ایک ’مرتد‘ کی موت قوم کی ’حیات‘ ہے

ایڈیشنل سیشن جج پشاور کی عدالت میں ایک نوجوان نے ایک معمر شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ملک کے قانون نے  اپریل 2018  میں  اس شخص  کے خلاف کسی طالب علم کی شکایت پر توہین مذہب و رسالت  کا مقدمہ قائم کیا تھا لیکن دو برس سے زائد مدت گزرنے کے باوجود  فاضل عدالتیں  مقدمہ کا فیصلہ کرکے ملزم کو رہا  کرنے یا سزا دینے کا  حکم نہیں  دےسکی تھیں۔ بالآخر ایک نوجوان کو خواب میں عندیہ دیا گیا اور اس نے بھری عدالت میں اہانت رسولﷺ کے مرتکب کو قتل کرکے    ’مناسب‘ سزا دے دی۔

ممتاز قادری  کے  جہاد کی طرح سوشل میڈیا  پر  اس نوجوان کی شجاعت پر بھی واہ واہ کے ڈونگرے برسائے جارہے ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ ملک کا نظام اور جج خوف اور لالچ  کی وجہ سے   توہین کے مرتکبین کو سزا نہیں دے پاتے،  اس لئے  تحفظ ناموس رسول  ﷺ  کا  کام بھی  مسلمانوں کو خود ہی کرنا پڑے گا۔  ملک میں عقیدہ، مسلک، مذہب کی  مسخ شدہ تفہیم اور  لاعلمی و جہالت کی بنیاد پر جو جذباتی اور سنسنی خیز صورت پیدا کی گئی ہے ، پشاور میں ہونے والا قتل اس کا تازہ نمونہ ہے۔   مذہب کی توقیر اور حفاظت ناموس رسول ﷺ کے نام پر ہونے والا نہ تو یہ پہلا قتل ہے اور نہ ہی اسے آخری سمجھا جائے۔

ملک کے   بلسفیمی قانون میں جنرل ضیا  الحق کے دور میں شامل کی گئی متعدد شقات کے تحت   مذہبی تقدیس کے جو معیار مقرر کئے گئے ہیں اور اس قانون کے تحت الزام  کی زد پر آنے والے لوگوں کے ساتھ جو سلوک رو  ا رکھنے کی روایت گزشتہ چار دہائیوں میں مستحکم کی گئی ہے،  اس کی روشنی میں بس یہ غور کرلیا جائے کہ  اس طریقہ پر چلتے ہوئے  اس ملک میں آباد  لوگوں میں گولیوں کا نشانہ بننے والا آخری شخص کون ہوگا۔     پشاور کے قتل سے پہلے پنجاب اسمبلی میں  ’تحفظ بنیاد اسلام ‘کے نام سے  منظور ہونے والے قانون کی روشنی میں یہ جان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ پشاور کی عدالت میں چلنے والی گولیوں کی آواز ہر گلی،  محلے اور ہر گھر میں گونجنے والی  ہے۔  قطرہ قطرہ مرنے والی اور  تیزی سے  ہلاکت کی  طرف قدم اٹھاتی  اس قوم کے  لئے نیا پاکستان یامدینہ ریاست بنانے کا اہتمام کرنے  کی ضرورت نہیں ۔     مذہب کی حفاظت کا جو منصب اس قوم نے خود پر مسلط کیا ہے اور شہادت کا جو جذبہ علمائے دین، استاد، دانشور، صحافی اور حکمرانوں نے مل کر اہل پاکستان میں پیدا کیا ہے،  اس میں اب فرد نہیں بلکہ قوم کے سینے پر بارود باندھ کر اسے خود کشی پر آمادہ کرلیا گیا ہے۔    

