پاکستان کی تلاش

 

میں پچھلے بہتر برس سے پاکستان کی تلاش میں ہوں ۔ پاکستان میرا خواب ہے ، ایک ایسے مُلک کا خواب جہاں اخوت ہے ، مساوات ہے ، جہاں کوئی نسلی امتیاز نہیں ، جہاں سب لوگ اللہ کی بنائی ہوئی حدود میں رہتے ہیں جہاں مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے ، مگر یوسف کے بھائیوں   جیسا بھائی  نہیں ۔جہاں کسی کا ہمسایہ اور اُس کے بچے رات کو بھوکے نہیں سوتے ۔

جہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے ۔ جہاں قانون شکنی نہیں ہوتی ۔ جہاں کسی بہانے آئین توڑ کر اپنے  لشکر اپنے ہی ملک کے اقتدار پر قبضہ نہیں کرتے  اور اپنے ملک کے عوام کو اپنے بھائی بیٹے سمجھتے ہیں اور اُن کا حسب مراتب احترام کرتے ہیں ۔ جہاں فوجی اور سویلین ایک ہی فضا میں سانس لیتے ہیں ۔ جہاں قانون کے دوہرے معیار نہیں ہیں ۔ جہاں امارت اور غُربت کی بنا پر لوگ ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے ۔ جہاں ماں باپ ، غریب رشتہ داروں ، یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے حقوق کی پاسداری ہوتی ہے ؟ اب میں کس سے پوچھوں کہ وہ پاکستان کہاں ہے کیونکہ وہ لوگ جو اس ملک کے وسائل کو اندھے کی ریوڑیوں کی طرح بانٹتے ہیں ، پاکستان میں نہیں لندن ، دوبئی یا امریکہ میں رہتے ہیں مگر پیسہ پاکستان میں کماتے ہیں ، پاکستان سے باہر بھجواتے ہیں اور پھر واپس پاکستان لاتے ہیں ۔ یہ کالے دھن کو سفید کرنے کا مجرب نسخہ ہے ۔

 میں نے حکیم بقل بطورا سے پوچھا کہ آخر پاکستان کو سچ مچ کا پاکستان ، قائد اعظم کا پاکستان بننے میں کتنی صدیاں لگیں گی تو حکیم نے داڑھی میں خلال کیا ، مجھے گھور کر دیکھا اور پلکوں سے مجھے ناہنجار اور مردود سمیت جانے کتنے القابات سے نواز دیا ۔ اور بولے کس کا ہے  پاکستان؟ قائد اعظم تو اکہتر برس پہلے پاکستان کے دودھ پیتے بچے کو چھوڑ کر چلا گیا اور پھر اس کے سر پر جی ایچ کیو اور بیوروکریسی نے ہاتھ رکھا اور اپنے اللوں تللوں میں آد ھا ملک بنگالیوں کو دے دیا ۔ قائد اعظم کے بود  پاکستان کا باب  تو تب بند ہی ہوگیا تھا ۔ تب فیلڈ مارشل ایوب خان کا نیا پاکستان تھا  ۔ قائد اعظم کیا ہے ۔ ایک تاریخی کردار ، کراچی میں ایک مزار اور مزار میں قبر جہاں سے دن رات آہوں  کراہوں اور سسکیوں کی صدا سنائی دیتی رہتی ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ کیا کیا تم نے میرا پاکستان۔ اس کے جواب میں نعرہ گونجتا ہے : پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ اللہ ۔

لیکن حکیم صاحب ! یہاں اقلیتیں بھی تو ہیں ؟

ہاں ہیں مگر تمہیں کیوں چبھتی ہیں ۔ وہ اپنے اپنے نبیوں کے ماننے والے ہیں ۔ آدم صفی اللہ سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک ہی دین رہا ہے ۔ سب نبی ایک ہی دین پر تھے ۔ محمد صلی الہ علیہ وسلم سے بھی وہی باتیں کہی گئیں جو دوسرے پیغمبروں سے کہی گئی تھیں ۔ یہ جو لوگ خود کو عیسائی کہتے ہیں مسیحی مسلمان ہیں ، یہ جو یہودی ہیں یہ موسوی مسلمان ہیں اور باقی سب صابیوں کی ذیل میں آتے ہیں مگر  سبھی ایک ہی اللہ کی مخلوق ہیں  اور سبھی بھانت بھانت کے مسلمان ہیں ۔  اللہ نے تو ہر قوم کو ہدایت دینے والا دے رکھا تھا ۔ سب کو کتاب بھی دی گئی ۔اللہ کی کتاب پر تمہاری اجارہ داری نہیں ۔وہ ساری کتابوں کی ماں ہے ۔ اُم الکتاب ۔ دوسری ساری مذیبی کتابیں اور صحیفے اُس کے بچوں کی طرح ہیں ہیں  ۔وہ اللہ کی ساری مخلوق کے لیے رحمت کا پیغام ہے ۔ تم مانو نہ مانو مگر ایسا ہی ہے ۔ہم سب آدم اور حوا کے بیٹے ہی ایک ہی اُمت ہیں ۔  جب ایسا ہے تو کیا تم نے کوئی دوسرا خُدا تلاش کر لیا ہے جو صرف شیعوں ، سنیوں ، وہابیوں اور بریلویوں کا خُدا ہے ۔ کبھی مسیتڑوں  کی سنی سنائی  سیکنڈ ہینڈ بلکہ تھرڈ ہینڈ باتوں سے قطع تعلق کر کے اللہ کی کتاب بھی پڑھ لیا کرو ۔ نہ تم نے کبھی قرآن سبقاً پڑھا اور نہ ہی ملکی آئین ۔ آئین تو تمہارے لیے ایک حوالے کی کتاب ہے جس پر تم نے عمل تو کرنا نہیں ۔

