نیب اور کلبھوشن: حکومت کے لئے دو مشکل مراحل

’مائنس ون ‘نامی  فلم  کے کھڑکی توڑ  رش کے بعد اسلام آبا دمیں   دن دہاڑے ایک صحافی   کے مبینہ اغوا  کا ایک زور دار  ڈرامہ  اسٹیج کیا گیا۔ اب وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی نے  کہا ہے کہ حکومت وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت  پر  اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ    فنانشل ایکشن  ٹاسک فورس کی شرائط پر پورا اترنے کے لئے قوانین کے 8 مسودوں پر مشاورت و مصالحت  پر تیار ہے۔  اپوزیشن کی اشک شوئی کے لئے سوموار  کی شام سے شروع ہونے والی اس ملاقات کے ایجنڈے  میں قومی احتساب بیورو کے حوالے سے بھی قانون کا ایک مسودہ شامل کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ  ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنا قومی مفاد کے لئے بے حد اہم ہے کیوں کہ بھارت اس  فورم سے پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ وزیر خارجہ کے بقول اگر یہ انہونی ہوگئی تو یہ پاکستانی معیشت کے لئے تباہ کن ہوگا۔ حکومت کی کوشش  ہے کہ  جلد ہی قانون سازی کرکے ایف اے ٹی ایف کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا جائے اور واضح کردیاجائے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور  ان کی سرپرستی کا ہر امکان ختم کرنے  میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔ اس طرح پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکلنے  میں آسانی ہوگی اور حالات معمول کے مطابق ہوجائیں گے۔ فطری طور سے اس اہم ’قومی منصوبہ‘ میں  اپوزیشن کی شرکت بھی ضروری ہے تاکہ قانون سازی  سرعت سے ہوجائے اور  پاکستان اس مشکل سے باہر نکل سکے۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اس مقصد کے لئے حکمران اتحاد اور اپوزیشن پارٹیوں کے نمائیندوں پر مشتمل  ایک 24 رکنی  پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی ہے۔  انہوں نے امید ظاہر کی  کہ یہ کمیٹی  مطلوبہ قانون سازی کے لئے راہ ہموار کرے گی۔

وزیر خارجہ کی یہ مصالحانہ پریس کانفرنس ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف   2018  میں انتخاب جیتنے  کی دوسری سالگرہ منا رہی ہے۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اس  دن کو  ملک کی جمہوری جد و جہد میں ایک تاریخی دن  قرار دیا   کیوں کہ   ’دو سال قبل اس دن پاکستان کے لوگوں اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے ایک نئے تصور کی بنیاد رکھی۔ اس روز عوام نے  ایک فرسودہ اور بدعنوان نظام کو ترک کرنے کے لئے ووٹ دیا جس کی بنیاد بدعنوانی اور اقربا پروری پر رکھی گئی تھی‘۔   دلچسپ بات ہے کہ جس وقت وزیر اطلاعات اسلام آباد میں  سابقہ حکمران پارٹیوں کو بدعنوان اور پاکستان کے مسائل کی بنیاد قرار دیتے  ہوئے عوام کو تحریک انصاف کی کامیابی پر مبارک باد دے رہے  تھے ،   تقریباً اسی وقت ملتان کی پریس کانفرنس میں شاہ محمود قریشی اپوزیشن کو رجھانے کی بات کررہے تھے اور اس مقصد کے لئے نیب قانون کے مسودہ کا حوالہ بھی دیا۔ اگرچہ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس مسودہ  میں  اپوزیشن کے کون سے مطالبے پورے  کئے گئے  ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے دو برس  پہلے   25 جولائی   کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے ایک بیان میں اسے ملکی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا  کہ ’ 25 جولائی  2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات میں عمران خان کو ملک پر مسلط ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس ایک واقعہ نے ملک کو  جونقصان پہنچایا ہے وہ  اس سے پہلے کسی ایک واقعہ سے نہیں پہنچا تھا۔ اس دھاندلی کے ذریعے ملک میں جمہوری نظام کو تباہ کیا گیا‘۔  شبلی فراز اور بلاول بھٹو زرداری کے بیانات ملکی سیاسی منظر  نامہ میں دو انتہاؤں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس انتہاؤں کے بیچ شاہ محمود قریشی بظاہر پل بنانے کی بات کررہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس حوالے سے حکومت کا  ایجنڈا کیا ہے۔ احتساب،   پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کا ایک ایسا نعرہ رہا ہے جسے انہوں نے انتخابات سے  پہلے  اور  حکومت میں دو سال کے دوران بھی چابکدستی سے استعمال کیا ہے۔ ملک جب معاشی بدحالی اور کورونا وبا جیسے مسائل سے دو چار تھا تو بھی عمران خان اور ان کے ترجمان بدعنوانی کو بنیاد بنا کر اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی میں مصروف رہے ۔ اس کے علاوہ  نیب کو بھرپور طریقے سے  سیاسی مخالفین کو عاجز کرنے، حراست میں رکھنے اور مقدمات میں الجھانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔  اس انتہائی سیاسی پوزیشن میں عمران خان یا حکومت کے لئے  عوام میں مقبولیت برقرار رکھتے ہوئے  ’پسپائی‘ کے بہت زیادہ امکانات نہیں ہیں۔