خود کش  دھماکہ کرنے والے ایک  فرد کو گمراہ کہا جاسکتا ہے، اسے دہشت گرد قرار دے کر اس کے خلاف اعلان جنگ ہو سکتا ہے،  ملکی افواج ان دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لئے سرگرم عمل ہوسکتی ہیں لیکن  جب  جہاد کا ایسا انوکھا جذبہ پوری قوم میں بیدار ہوجائے جس کا مظاہرہ آج پشاور کی عدالت میں دیکھنے میں آیا  ہے تو  اسے قومی عارضہ نہیں اعزاز کہا جائے گا۔ ایسے میں اس وقت کا انتظار واجب ہوچکا ہے جب کسی  ایک ممتاز قادری کا مقبرہ  کافی نہیں ہوگا بلکہ بلکہ پاکستان کی مقدس سرزمین میں آباد رہنے والے گروہ کا اجتماعی مقبرہ     بنے گا جو خود کو قوم کہلاتی تھی لیکن جس میں قوموں والی کوئی خوبی باقی نہیں رہی تھی۔        تاریخی تناظر  میں قوموں کی ہلاکت  کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن ایسی قوم کی مثال تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا جس نے اجتماعی خود کشی کو جہاد کا نام دے کر خود کو تباہ و برباد کیا ہو۔   البتہ اس سوال کا جواب شاید ہم اپنی زندگی میں تلاش نہ کرپائیں کہ    ایسے کسی قومی مقبرے کو بھی انفرادی  مزاروں کی طرح یادگار سمجھتے ہوئے  عقیدت سے دیکھا جائے گا یا باقی ماندہ دنیا کے لوگ اس سے عبرت حاصل کریں گے اور ایک تباہ شدہ ملک و قوم کے کھنڈرات کو آنے والی نسلوں کے لئے   سبق آموز قراردیں گے۔

پشاور کا قتل  ’تعمیر ملت اسلامیہ  ‘کی طرف ایک قدم ہے۔ قتل کرنے والے  نوجوان نے شاید ایسا   نہیں سوچا ہوگا۔  البتہ اس بھیانک جرم کو تحسین کی نگاہ سے دیکھنے والے، اس کی یہی تعبیر کررہے  ہیں۔ سوشل میڈیا کے مفکرین  سے لے کر محلوں و  دیہات کی مساجد تک ایسے نابغے  مل جائیں گے جو  ایسی قتل و غارتگری کو  پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے   زندگی کا پیغام قرار دیں گے۔ یہی کامل جذبہ ممتاز قادریوں کو شہید  قرار دیتا ہے اور اسی حوصلہ  کی وجہ سے ملک کے نوجوانوں کو یہ خواب آتے ہیں  کہ ایک  مرتد اور گمراہ   ، عدالت کے کٹہرے میں تو کھڑا ہے لیکن  منصف کے ہاتھ اسے سزا دیتے ہوئے کانپ رہے ہیں۔  ان  کی آنکھوں  پر مفاد اور لالچ  کی پٹی بندھی ہے۔  اس لئے اے نوجوان  !اٹھ اور اپنا  مذہبی فریضہ ادا کرنے کے لئے کمر بستہ ہوجا۔

نوجوان،  عدالت  کے کٹہرے میں کھڑے ملزم سے کلمہ سنانے کی فرمائش کرتا ہے۔ گویا اس  نے  دینی حجت پوری کردی۔ حیران بوڑھا جب اس اچانک سوال  کا جواب دینے میں ناکام رہا تو نوجوان پر اس کا قتل واجب ہوگیا۔ اس نے ریوالور نکالا اور ایک مرتد کو ہلاک کردیا۔ اس نوجوان کے دماغ میں راستی اور صداقت کا جو  پیغام راسخ کیا گیا ہے ، اس میں ریاست، حکومت یا  قانون نام  کا کوئی آلودہ تصور موجود نہیں ہے۔ اس خواب میں ایک مرتد کو ہلاک کرکے ہی قوم کو گمراہی اور ہلاکت سے بچایا جاسکتا ہے۔  نوجوان موقع سے ہی گرفتار  ہوگیا، نہ فرار ہونے کی کوشش کی اور نہ  اپنے جرم سے  انکار   کیا بلکہ اعزاز کے ساتھ اس کارنامہ کو قبول کیا کہ یہی اس پر فرض تھا اور ملت اسلامیہ کی طرف سے قرض بھی۔ اب پولیس بتا رہی ہے کہ وہ پاکستانی نہیں بلکہ افغانی باشندہ ہے۔   کیا اس عذر خواہی سے اس خواب کو دھندلایا جاسکتا ہے جو اس ملک کے طول  و عرض میں ہزاروں لاکھوں نوجوانوں کے  دل و دماغ میں پیوست  کیا گیا ہے؟

