بولنے والے توتے اور وزیر اعظم

ملک میں آئین کے ہوتے مارشل لاؤں کے ذریعے فوجی حکومتوں کے ادوار، ایک پیج کی سیاست یا  قومی مفاد کے نام پر مقتدر قوتوں کو اصل اختیار کا مالک و مختار سمجھنے کی صورت حال میں یہ بات واضح ہوچکی ہے  کہ منتخب حکومت اور وزیراعظم کی حیثیت  کسی بولنے والے توتے سے زیادہ نہیں ہے۔ بلکہ اب تو یہ    بھی عیاں ہوگیا ہے  کہ اگر کسی صحافی کو قومی مفاد کی حفاظت کے لئے اچانک نامعلوم طور سے اغوا کرلیا جائے تو کوئی توتا   نما وزیراعظم اس پر بات کرنے کا حوصلہ بھی نہیں کرپاتا۔

وزیر اعظم  کے لئے  ایسے سانحہ    پر’موقع  کی نزاکت‘  کے اصول  کی پاسداری اہم ہوجاتی ہے کیوں کہ   بولنا سکھانے والوں  نے  انہیں انہی شرائط پر  ’نوکری‘ دی ہوتی ہے۔ اس لئے عمران خان کے وزیروں کی طرف سے مطیع اللہ جان کے اغوا پر بیانات اور احتجاج سے یہ قیاس نہ کیا جائے کہ حکومت کو  اپنی  ناطاقتی اور    بے بسی پر کوئی پریشانی لاحق ہوئی ہے۔ نہ ہی ان خبروں سے   خود حفاظتی کے کسی ناقص گمان میں مبتلا ہونا مناسب ہوگا۔ اور نہ اس   پر خوش ہونا  درست  ہوگا کہ وزیر اعظم کا کوئی مشیر ایک صحافی کے اغوا کی خبر عام ہونے کے بعد اس قدر پریشان اور بے چین  رہا  کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھا جب تک اس معاملہ کو حل نہیں کروالیا اور یہ یقین نہیں ہوگیا کہ مطیع اللہ جان کو رہا کردیاجائے گا۔ 

ایسی خبروں کے متعدد ذرائع ہوسکتے ہیں اور انہیں نشر کرنے کے مقاصد بھی متنوع ہوتے ہیں۔  اس بیان سے یہ کہنا بھی مطلوب نہیں ہے کہ کابینہ کے جن ارکان نے ایک صحافی کے دن دہاڑے اغوا پر احتجاج کیا، ان کی نیت پر شک کیا جائے۔ بس یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ لوگ  احتجاج پر مجبور ہونے کے باوجود اسی ’تنخواہ‘ پر کام کرکے خوش ہیں جو مالک انہیں دینے  پر راضی ہے۔ یعنی اختیار کی وہی حدود  قسمت کا دیا سمجھ کر قبول کی جاتی ہیں جو ایسے عہدوں کے لئے مقرر کردی گئی ہیں۔    مجبوریوں کا تعین بھی عہدے کے تناسب سے ہی ہوتا ہے۔ یوں بھی ملک کا وزیر اعظم  براہ راست یہ ’اعتراف‘ کرتے مناسب تو نہیں لگتا کہ اسے اپنی   ہی  حکومت کے مرکز میں سیف سٹی قرار دیے گئے شہر سے  ایک مشہور صحافی کے اغوا کے بارے میں کوئی خبر نہیں  تھی۔

 اس کے برعکس اگر وزیر اعظم یہ کہتے کہ انہیں  خبر ہے کہ مطیع اللہ جان کہاں ہے تو     قومی مفاد سے عاری انسانی حقوق کے نام سے ہنگامہ برپا کرنے والوں  کے ہاتھ  ایک نیا ہتھیار  آجاتا۔  اب بولنے کا جتنا بھی شوق ہو کبھی تو   سیانوں  کی یہ بات کہ ’فضول بولنے سے چپ ہی بھلی‘ پر عمل  بھی ضروری ہوتا ہے۔ ایک چپ سے بہت سے راز پردے میں رہ  جاتے ہیں۔ البتہ یہاں یہ کہنا بے محل نہیں ہوگا کہ وزیر اعظم کو دیگر بہت سے مواقع پر بھی خاموش رہنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔

