انیس گریڈ کا ایک افسر اور عمران خان کا مضبوط کلہ

خیبر پختون خوا حکومت میں انیس گریڈ کے ملازم  ضیا الرحمان کے تبادلے ، بطور ڈپٹی کمشنر کراچی وسطی تقرری اور  از سر نو تبادلہ کی ضرورت سے   واضح ہؤا کہ عمران خان کی حکومت کا کلہ تو مضبوط ہے لیکن اگر ان کی حکومت انتہائی  عجلت میں  انتظامی اختیاراستعمال نہ کرتی تو   یہ   ایک افسر  حکومت کے لئے ’خطرہ‘ بن سکتا تھا۔ اتفاقاً  ضیا الرحمان نامی یہ افسر  جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا چھوٹا بھائی ہے۔

ضیا الرحمان کی خدمات اس سال جنوری میں خیبر پختون خوا سے سندھ حکومت کے حوالے کی گئی تھیں۔  کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور  آزادی مارچ  کا اہتمام کرنے والے مخالف سیاسی لیڈر کی چٹکی لینے  کا اہتمام بھی ہوگیا۔  البتہ    جدید مدینہ ریاست کی بانی حکومت کو اس وقت اس احمقانہ اقدام پر پریشانی لاحق ہوئی جب سندھ حکومت نے  وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختون خوا سے بھیجے گئے  افسر کو کراچی وسطی کا ڈپٹی کمشنر مقرر کردیا ۔ معمول کی اس تقرری میں فوری طور سے تحریک انصاف اور  حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو سیاسی سازش دکھائی دینے لگی۔ انہیں احساس ہؤا کہ سندھ حکومت نے  کراچی کی ایک اہم انتظامی پوزیشن پر مولانا فضل الرحمان  کے بھائی کو تعینات کرکے مخالف سیاسی جماعتوں کے مفاد پر کاری ضرب لگائی ہے۔ گرم جوش بیانات کے علاوہ اسلام آباد میں سارے ذی شعور جمع ہوکر اس مسئلہ کا حل سوچنے لگے۔

سیاسی لیڈروں کو اندازہ بھی نہیں ہوتا لیکن  بیوروکریسی سے  ضرورتیں پوری کروانے کے شوق میں ان سے ایسی حماقتیں  سرزد ہوتی ہیں جن پر نہ ہنسا جاسکتا ہے اور نہ رونے کو دل کرتا ہے۔ اس پر محض حیرت زدہ ہوکر دیکھا جاسکتا ہے کہ کیا یہی عالی دماغ اس ملک کے غریب عوام کا کلیان کریں گے اور کیا ایسی ہی حکومتیں ’مدینہ ریاست‘ کی اعلیٰ اقدار اور اخلاقی معیار کا اطلاق کرسکتی ہیں؟   ذاتی انسیت اور پسندیدگی  کا معاملہ مختلف ہے لیکن  انتظامی اختیارات کو   خالص سیاسی مقاصد کے لئے ایک درمیانے درجے کے افسر کے خلاف استعمال کرنے والی کوئی حکومت  نیا پاکستان بنانے ، نظام  تبدیل کرنے اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا  خواب شرمندہ تعبیر   نہیں کرسکتی ۔  اسے بدترین سیاسی اور انتظامی بدعنوانی قرار دیاجائے گا۔ انہی ہتھکنڈوں نے ملک کو انتظامی اور سیاسی طور سے اس حال کو پہنچایا  ہے کہ  وزیر اعظم کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ  نہیں رہی۔ وہ اپنی مرضی سے محض اوسط عہدوں پر فائز افسروں کے تبادلے کرکے ہی   اترا سکتا ہے ۔

ضیا الرحمان کی خدمات خیبر پختون خوا  سے حکومت سندھ  کے حوالے کرنا،  نہ وفاقی حکومت کی مجبوری تھی اور نہ ہی خیبر پختون خوا حکومت   کے لئے ایک افسر کو کھپانا مشکل  تھا۔   اس    اقدام  کا مقصد جو نہ جانے کس بزرجمہر کی  نادر روزگار  صلاحیت کا کارنامہ تھا،  محض عمران خان کو ذاتی طور پر خوش کرنا تھا۔ یہ تفصیل کبھی  معلوم نہیں ہوسکے گی کہ کیا عمران خان کے ذہن رسا نے اپنے نائبین  کو مولانا فضل الرحمان کو  عاجز کرنے کے لئے کوئی اچھوتا طریقہ اختیار کرنے کی فرمائش کی تھی یا کسی سیاسی یا انتظامی  نائب نے از خود  ’صاحب‘ کو خوش کرنے کے  لئے  اس  انوکھے طریقے کو آزمانے کا مشورہ دیا تھا ۔ تاہم خیبر پختون خوا میں کام کرنے والے ضیا الرحمان کو محض مولانا فضل الرحمان کا بھائی ہونے کی وجہ سے تنگ کرنا مطلوب تھا تاکہ اس کی  آنچ مولانا تک پہنچے اور وہ  جان جائیں کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا انتظام کرنے کا کیا  ’انجام‘ ہوسکتا ہے۔

