سونا مہنگا کیوں ہو رہا ہے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور بڑے ملکوں کے درمیان محاذ آرائی ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت صرف ایک ہفتے میں 1865 ڈالرز فی اونس سے بڑھ کر 1930 ڈالرز فی اونس تک جا پہنچی ہے جب کہ گزشتہ سال جولائی میں یہ قیمت 1400 ڈالرز فی اونس کے لگ بھگ تھی۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان برقرار ہے اور 22 قیراط سونا فی تولہ ایک لاکھ 22 ہزار 500 روپے تک جا پہنچا ہے۔

ماہرین اور مالیاتی ادارے امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ قیمتیں عالمی مارکیٹ میں آئندہ چند ماہ میں 2500 ڈالرز فی اونس تک بھی پہنچ سکتی ہیں جس کا اثر دنیا کی تمام مارکیٹس پر پڑے گا۔ ماہرین کی نظر میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ کورونا وائرس سے پیدا معاشی صورتِ حال، بڑے ملکوں کے مابین جاری سرد جنگ اور معاشی سست روی ہے۔

ماہر معیشت شمس اسلام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ڈالر کی گرتی ہوئی قدر اور اسٹاک مارکیٹس میں جاری مندی میں سرمایہ کار یہ دیکھتا ہے کہ اسے اپنی دولت کہاں اور کیسے جمع رکھنی ہے۔ اُن کے بقول سرمایہ کاروں کو سب سے محفوظ سرمایہ کاری سونے ہی میں نظر آتی ہے۔ چین اور بھارت میں سونے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان دونوں ممالک میں جب بھی سونے کی خریداری زیادہ ہو تو روایتی طور پر دیکھا گیا ہے کہ سونے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سونا ہمیشہ سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ دھات رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ شمس اسلام کا کہنا ہے کہ 2006 میں سونے کی فی اونس قیمت 725 ڈالرز تھی اور اس وقت کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ قیمت میں اس قدر اضافہ ہو جائے گا اور یہ 1500 اور اب 2000 ڈالرز فی اونس تک جا پہنچے گی۔ بڑی تعداد میں لوگ آن لائن پورٹلز کے ذریعے سونا خرید رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ سال بھی اس کی قیمت میں اضافہ متوقع ہے۔

سونے کی قیمتیں بڑھنے کا منفی اثر غربت میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ شمس اسلام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سونے میں سرمایہ کاری درحقیقت معاشی سرگرمی پیدا کرنے کے بجائے جمود پیدا کرتی ہے۔ پیسہ انفراسٹرکچر کی بہتری، نئی ملیں اور کارخانے لگانے یا اس طرح کی دیگر معاشی سرگرمیوں میں خرچ ہونے کے بجائے سونے کی شکل میں جمع رہتا ہے جس کا لامحالہ اثر معاشی صورتِ حال پر پڑتا ہے۔

جب بھی سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تو بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت تیل پیدا کرنے والے ممالک میں بھی معاشی سرگرمیاں محدود ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور یہی صورتِ حال دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔

سونے کی قیمت تاریخی سطح پر جانے کے باوجود بھی پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو سونا خرید رہے ہیں۔ آل سندھ صرافہ بازار اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے رہنما حاجی ہارون چاند نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک میں اب بھی سونے کی خریداری جاری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کون لوگ ہیں؟

شمس اسلام کے مطابق ایک جانب ملک بھر میں معاشی حالت دگرگوں ہونے اور مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ لیکن  پاکستان میں اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو ان حالات میں بھی سونا خرید رہے ہیں کیوں کہ وہ اس کی سکت رکھتے ہیں۔ شمس اسلام سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے بینک قوانین میں سختی، انکم ٹیکس حکام کی جانب سے آمدن کے ذرائع سے متعلق سوالات سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ اپنی غیر قانونی آمدنی کو چھپانے کے لیے سونا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس وقت ملک میں کوئی ایسا ڈیٹا موجود نہیں جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ ملک میں کس کے پاس کتنا سونا موجود ہے۔ پہلے تو اس بارے میں یا ذرائع آمدن کے بارے میں معلوم ہی نہیں کیا جاتا تھا لیکن اب کچھ ٹیکس قوانین میں بہتری لائی گئی ہے اور لوگوں سے ان کے ذرائع آمدن پوچھے جارہے ہیں۔ تاہم سونے سے متعلق معیشت کو دستاویزی بنانے سے معیشت پر اس کا مزید اچھا اثر پڑ سکتا ہے۔

شمس اسلام نے بتایا کہ پاکستان میں خوردنی اشیا مثلاً گندم، چینی، چاول اور کھانے کا تیل شامل ہیں۔ غیر دستاویزی دولت رکھنے والے ان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار جانتا ہے کہ چاہے جو بھی حالات ہوں بہرحال یہ اشیا استعمال ہونی ہیں، ان کی طلب میں کمی نہیں آنی۔ اس لیے یہ لوگ ان اشیا کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس میں سے گندم اور چینی پر تو سیاسی طور پر کافی شور مچا ہے مگر چاول اور خوردنی تیل کے ذخیرہ اندوزوں کی جانب اب تک کسی کی توجہ نہیں ہے۔

گزشتہ چند ماہ میں عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی کم قیمتیں تقریباً نصف ہوگئیں لیکن اس کا فائدہ عام صارف کو بالکل نہیں پہنچایا گیا۔ اس طرح ان سرمایہ کاروں نے ان اجناس میں سرمایہ کاری کر کے خوب منافع کمایا جسے کوئی دیکھنے والا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بینکنگ قوانین میں تبدیلی، اور ٹیکس سے بچنے کے لیے  سرمایہ بینکوں سے نکال کر اجناس میں لگانا پڑا۔

ملک میں گندم اور چینی کی وافر پیداوار ہونے کے باوجود چند ماہ میں ان کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں کا ڈیٹا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایک جانب سونے کی قیمتیں کئی گنا بڑھیں تو وہیں غریب اور امیر کے درمیان فرق میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

loading...