پشاور میں  تو  ایک نوجوان نے  ایک ایسے بوڑھے کو ہلاک کیا ہے جس کے عقیدے کے بارے میں صرف خبر اور ایف آئی آر سے ہی علم ہوسکتا ہے۔ مرنے والے کو تو دو سوا دو سال کی حراست کے دوران اپنا عقیدہ تو کجا اپنا مؤقف بیان کرنے کی اجازت بھی نہیں ملی۔     یہ حق تو ملتان جیل میں اسی شہر کی یونیورسٹی میں تعلیم دینے والے جنید حفیظ تک کو نہیں دیا جاسکا جو گزشتہ سات برس سے اس حق کے لئے فریاد کررہا ہے اور دنیا کے تمام اہم دارالحکومتوں سے اس ناانصافی کے تدارک کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جنید حفیظ کو یہ حق اس وقت بھی  نہیں مل سکا جب اس کا جری وکیل   راشد رحمان  اس کے حق دفاع کا مطالبہ کرتے ہوئے خود قاتلوں کی گولیوں کا شکار ہوگیا۔  اس ملک میں  تقدیس مذہب کی حفاظت کے نام پر ایسے قانون نافذ کئے گئے ہیں کہ جن پر حرف اعتراض اٹھانے کے جرم میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا گورنر اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں گولیوں کا نشانہ بنا  تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ حکم جاری کرتی رہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قانون حکم خداوندی نہیں  ہیں کہ ان پر حرف زنی نہ ہوسکے لیکن اس ملک کی عدالتوں کے فیصلے نقار خانے میں طوطی کی آواز بن چکے ہیں۔

ممتاز قادری کو ملک کے معزز ترین لوگوں نے دلی عقیدت  و  احترام کے ساتھ لحد میں اتارا اور اب  اس کا مقبرہ مرادیں و آرزوئیں پوری کرنے کا مرکز بن چکا ہے۔ جب گولی چلا کر اور پھانسی پر چڑھ کر یہ اعزاز حاصل ہوتا ہو تو نوجوان ، مرتدوں کو ہلاک کرنے کے خواب کیوں  نہ دیکھیں اور وہ بھری عدالت میں کیوں نہ ایک گمراہ کو   سزا دینے کے لئے پہنچیں۔ دراصل گزشتہ نصف صدی کے دوران ملک کے نوجوانوں کو   یہی نصاب ازبر کروایا گیا ہے۔ اب تو   اس درخت کے پھل دینے کا وقت ہے۔    اسلام  کا پرچم اٹھائے ہوئے ان نوجوانوں کو صرف  تحفظ ناموس رسالت یا ’تحفظ بنیاد اسلام‘  جیسے قانون بنا کر مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ اس پوری نسل کو ذہنی اور فکری طور پر دو ٹوک فیصلے کرنے اور ٹھوس  نتیجہ دیکھنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ 

ملک کے وزیر خارجہ قومی اسمبلی میں  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پورا کرنے کے لئے قانون سازی کو ملک و قوم کے بہترین مفاد  میں قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کی چلتی ہوئی زبانیں خاموش کروانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم  مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں اقلیتی مسلمانوں کے خلاف مودی حکومت کے جبر کو دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیتے ہیں اور آرمی چیف دہشت گردی کے خلاف  جنگ جیتنے کا اعلان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ  پاکستان یہ جنگ جیتنے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ یہ سارے لیڈر ہی اپنی اپنی جگہ درست ہوں گے لیکن  اپنے گھروں میں مفلوک الحالی اور عسرت و تنگ دستی کے باوجود  ناموس رسولﷺ اور تقدیس مذہب کے لئے ہتھیار اٹھانے کا خواب دیکھنے والے نوجوان  ان  بلند بانگ  دعوؤں کو نہیں جانتے ۔ وہ تو  الحاد کے خلاف  جہاد کو  ہی قومی اور دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ دنیا اس ’فرض شناسی‘ کو دہشت گردی کہتی ہے۔ قوم کے لیڈر اس سے درگزر کرنا  قومی مفاد میں سمجھتے ہیں۔  اس تضاد میں قوم مادی سرخروئی کی بجائے ابدی حیات کا راستہ ہی اختیار کرسکتی ہے۔ اہل پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔ انہیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ اسلام کی حفاظت کے لئے چنے ہوئے لوگ ہیں۔

پشاور  کی عدالت میں گولی چلانے والے نوجوان  کو عزت سے رہا کردینا چاہئے۔ اس نے اگر کوئی قانون توڑا ہے تو پہلے اسے  قانون شکنی پر آمادہ کرنے والوں کی گرفت ہونی چاہئے۔ پہلے سیاست دان، ملا، صحافی اور استاد کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔  اس نوجوان  نے  وہی کیا جو اس ملک کی مسجدوں اور درس گاہوں نے اسے سکھایا ہے۔

loading...