مطیع اللہ جان کے اغوا پر بیان دینے اور وعدے کرنے والے وزیر و مشیر  بظاہر اپنے وزیر اعظم  سے زیادہ ’با اختیار یا آزاد‘   ثابت ہوئے۔   اس معاملہ  پر سوشل میڈیا  پر طوفان  بپا تھا ،  احتجاج کا سلسلہ ملکی حدود سے عالمی سطح تک پہنچ چکا تھا۔ صرف پاکستان کے صحافی ہی  غصے و پریشانی کا اظہار نہیں کررہے تھے بلکہ متعدد عالمی تنظیموں نے اس پر شدید الفاظ میں  احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ ایسے میں  احمد فراز کے صاحبزادے  اپنے باپ کے اصولوں سے جتنا بھی گریز کرلیں،  ذبردستی اٹھائے گئے ایک صحافی  کے معاملہ پر یہ کہنا تو ان کی مجبوری تھی کہ ’حکومت انہیں بازیاب کروانے کی پوری کوشش کرے گی‘۔ البتہ اس موقع پر بھی  شبلی فراز نے یہ احتیاط ضرور کی کہ یہ وعدہ نہ کر بیٹھیں کہ مطیع اللہ جان  کو اٹھائے جانے سے ملک میں آزادی رائے کو   لاحق ہونے والے اندیشے کو بھی دور کیا جائے گا۔  یاحکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ  صحافی ہی نہیں بلکہ ملک کا کوئی بھی شہری صرف اپنی اختلافی رائے کی بنا پر کسی غیر قانونی سلوک کا مستحق نہ ٹھہرایا جائے ۔

یوں بھی جس حکومت کے دور میں ملک کے سب سے مؤثرا ور اہم میڈیا گروپ کے مالک و مدیر میر شکیل الرحمان کو  گزشتہ پانچ ماہ سے  ایک بے بنیاد  معاملہ  میں قید رکھا گیا ہو، اس میں آزادی رائے   کی حقیقت جاننے کے لئے کسی انسائیکلو پیڈیا کو کھنگالنے کی ضرورت  نہیں ہوتی۔  جیو ٹی وی کے اینکر اور پاکستان کے ممتاز صحافی حامد میر نے ایک انٹرویو میں برملا  کہا ہے کہ جیو ٹیلی ویژن نشریات کو سنسر کیا جاتا ہے اور یہ وہی لوگ کرتے ہیں جن کے اشارے پر   احتساب بیورو  نے جیو اور جنگ کے چیف ایڈیٹر کو  قید کررکھا ہے۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک پروگرام میں صحافی اعزاز سید  کے ساتھ مطیع اللہ جان کے اغوا پر بات کی تھی لیکن بعض بااختیار لوگوں نے  اسے سنسر کروا دیا۔ اس طرح انہیں پتہ چل گیا کہ مطیع اللہ جان کو اغوا کرنے والے کون لوگ تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک میں آزادیوں کو یرغمال بنایا ہؤا ہے اور جو اپنی مرضی کے بغیر کوئی بات  منظر عام پر  نہیں آنے دیتے۔  حامد میر کا کہنا ہے کہ حکومت مطیع اللہ جان کے اغوا میں ملوث نہیں تھی۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ حامد میر کا یہ بیان عمران خان کی حکومت کے لئے اعزاز  ہے یا اس کی اتھارٹی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔   جس حکومت اور وزیر اعظم کو  یہ اختیار بھی حاصل نہ ہو کہ اس کے زیر انتظام کام کرنے والے ادارے  اور ان کا کوئی   بھی کارکن  کسی  صحافی کو اغوا کروا سکتا ہو یا کسی ٹی وی ٹاک شو کو سنسر کروا سکتا ہو،  وہ اسی بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ اسے  وزیر اعظم کا پروٹوکول مل رہا ہے، سربراہان حکومت و مملکت سے فون پر بات  یا ملاقات کرسکتا ہے۔ یا   ٹوئٹ کے ذریعے اپنے سو اکروڑ  کے لگ بھگ فالوورز کو  بتا سکتا ہے کہ وہ نریندر مودی کے خلاف سخت ترین بیان دینے میں ’آزاد ‘ ہے لیکن بلاول بھٹو کے اس الزام کا جواب دینے   کی ضرورت محسوس نہیں کرتا  کہ حکومت نے  کلبھوشن یادیو  کو این آار او دینے کے لئے خفیہ طور سے آرڈی ننس جاری کیا  حالانکہ اس دوران پارلیمنٹ کا اجلاس  ہورہا تھا۔ امور مملکت بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ان میں بہت سے معاملات کو خفیہ رکھنا اہم ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کلبھوشن آرڈی ننس بھی اسی سرکاری و  ریاستی مجبوری کا حصہ ہو۔ لیکن وزیر اعظم بنے رہنے کی جس مجبوری نے عمران خان کے لب سی رکھے ہیں ، اس میں بعض اہم قومی معاملات پر ایسے مباحث سامنے آنا اچنبھے کی بات نہیں ہے جن پر بظاہر کسی اختلاف رائے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔

بولنے والے توتے کا کردار ادا کرتا کوئی وزیراعظم جب ’متعین متن‘ سے باہر بات کرنے کی کوشش کرے،  تو اس کے  پر کاٹنے اور زبان بند کرنے کااہتمام  بھی کیا جاتا ہے۔ ماضی میں اس کی   دردناک مثالیں قائم کی گئی ہیں۔  بدقسمتی سے ہماری عدالتوں نے اس حوالے سے  ہمیشہ   معاون و مددگار کا  کردار  ادا کیا ہے۔   آئین  شکنی کے  کسی  مجرم کو جواب دہ قرار نہیں دیا گیا۔ حتی کہ پرویز مشرف کے معاملہ میں تو سپریم کورٹ نے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی مرحمت کیا اور اور اس وقت کے چیف جسٹس اب بھی اس فیصلہ کو درست  کہتے ہیں  اور ان کی دلیل بھی دلچسپ ہے کہ جب طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ ہوجائے تو عدالت کیا کرسکتی ہے۔ شاید مکمل فقرہ یوں ہوگا  کہ  پھر عدالت بھی   مفاہمت ہی کرسکتی ہے۔  توتے کا کردار ادا کرنے والا وزیر اعظم    خاموش رہ کر سیاسی اختیار  اور جمہوری روایت  پر سمجھوتہ کرتا ہے لیکن  آئین شکن سے خوفزدہ ہونے والی عدالت  عدل و انصاف  اور حق پرستی کی اس روایت سے گریز  کی ذمہ دار ٹھہرتی ہے جس کے بغیر کوئی معاشرہ مہذب کہلوانے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔

معاملہ  ایک آمر کے سامنے کلمہ حق کہنے کے حوصلہ  کی بجائے نگاہیں جھکالینے تک محدود نہیں ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت   ایک سابق وزیر  اعظم کے عدالتی قتل  کو ری وزٹ کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔  یا ایسے فیصلوں کو متروک قرار دینے کا کوئی تاریخ ساز فیصلہ صادر نہیں کرسکتی  جن میں اس ملک میں آئین و قانون کو تماشہ  بنایا گیا، نظریہ ضرورت ایجاد کرکے انصاف کا خون کیا گیا اور اس قوم کو دہائیوں تک  بنیادی شہری حقوق سے محروم کیا گیا۔  پاکستان کی عدالتیں اس شرمناک روایت  سے درگزر پر  آمادہ نہیں ہیں۔  قاضی فائز عیسیٰ کیس میں مصالحت کا رویہ اسی روایت کا تسلسل ہے جس نے ملک میں جمہوری بنیادوں کو کمزور کیا ہے۔ مطیع اللہ جان کا اغوا  ان کے اس قصور کی سزا ہے  کہ وہ جمہوریت  اور قانون کی بالا دستی کے لئے  عدالتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ سپریم کورٹ البتہ  ان کی  ٹوئٹ میں توہین عدالت کا سراغ لگانا ضروری سمجھتی ہے۔ یہ جاننا اہم نہیں ہے کہ  ملک میں  ہر روایت، اختیار اور قانون کو مسترد کرنے والی بعض  طاقتیں سایوں کی صورت  میں موجود ہیں ۔

ملک کے دارالحکومت سے دن دہاڑے ایک صحافی کا اغوا    سادہ معاملہ نہیں ہے۔  جاننا چاہئے کہ یہ ایسا جرم  ہے جس پر وزیر اعظم کو بولنے کا یارا نہیں اور حکومت کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ  لوگ  برسر عام  اسے بے اختیارکہتے ہیں ۔ ملک کا وزیر اعظم ایک جرم پر اپنی ذمہ داری نہ تو پوری کرتا ہے اور نہ ہی اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔  اور  چیف جسٹس آئی جی پولیس کی رپورٹ سے مطمئن ہونے  پر آمادہ ہیں۔   یہی اس معاملہ کا سب سے المناک پہلو ہے ۔    ملک کا چیف ایگزیکٹو اور چیف جسٹس یکساں بے بس و لاچار ہیں۔  سوال یہ ہے کہ جنہیں معاملات پر اختیار   کا دعویٰ ہے، کیا حالات ان کے اپنے کنٹرول  میں بھی ہیں؟

لاقانونیت  کا سب سے منفی اور دردناک پہلو یہی ہے۔ اس میں   طاقت سے  کمزور کو مسلنے کے سوا کوئی اصول متعین نہیں ہوتا۔  طاقت و اختیار کی بنیاد پر   اپنے اعمال کو مسلط کروانے کا  طریقہ رواج پاجائے تو   اس صورت حال کو ’جنگل کا قانون‘ کہا جاتا ہے۔ جنگل کے قانون میں ہر ظلم شیر کی اجازت سے انجام نہیں پاتا۔  معاملہ کے اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر شاید بولنے والے توتے کی بجائے حقیقی وزیر اعظم کی اہمیت اور مصالحت پر مجبور جج کی بجائے معاملات کو  انصاف کے ترازو  میں پرکھنے والے منصف کی  ضرورت  محسوس کی جاسکے۔

loading...