قانون سازی کے حوالے سے حکومت اس وقت دو  معاملات پر  دباؤ محسوس کررہی ہے۔ ایک طرف ایف اے ٹی ایف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے  قانون سازی اہم ہے تاکہ اکتوبر کے اجلاس سے پہلے پاکستان یہ رپورٹ کر سکے کہ اس نے اس عالمی ادارے  نے  پاکستانی قانون میں جن کوتاہیوں کی طرف اشارہ  کیا تھا، انہیں دور کردیا گیا ہے۔  پھر بجا طور سے یہ تقاضہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جائے تاکہ عالمی معاشی لین دین میں اسے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس حوالے سے حکومت  اپوزیشن کا تعاون حاصل کرنا چاہتی ہے۔  ایف اے ٹی ایف کے ساتھ معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنا، ایک اہم قومی مسئلہ ہے ۔ اصولی طور پر اپوزیشن کو اس  پر  کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن اس کے ساتھ  ہی اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت نے سیاسی  آوازوں  اور میڈیا کی آزادی کو محدود کرنے کا  کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ یہ اندیشہ موجود رہے گا کہ  ایف اے ٹی ایف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے قانون سازی کے نام پر حکومت ان قوانین میں ایسی شقات شامل کرنے کی کوشش کرے جن سے حکومت کے اختیار میں اضافہ ہو  اور بنیادی شہری آزادیوں کو زک پہنچے۔ اپوزیشن پارٹیوں کو اس حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہوگی۔

دوسری طرف اپوزیشن پارٹیوں کی خواہش ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ نیب کے حوالے سے کوئی ایسی قانون سازی کروانے میں کامیاب ہوجائیں جس کے نتیجہ میں اس  کے لیڈروں کو سہولت مل سکے اور یہ اعلان بھی کیا جاسکے کہ  احتساب قوانین مؤثر اور منصفانہ ہوگئے ہیں۔ ایساکوئی راستہ تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔  نیب کے خلاف اپوزیشن کی متفقہ رائے کے باوجود جسٹس (ر) جاوید اقبال کی قیادت میں اس ادارے نے  عمران خان اور تحریک انصاف کے سیاسی ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔  وزیر اعظم کے لئے اس ادارے کو ختم کرنا یا اس کے موجودہ چئیر مین کی علیحدگی پر آمادہ ہونا ،  آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔ انہیں کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا پڑے  گا جس  میں اپوزیشن بھی مطمئن ہوجائے اور  وہ اپنے ووٹر کو بھی یہ امید دلا سکیں کہ  سابقہ بدعنوان لیڈروں کے خلاف احتساب زیادہ شدت سے جاری رہے گا۔