لیکن حکیم صاحب ! جب پاکستان بنا تو پاکستانی چھ کروڑ تھے ۔ باون فی صد آبادی مشرقی پاکستان میں رہتی تھی ، جسے کاٹ کر پھنک دیا گیا اور اس چھوٹے سے ملک میں کئی ملکوں کی آبادی جمع ہوگئی ہے جس نے ملک کو ایک مہاجر کیمپ یا بھیڑ نگر بنا رکھا ہے ۔ اس کا کیا حل ہے؟

حکیم صاحب نے کھنکار کر مجھے دوبارہ گھوڑا اور بولے حل بہت سادہ ہے کہ جزیرہ نمائے عرب سے اپنی نسبتی کرنے والے سادات ، قریشیوں ، الراعیوں وغیر کو سعودی عرب بھجوادو ، پٹھانوں کو افغانستان ، ترکی النسل لوگوں کو طیب اردوان کے حوالے کرو ، مغلوں کو واپس فرغانہ بھجواؤ مگر ٹھہرو ۔ مغلوں کا معاملہ دوسرا ہے ۔ اکبر اعظم کے بعد مغل خالص مغل نہیں رہے راجپوت مغل ہو گئے ۔ اکبر کی بیوی مہارانی جودھا بائی ، راجہ مان سنگھ کی بہن ، ہندو ہی رہی اور محل میں پوجا پاٹ کرتی رہی ۔ اکبر کے محل میں اسلام اور ہندو مت اس طرح ایک ساتھ ، شیر و شکر رہتے تھے جیسے شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں ۔ اکبر کا بیٹا جہانگیر جو جودھا بائی کی گود میں ہندو مہارانی کا دودھ پی کر پلا راجپوت مغل تھا ۔ چنانچہ جودھا بائی کا پڑپوتا اورنگ زیب عالمگیر بھی راجپوت مغل تھا اور پھر مغلوں اور راجپوتوں کی مشترکہ حکمرانی میں مغل سلطنت انگریزوں کی انگریزی کا شکار ہوگئی ۔ تاہم راجپوت مغل ہونا نجیب الطرفین ہونا ہے جو ایک مخلوط خاندانی روایت ہے جس کا  اس جدید عہد میں واحد نمائندہ بلاول بھٹو زرداری ہے جو بیک وقت بھٹو بھی ہے اور زرداری بھی ۔

لیکن حکیم صاحب ! یہ کیسے ممکن ہے ؟

اوئے بیوقوف شاعر ! وہ قرآن میں سچ سچ لکھا ہے کہ شاعر گمراہ لوگ ہوتے ہیں ان کی پیروی نہ کرو ۔ لیکن میں واضح کردوں میرا اشارہ اقبال کی طرف نہیں ہے جس سے تمہارے سیاسی مداریوں نے پاکستان کا خواب وابستہ کر رکھا ہے  کیونکہ اقبال تو پاکستان بننے سے نو سال پہلے ہی رُخصت ہو گئے تھے ۔ اگر وہ پاکستان  کے بننے کے بعد ، اُس کے اپنے خواب کے عین مطابق ہونے کی گواہی دیتے تو کوئی بات بھی تھی ۔ اب یہ سب کچھ صفدر محمود کے خوابوں کے مطابق ہو رہا ہے اور جیسا ہو رہا ہے وہ تم سب دیکھ رہے ہو ۔ اور صفدر محمود کے پینٹ کیے ہوئے اقبال اور قائد اعظم حقیقی نہیں کاغذی کردار ہیں ۔ اور قسم کھا کر بتا کہ جب قائد اعظم کو پتہ چلتا کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ہے تو اُن کا ردِ عمل کیا ہوتا ۔ اور بس اب میں تھک گیاں ہوں ۔ وٹس ایپ کے بہت سے میسیج ہیں جن کا جواب دینا ہے ۔ اب دین کا چھٹا رکن موبائل ہے ، جو نماز کے وقت بھی  مری نظر میں رہتا ہے اور جب بجتا ہے تو میں کنکھوں سے نماز میں اُسے دیکھ لیتا ہوں ۔ اب مت کہنا کہ اس سے نماز مکروہ ہوتی ہے ۔ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔ رشوت کے لین دین ، دودھ ، اشیائے خوردنی اور ادویات میں ملاوٹ  یا حق داروں کو اُن کا حق نہ دینے سے اسلام کی عمارت میں کوئی دراڑ نہیں پڑتی ۔ اسلام ہمارے خطیبوں اور مبلغوں کے دم سے قائم ہے  اور رہے گا۔ انشا اللہ ۔  سنا تم نے ۔ اب تخلیہ!

loading...