زیادہ امکان یہ ہے  کہ اس طرح   مولانا  اور سیاسی مخالفین کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ عمران خان مخالفت کو بھولتے  نہیں اور نہ ہی معاف کرتے ہیں۔ مثال کے  طور پر  جنگ و جیو گروپ کے مالک و ایڈیٹر شکیل الرحمان  کی مسلسل حراست اور نواز شریف کی جلاوطنی  کو پیش کیا جاسکتاہے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ اپوزیشن کے ہر قابل ذکر لیڈر کو نیب کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔ کئی کئی ماہ بلکہ ایک سال سے زیادہ مدت تک انہیں گرفتار رکھا گیا۔ شہباز شریف کے صاحبزادے اور پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی  مسلسل حراست کی  مثال بھی  نہایت نمایاں ہے۔  ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی نوبت نہیں آتی لیکن نیب انہیں رہا کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ 

خواجہ برادران ضمانت کیس  کے تفصیلی فیصلہ میں سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ  نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ نیب اپنے اختیارات کا اندھا دھند استعمال کرتے ہوئے نہ صرف  آئینی اختیار سے تجاوز کرتی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق پامال کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ ملک کی انصاف پسند شفاف حکومت کے کان پر مگر جوں تک نہیں رینگی اور سپریم کورٹ میں بطور جج خدمات انجام دینے والے  جسٹس (ر) جاوید اقبال کا پھر بھی دعویٰ ہے کہ ان کی نگرانی میں  احتساب بیورو کسی ’بدعنوان‘ کو نہیں چھوڑے گا۔ملک کی متعدد بار کونسلز نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے لیکن وہ     عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اس سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں اور  وزیر اعظم کو خوش کرنے  کے لئے کچھ بھی کرنے  کو تیار ہیں ۔ حکومت جس نئے نیب قانون کو قومی اسمبلی سے منظور کروانا چاہتی ہے اس میں چئیر مین نیب  کی مدت میں توسیع نہ کرنے کی شرط کو ہٹا دیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ جاوید اقبال جیسا لعل گہر خال خال ہی ملتا ہے۔ تحریک انصاف اس سے محروم ہوگئی تو  ملک سے اپوزیشن کا صفایا کرنے والا ایسا ہیرا کہاں سے  ملے گا۔

سندھ حکومت  کی طرف سے  چھ ساڑھے چھ ماہ پہلے خیبر پختون خوا سے سندھ بھیجے گئے ایک افسر کو کراچی وسطی کا ڈپٹی کمشنر لگانے پر راز کھلا کہ جس افسر کو مولانا فضل الرحمان کو مزا چکھانے کے لئے ’صوبہ بدر‘ کیا گیا تھا،  اسے تو ایسی پوزیشن دی جارہی ہے جو تحریک انصاف اور اس کی حلیف ایم کیو ایم   کے  لئے تکلیف کا سبب بن سکتی ہے۔ فوری طور سے ’سیاسی گٹھ جوڑ‘  کی الزام تراشی کا راگ شروع کردیا گیا۔  اسلام آباد اور پشاور میں اس ’قومی ایمرجنسی‘ سے نمٹنے کے طریقے سوچے جانے لگے۔ پاکستانی افسروں  نے سرکار دربار کی خدمت گزاری میں وہ سارے ہتھکنڈے ازبر کئے ہوئے ہیں جن کی ہر حکمران کو ضرورت ہوتی ہے۔  اچانک خیبر پختون خوا کی انتظامیہ کو احساس ہؤا کہ اس کے پاس تو اس گریڈ کے افسروں کی شدید قلت ہے اور وفاقی حکومت اس کا افسر سندھ کے حوالے کرچکی ہے۔ حالانکہ ضیا الرحمان جیسے لائق  افسر کی خدمات تو خیبر پختون خوا  کے عوام   کو فراہم ہونی چاہئیں۔ 