ایف اے ٹی ایف کے علاوہ حکومت کی دوسری مجبوری کلبھوشن یادیو کا معاملہ ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کی روشنی میں حکومت اسے اپنی سزا پر نظر ثانی کا منصفانہ موقع فراہم کرنے کی پابند ہے۔  اس مقصد کے لئے مئی میں ایک آرڈی ننس کے ذریعے کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل  کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ وزارت خارجہ کی اطلاع کے مطابق  کلبھوشن یادیو   اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل کی بجائے رحم کی درخواست کرنا چاہتا ہے۔  اس حوالے سے بھارتی سفارتی نمائیندوں  سے   کلبھوشن  کی قونصلر ملاقات  کی کوشش ناکام رہی ہے۔ بھارتی سفارت کار وں نے یہ اعتراض کرتے ہوئے ملاقات سے انکارکردیا تھا کہ   ’کسی دباؤ کے بغیر ماحول میں ملاقات  کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا ‘۔ پاکستان نے گو کہ اس اعتراض کو مسترد کیا ہے لیکن شاہ محمود قریشی بھارت کو  کلبھوشن کے ساتھ ایک بار پھر قونصلر ملاقات کی پیش کش کرچکے ہیں۔ بھارت نے اس پیش کش کا کوئی جواب نہیں دیا۔  اس  دوران حکومتی آرڈی ننس میں اپیل دائر کرنے  کے لئے مقرر کردہ مدت ختم ہوچکی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری  نے کلبھوشن آرڈی ننس کو  ’این آر او‘ قرار دیا ہے ۔  یہ تاثر سے   بھی سامنے آیا ہے کہ حکومت کلبھوشن کے معاملہ پر کوئی سودے بازی کرنا چاہتی ہے۔اس طرح یہ  معاملہ الجھ  گیا ہے۔ از سر نو وزیر قانون کا حلف لینے والے فروغ نسیم نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں مفاہمانہ انداز میں اس بارے میں اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کی اور بتایا کہ  یہ آرڈی ننس ’این آر او‘ نہیں تھا کیوں کہ  اس میں عالمی عدالت انصاف کی ہدایت کے مطابق  بھارتی جاسوس کو اپیل   کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔  حکومت اب اس سلسلہ میں قانون سازی کی کوشش کررہی ہے۔ دوسری طرف کلبھوشن اور بھارتی حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل  میں عدم دلچسپی سے یہ قیاس قوی ہوگا کہ درپردہ کلبھوشن کے  حوالے سے معاملات طے کرنے کی کوشش  ہو رہی ہے۔  خیال ہے کہ حکومت چاہتی ہے  کہ اگر رحم کی درخواست منظور کرکے  کلبھوشن  کورہا کرنے سے ،   باہمی مذاکرات کے  لئے بھارت سے  کوئی رعایت حاصل کی جاسکتی ہے تو اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔

اس دوران سپریم کورٹ نےخواجہ برادران ضمانت کیس کے تفصیلی فیصلہ  میں نیب کے ہتھکنڈوں کو’   حقوق کی خلاف ورزی ،  انسانی آزادی و وقار پر حملہ اور سیاسی انجینئرنگ کا ذریعہ‘ قرار دیا ہے ۔  اس  فیصلہ کے بعد نیب کے حوالے سے حکومت پر  دباؤ میں اضافہ ہؤا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی نیب کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں اور اب وکلا تنظیموں نے چئیر مین نیب کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا  ہے۔   ان دونوں معاملات میں حکومت کو اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔  اپوزیشن جماعتیں   وزیر اعظم عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے عید الاضحیٰ کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کرچکی ہیں۔  اپوزیشن کو مسترد کرنے کے باوجود حکومت اس وقت    سیاسی دباؤ کی شدت  محسوس کررہی  ہے۔

 نیب کی ہئیت تبدیل کرنے اور کلبھوشن کے لئے محفوظ راستہ  تلاش  کرنے کی کوشش،   تحریک انصاف کی حکومت کے لئے ایک ایسا جال ثابت ہوسکتی ہے جس میں وہ اپنی  ساکھ اور شہرت کو داؤ پر لگائے گی۔   آنے والے دنوں میں ہونے والے  فیصلے عمران خان کی سیاسی بصیرت کے  علاوہ ان کے صبر کا امتحان بھی ثابت ہوں گے۔

loading...