آیا صوفیا میں نماز جمعہ: کیا سیکولر ترکی ختم ہورہا ہے؟

ترک صدر رجب طیب اردوان کی ہمراہی میں ہزاروں لوگوں نے آج آیا صوفیا میں نماز جمعہ ادا کی۔ اس طرح 86 برس بعد استنبول کے قلب میں واقعہ  اس تاریخی عمارت کو ایک بار پھر باقاعدہ طور سے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔  آیا صوفیا کو  1453 میں   استنبول (قسطنطنیہ) کو فتح کرنے والے عثمانیہ سلطنت کے  سلطان محمد الفاتح  کے حکم پر چرچ سے مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا۔ یہ چرچ اسلام کی آمد سے تقریباً  ستر برس قبل   بازنطینی بادشاہ جسٹنین اول کے حکم پر  تعمیر ہؤاتھا۔

یونیسکو کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک  نے آیا صوفیا کو   سیاحوں کے مقبول میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے  کی  مذمت کی ہے۔ یونان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے ترکی کے خلاف عالمی رائے ہموار کرنے کے لئے کام کرے گا۔   ترکی کے صدر اردوان گزشتہ   انتخابی مہم  کے دوران آیا صوفیا کی ’اصل حیثیت‘ بحال کرنے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن یہ سیاسی نعرہ بلند کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس جگہ کو ایک چرچ سے مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا۔ شاہ جسٹنین اول  نے رومی سلطنت کے مقابلے میں عیسائیوں کا مرکز تعمیر کرنے کی غرض سے  532 عیسوی میں   آیا صوفیا کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ اس لفظ کے لغوی معنی بھی ’مقدس ذہانت‘ ہے۔  دنیا بھر سے لائے ہوئے دس ہزار کے لگ بھگ مزدوروں اور ماہرین نے چھ سال کی محنت  سے  یہ شاندار عمارت تعمیر کی تھی جسے 1985 میں یونیسکو   کی ’عالمی تاریخی مقامات‘ کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

عثمانیہ سلطنت کے سلطان محمد الفاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو آیا صوفیا کی خستہ حالت دیکھ کر انہوں نے اس کی  بحالی کا حکم دیا لیکن ساتھ ہی اسے مسجد بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ البتہ جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک نے 1934 میں آیا صوفیا کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح یہ عمارت  ہر عقیدہ سے تعلق رکھنے والے زائرین اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بن گئی۔ اس میں جہاں عیسائی فنکاری کے نمونوں کو محفوظ کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ ہی  عثمانیہ دور میں  اضافہ کی گئی مسلمان ثقافت کی نشانیاں بھی سیاحوں کی دلچسپی کا محور رہی ہیں۔  البتہ صدر اردوان کی خواہش کے مطابق یہ معاملہ عدالت میں گیا اور 10 جولائی کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے   فیصلہ دیا  کہ کمال اتاترک  کا    آیا صوفیا کو مسجد سے میوزیم بنانے کا فیصلہ غیر قانونی تھا۔  یہ عدالتی  فیصلہ کے سامنے آنے کے اگلے ہی دن 11 جولائی کو ایک صدارتی حکم میں آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے  کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں باقاعدہ نماز  ادا ہوگی اور ترکی کی وزارت مذہبی امور اس مسجد کا انتظام سنبھالے گی۔  صدر کے حکم اور خواہش کے مطابق آیا صوفیا میں اذان دینے کا آغاز فوری طو ر سے کردیا گیا تھا۔ لیکن محض دو ہفتے بعد  ہی آج نماز جمعہ  ادا کرکے  اسے باقاعدہ طور سے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔

صدر اردوان اور    مذہبی امور کے وزیر نے اعلان کیا ہے کہ  آیا صوفیا سے عیسائی نشانیوں کو نہیں ہٹایا جائے گا اور یہ جگہ سیاحوں کے لئے بھی کھلی رہے گی۔ تاہم میوزیم کے  طور پر اسے دیکھنے کے لئے ٹکٹ کی پابندی ختم  کردی گئی ہے۔ یہ اہتمام بھی کیا گیا ہے کہ نماز کے اوقات میں چرچ میں بنائے گئے بتوں کو ڈھانپا جائے گا لیکن نماز کے بعد انہیں نمائش کے لئے کھول دیا جائے گا۔   ترک حکومت کا یہ اعلان  بظاہر اس عالمی بے چینی کو دور کرنے کے لئے  کیا گیا ہے کہ  ایک تاریخی عیسائی عمارت میں موجود نوادرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس اعلان سے نہ دنیا کی بے چینی ختم ہوگی اور نہ ہی ترک صدر کے  ان سیاسی عزائم کو چھپایا جاسکے گا  جو وہ ترکی کو سیکولر سے ایک خالص اسلامی ریاست بنانے کے لئے کرتے رہے ہیں۔

صدر طیب اردوان کی خواہش محض ترکی کو اسلامی ریاست میں  تبدیل کرنے کی  کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ سلطنت عثمانیہ کا احیا چاہتے ہیں ۔سلطنت عثمانیہ اپنے عروج میں 22 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی تھی جس میں مصر، یونان، بلغاریہ، رومانیہ میسوڈونیا، ہنگری، فلسطین، اردن، لبنان، شام، بیشتر عرب  علاقے اور شمالی افریقہ کے ممالک شامل تھے۔ اب ترکی کا رقبہ سات لاکھ 83 ہزار مربع کلومیٹر میں سمٹ چکا ہے۔ اور  رجب  طیب اردوان اس سرکاری طور سیکولر مملکت کے صدر ہیں، کسی شاہی خاندان کے وارث  نہیں ہیں۔   آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ دراصل صدر اردوان کی سیاسی  عزائم کا پرتو ہے۔ وہ اس فیصلہ  سے ایک طرف یہ چاہتے ہیں  کہ  ترک عوام اقتصادی مسائل  کی بجائے  ماضی کی عظمت کے خواب دیکھتے ہوئے ان کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے گریز کریں۔  دوسری طرف وہ  ان حربوں سے سعودی عرب کے مقابلے میں اسلامی دنیا کی قیادت  کا خواب دیکھتے ہیں۔  وہ اپنے ان مقاصد میں تو شاید کامیاب نہ ہوں لیکن ان کے ہتھکنڈے ترکی  کی جدید شناخت اور سیکولر اسلام کے روشن پہلوؤں  کو ضرور داغدار کریں گے۔

آیا صوفیا کو میوزیم بنانے  کا فیصلہ  جدید ترکی کے بانی اتاترک نے کیا تھا۔   ترک عدالت جب  86 سال پرانے اس فیصلہ کو تبدیل کرنے کا اقدام کرتی ہے تو اسے صدر اردوان کی اسلامی روایات کے احیا کے سیاسی بیانیہ کی توثیق سمجھا جائے گا۔ اس  فیصلہ    سے  ملک کے عدالتی نظام پر اردوان کے تسلط کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔  یہ تسلط 2016 میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد زیادہ مستحکم  ہؤا ہے۔ اس بغاوت کی آڑ میں ترک صدر نے ملک میں میڈیا کے علاوہ ججوں اور فوج کو پوری طرح  قابو میں کرنے کے متعدد اقدام کئے  تھے۔  یہ اقدام کرتے ہوئے صدر اردوان یہ فراموش کررہے ہیں کہ    دو دہائی قبل ان  کی پارٹی اے کے پی کی کامیابی  اور  مقبولیت کی بنیادی وجہ ملک   میں معاشی اصلاحات اور ترقی تھی۔