خیبر پختون خوا کا شکائیتی مراسلہ ملنے کی دیر تھی کہ وفاقی اسٹبلشمنٹ  نے شاہ پرستی کی روایت  کے عین مطابق فوری طور سے ضیا الرحمان  کا تبادلہ سندھ سے واپس  خیبر پختون خوا کرنے کا  حکم جاری کردیا۔  چونکہ ابھی  یہ ڈرامہ شروع ہؤا ہے، اس لئے اس کے ڈراپ سین کے بارے میں پیش گوئی ممکن نہیں ہے۔ ڈرامہ کے متعدد کردار اپنی اپنی ضرورت  اور صوابدید کے مطابق ردعمل ظاہر کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ عدالتوں کو بھی ملوث کرلیا جائے اور پھر معاملہ چل سو چل۔ تاہم اس صورت حال میں چند بنیادی سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں جو ریکارڈ پر لانا  ضروری ہے تاکہ تاریخ گواہ رہے کہ  جب ملک پر انصاف پسند عمران خان کی نگرانی میں   نظام کو تبدیل کردینے والی ایماندار اور قوم پرست    حکومت قائم تھی تو   قوم و ملک کو درپیش مسائل پر اقدام کرنے کی بجائے صوبائی اور مرکزی حکومتیں کس طرح  19 گریڈ کے ایک صوبائی  افسر   کے تبادلے و تقرری کے سوال پر  بھاگ دوڑ  کررہی  تھیں:

1۔کیا کسی افسر کا کسی قومی یا علاقائی لیڈر کا بھائی ہونا جرم ہے۔ اور کیا  حکومت کرنے والی پارٹی کسی افسر کے حسب نسب کی وجہ سے اس کی خدمات کو ادھر ادھر کرنے کا فیصلہ کرے گی ۔

2۔ چھ ماہ کی مختصر مدت میں ایک درمیانے درجے کے افسر کا دو بار تبادلے کی  انتظامی یا اخلاقی نوعیت کیا ہے۔ حکومت کے پاس  اس اقدام  کا کیا جواز ہے۔

3۔ سیاسی ضرورتیں پوری کرنے والے اس ایک تبادلے پر عمل درآمد کے لئے سرکاری خزانہ سے  صرف ہونے والے وسائل ’ضیاع اور بدعنوانی ‘ شمار ہوں گے یا ایک سیاسی مخالف کو زچ کرنے  کے لئے کیا جانے والا یہ  اقدام عین کار ثواب اور ایمانداری کے  درخشاں اصولوں کے مطابق سمجھا جائے گا؟

خیبر پختون خوا حکومت  کیا یہ بتانے کی زحمت کرے گی کہ وہ کون سے حالات تھے کہ ایک افسر   سے  نجات حاصل کرنا ضروری ہوگیا تھا۔  اور مرکزی حکومت  نے   اس افسر کو اپنے آبائی وطن سے  ڈیڑھ ہزار کلو میٹر دور بھیجنا  اہم سمجھا۔

5۔  گزشتہ چھ ماہ میں ایسی کون سی انتظامی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں کہ خیبر پختون خوا  حکومت کو ضیا الرحمان کی خدمات فوری طور سے درکار  ہوگئیں  اور وفاقی حکومت نے بھی اس خواہش کو پورا کرنے میں تاخیر نہیں کی۔ خیبر پختون خوا حکومت تحریک انصاف کی دیانتداری کو ثابت کرنے کی نیت سے یہ بھی بتادے کہ اس کا وہ کون سا شعبہ  ہے جس میں  ضیا الرحمان کی صلاحیت و قابلیت کا کوئی افسر موجود نہیں ہے کہ  اچانک  اس افسر کو واپس بلانے کی درخواست کرنا  پڑی ۔

6۔ مستقبل میں ضیا الرحمان کی تقرری اور پیشہ وارانہ خدمات کا ریکارڈ سامنے لانا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ عوام جاننا اور دیکھنا چاہیں گے کہ ضیا الرحمان کی واپسی کے بعد خیبر پختون خوا نے کس طرح  اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا۔

7۔تبادلہ  کے بعد اگر ضیا الرحمان کو ’ آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی‘  کی طرح غیر مؤثر کرنے کا اہتمام کیا گیا تو کیا اسے سیاسی انتقام کی مثال سمجھ  لیا جائے یا نئے پاکستان میں اس قسم کی بے اعتدالی کے لئے کوئی دوسری  خوبصورت اصطلاح تلاش کی گئی ہے۔

آخر میں عمران خان سے دست بستہ یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ ہوسکتا ہے ان کا کلہ مضبوط ہو، ایک پیج کی سیاست مستحکم ہو اور اپویشن پارٹیاں اپنی  ناقص حکمت عملی کی وجہ سے انہیں چیلنج نہ کرسکتی ہوں۔ لیکن اگر ملک کا وزیر اعظم  19 گریڈ کے ایک افسر کے تبادلے پر سیاست کرے گا تو اسے جان لینا چاہئے  کہ وہ اس عہدے کا اہل نہیں ہے۔  یا تو وہ اپنا طریقہ تبدیل کرے یا وزیر اعظم ہاؤس سے رخصت ہونے کی تیاری پکڑے۔

loading...