، جہاں پینے کے پانی کی سہولت ہے اور نہ ہی تعلیم یا صحت جیسی بنیادی سہولتیں دستیاب ہیں۔ بھارت میں کروڑوں لوگ رات سڑکوں پر سو کر بسر کرتے ہیں۔ ان ناکافی شہری سہولتوں کی وجہ سے بیشتر لوگ اور خصوصاً بچے جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ بھارت میں ہر سال 14 لاکھ بچے اپنی پانچویں سالگرہ منا نہیں پاتے۔ یونیسف کے مطابق 25 فیصد بھارتی بچوں کو تعلیم کی سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ بھارت دنیا میں غذائیت کی کمی میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں 20 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو مناسب غذا نہیں مل پاتی۔ صرف چھ فیصد بھارتی عوام کو نلکے کے پانی تک رسائی ہے۔ بے روزگاری میں کرونا سے پہلے ہی اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا۔ کرونا کے بعد صرف مارچ میں تقریباً 12 کروڑ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔

اس ہٹ دھرم غربت اور دگرگوں معاشی حالات پر توجہ اور سماجی سہولیات کو بڑھانے کی بجائے بھارتی قیادت اب بھی اپنے ذرائع آمدن کا ایک بہت بڑا حصہ غیر ضروری دفاعی اخراجات پر لگا رہی ہے۔ اس کی اب بھی کوشش ہے کہ کیسے سخت طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کی آزادی کو سلب کیا جائے۔ آٹھ لاکھ سے زیادہ فوجی اس وقت کشمیر میں وہاں کی نہتی آبادی کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

اس خطیر دفاعی خرچ سے بھارت کے کروڑوں لوگوں کو انتہائی غربت سے باہر لایا جا سکتا ہے۔ صرف اس مالی سال میں بھارت نے 71 ارب ڈالرز سے زیادہ رقم دفاعی اخراجات کے لیے مختص کی ہے۔ بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک سے کشیدہ تعلقات اور ان پر اپنی عسکری برتری رکھنے کے جنون میں خطیر فوجی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں جو ہمسایہ ممالک کو بھی مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اپنے دفاع کے لیے غیرمتناسب اخراجات کریں۔

سویڈن کے ادارے سپری کے مطابق بھارت اس وقت امریکہ اور چین کے بعد دفاع پر خرچ کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ پچھلے 30 سالوں میں بھارت کے دفاعی اخراجات میں 260 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کے یہ بھاری دفاعی اخراجات اور اس کے ساتھ ہمسایہ ملکوں کے دفاعی خرچے بھارت کے اپنے اور خطے کے کروڑوں لوگوں کو غربت کے چنگل سے نکال سکتے ہیں۔ بھارت کے عوام صرف اسی حال میں معاشی خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں اگر معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ بھارت اس خطے میں قیام امن میں اپنا حصہ ڈالے اور بڑھتی ہوئی علاقائی بالادستی کی پالیسی ترک کرے۔

بھارت کے لیے ضروری ہے کہ اپنے خطے کی دفاعی برتری کے خواب کو پس پشت ڈال کر اپنے لوگوں کی معاشی بہتری اور غربت کے خاتمے پر قیمتی قومی ذرائع کا استعمال کرے۔ اس پالیسی سے نہ صرف خطے میں امن پیدا ہو گا بلکہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے حصے میں معاشی خوشحالی کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)

loading...