 گزشتہ چند برس  سے  ترک معیشت رو بہ زوال ہے لیکن  صدر اردوان اس کی بہتری کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ گزشتہ  برس کے بلدیاتی انتخابات میں حکمران پارٹی کے امید وار   دارالحکومت انقرہ کے علاوہ تجارتی مرکز استنبول کے  مئیر کے عہدے سے  محروم ہوگئے تھے۔ صدر اردوان تمام تر کوشش و خواہش کے باوجود استنبول کی مئیر شپ اپنی پارٹی کو دلوانے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔  اس سیاسی محرومی کو اب مذہبی نعروں اور ماضی کی عظمت کے احیا کے ارادوں سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ البتہ  ان کوششوں کو ترکی میں شدید مزاحمت کا سامنا بھی ہے۔ ترک سماج بنیادی طور پر سیکولر طرز زندگی کو قبول کرچکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں دس فیصد قدامت پسند  ضرور موجود ہیں  لیکن 90 فیصد سے زائد آبادی ان آزادیوں اور سماجی رویوں سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے جو اتارک کے انقلاب کے بعد معاشرے  کا اوڑھنا بچھونا بن چکے ہیں۔

آیا صوفیا کی شناخت تبدیل کرکے صدر اردوان نے  البتہ ترکی کی سیکولر شناخت پر شدید حملہ کیا ہے۔ اس کے خلاف ملک میں مزاحمت بھی موجود ہے اور اس کا اظہار بھی سامنے آرہا ہے۔  ادب میں ترکی کے پہلے نوبل انعام یافتہ ادیب  ارہان پاموک نے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے  پر شدید احتجاج کیا ہے۔  ان کا کہنا  ہے کہ  ’میں ناراض ہوں مجھے اس بات پر بہت فخر تھا کہ ترکی واحد مسلمان ملک ہے جو سیکولر ہے۔ لیکن اب یہاں سیکولر ازم ختم کیا جا رہا ہے۔ جدید ترکی کے بانی کمال اتا ترک نے آیا صوفیہ کو مسجد سے ایک میوزیم بنانے کا اہم فیصلہ کیا تھا۔ انہوں ایسا کر کے پوری دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ ہم سیکولر ہیں اور باقی مسلم ممالک سے الگ ہیں۔ ہم یورپی قوموں کی طرح ہیں اور ماڈرن ہیں لہذا ہمیں بھی قبول کریں‘۔ اس بیان سے ترکی میں پائی جانے والی  طاقت ور متبادل سیاسی  آواز کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ صدر اردوان اس آواز کو دبانے اور ترکی کا  سیکولر اور جدید چہرہ تبدیل کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔

ترک صدر کا یہ اقدام کسی بھی طرح بھارت میں  بابری مسجد کے بارے میں وہاں کی سپریم کورٹ کے فیصلہ اور نریندر مودی کی ہندو  انتہاپسند  اقدامات سے مختلف نہیں ہے۔ اسی مزاج کی وجہ سے اس وقت بھارت میں اقلیتوں کا جینا حرام ہوچکا ہے۔ اسی لئے یہ اندیشہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ کیاآیا صوفیا کی شناخت تبدیل کرنے سے  ترکی میں  آباد مذہبی اقلیتوں کے حقوق بھی متاثر ہوں گے۔ سیاسی طاقت کی بنیاد پر دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو  اپنے مذہب سے منسوب کرنے کا وقت اب بیت چکا  ہے۔ اب دنیا میں  احترام باہمی کی بنیاد پر قبولیت پیدا کرنے اور بہتر افہام و تفہیم  کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ اب عقیدہ، صنف یا رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیازی رویوں کے خلاف  تحریکیں قوت پکڑ رہی ہیں۔

امریکہ میں شروع ہونے والی ’بلیک لائف میٹرز‘ تحریک یا  یورپ اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ نفرت پر مبنی اسلامو فوبیا کے خلاف جد و جہد ، دراصل ایک تبدیل شدہ دنیا کا بھرپور  تقاضہ ہے۔  یہ مطالبہ   قبولیت اور باہم احترام کی بنیاد پر استوار ہے۔  انسانوں کی اس عالمگیر خواہش کے برعکس کئے جانے والے سیاسی فیصلے نہ تو دیرپا ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ان لیڈروں اور ممالک کے لئے کسی اعزاز کا سبب  بن سکتے ہیں۔ 

loading...