تحریکِ انصاف کی حکومت میں قرضوں کا جال

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال 20-2019 کے دوران مجموعی طور پر 13 ارب ڈالر کے بیرونی قرض حاصل کیے۔ جو ملکی تاریخ میں حاصل کردہ قرضوں کا دوسرا بڑا حجم ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے قرضوں کا حصول ضروری تھا۔ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ پہلے سے حاصل کردہ قرضوں کی واپسی کے لیے نئے قرض حاصل کرے۔

وزارتِ خزانہ کے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 30 جون 2020 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران پاکستان نے بیرونی مالیاتی اداروں اور عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) سے مجموعی طور پر 13 ارب ڈالر قرض لیا۔ اس میں گزشتہ مالی سال میں حاصل کردہ قرضوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو پاکستان نے گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران 29 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے بیرونی قرضے لیے ہیں۔ جن میں سے 26 ارب 20 کروڑ ڈالر قرض وزیرِ اعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں حاصل کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق حاصل کردہ قرضوں میں سے 19 ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم پہلے سے حاصل کردہ قرضوں کی واپسی کے لیے استعمال کی گئی۔ حکومت نے بیرونی مالیاتی اداروں سے 60 کروڑ 29 لاکھ ڈالر قرض لیا جب کہ حکومتی بجٹ میں اس کا ہدف 40 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رکھا گیا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی سہولت کا بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور صرف 70 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے تیل کی خریداری کی گئی جب کہ ہدف تین ارب 20 کروڑ ڈالر تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق چین نے گزشتہ مالی سال کے دوران 40 کروڑ 88 لاکھ ڈالر قرض کی صورت میں فراہم کیے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے دو ارب 80 کروڑ ڈالر قرض فراہم کیا۔ بجٹ میں اس کا ہدف ایک ارب 70 کروڑ ڈالر رکھا گیا تھا۔ تاہم قرض میں سے دو ارب 30 کروڑ ڈالر بجٹ معاونت کی مد میں استعمال کیے گئے۔ عالمی بینک کی طرف سے بھی پاکستان کو ایک ارب 32 کروڑ ڈالر قرض فراہم کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی اور ترجمان ندیم افضل چن کہتے ہیں کہ حکومت کو مسلم لیگ نواز کی حکومت میں حاصل کردہ قرضوں کی واپسی کے لیے مزید قرض لینا پڑا۔  اُن کے بقول حکومت کو تحریک انصاف کے 'وزیراعظم کفالت پروگرام' کی رقم کو دو گنا کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے جب حکومت سنبھالی تو معیشت بدحالی کا شکار تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں جو ترقیاتی پروگرامز شروع کیے گئے اُنہیں مکمل کرنے کے لیے بھی حکومت نے قرض کا سہارا لیا۔

ماہرِ معیشت فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی کے پیشِ نظر حکومت کے لیے نئے قرضوں کا حصول ناگزیر تھا۔ لیکن معیشت سے متعلق حکومت نے اگر کوئی اچھا کام کیا ہے تو وہ بیرونی تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔ تجارتی خسارہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں 20 ارب ڈالر تھا جو تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال میں 10 ارب ڈالر تک لایا گیا اور اب یہ خسارہ تقریباً تین ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

فرخ سلیم کہتے ہیں کہ عام آدمی حکومتی قرضوں یا خسارے کو نہیں دیکھتا بلکہ عام آدمی کے لیے آٹے، چینی کی قیمت اور روزگار کے مواقع اہمیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دورِ حکومت میں آٹے کی فی کلو قیمت 32 روپے تھی جو اب 52 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح دو برسوں میں آٹے کی قیمت میں 60 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ چینی کی قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 85 روپے ہو گئی ہے۔ بے روزگار افراد کی تعداد 40 لاکھ سے بڑھ کر 60 لاکھ ہو چکی ہے۔

فرخ سلیم کے مطابق جی ڈی پی کی شرح 5.8 فی صد سے کم ہو کر منفی اعشاریہ چار فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح جی ڈی پی میں کمی کا 68 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی مدت مکمل ہوئی تو اُس وقت گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 2400 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کا مجموعی قرضہ 30 ہزار ارب سے بڑھ کر 43 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے۔

معاشی ماہر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے جو قرضوں میں اضافے اور نئے قرضوں کی وجہ بنی۔ یہ کہہ دینا مناسب نہیں کہ گزشتہ دورِ حکومت میں لیے گئے قرضوں کی واپسی کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔ حفیظ پاشا کے بقول نواز لیگ کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں 10 ارب ڈالر سے کم کا قرضہ لیا گیا اور گزشتہ دو سالوں میں اس میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں کمی ہے۔

loading...