مرفوع القلم حوادث

میں پچھلے چار دنوں سے اس مخمصے میں تھا کہ کیا لکھوں ؟ کیونکہ پاکستانی سیاست ایسی ٹیڑھی کھیر ہے جو حلق سے اُترتے ہوئے ہچکچاتی ہے ، اور زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگاتی نہ صرف نظامِ انہضام کو خراب کرتی ہے بلکہ نروس بریک ڈاؤن کا دروازہ بھی کھول دیتی ہے ۔

المیہ یہ ہے کہ سیاسی لوگ بہت بد تمیز ہیں ، بہت بد کلام ہیں ، اور لگتا ہے اسلام تو درکنار وہ عمومی انسانی اخلاقیات سے بھی نا واقف ہیں ۔ ایسے نا معتبر لوگ اس سے پہلے چشمِ فلک نے کیا دیکھے ہوں گے جن کے پلے الزامات ، دشنام ، سب و شتم اور بد اخلاقی کے رنگ برنگے غباروں کے سوا کچھ ہے ہی نہیں اور جب یہ غُبارے دو طرفہ بدتمیزی کی جنگ میں پھٹتے ہیں تو دور تک بدبو پھیل جاتی ہے ۔ ایسی مکروہ بدبو کہ سانس رُکنے لگتی ہے اور زندگی کے نمائندے پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں جو انسانی بستیوں میں شر پھیلا رہے ہیں ۔ اور ایک ایسے زمانے میں جب کہ عالمِ انسانیت کویڈ ۱۹ نامی وبا کی زد میں ہے ، ان لوگوں کو  ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ۔ اسمبلیوں اور پریس کانفرنسوں میں جو کچھ ہوتا ہے اُن پر گفتگو ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ مرفوع القلم حوادث ہیں ۔

یہ وہ سیاسی کیچڑ ہے جس میں پوری قوم لتھڑی ہوئی توبہ توبہ کر رہی ہے لیکن اس صورتِ حال میں ایسے کاروباری لوگ بھی ہیں جو کیچڑ  کی دلالی میں بھی مال بنانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ پہلے تو پرنٹ میڈیا اکیلا تھا جس کی مدد کے لیے جنرل پرویز مشرف نے الیکٹرانک میڈیا  کے لائسنس گرم کیکوں کی طرح بانٹے اور ٹاک شوز کا بازار لگ گیا ۔ بھانت بھانت کے تجزیہ کار اور سیاسی دانشور تیار کرنے کی فیکٹریاں لگ گئیں جو ہر سیاسی جماعت کے لیے کرائے پر دستیاب تھے اور ہیں ۔ وہ سیاستدانوں کے متحارب کیمپوں کے لیے کرائے پر الزامات اور ردِ الزامات کی جنگ لڑتے ہیں ۔ اور اُن کی طرف سے الزامات گھڑنے کے لیے چیونٹیوں کو ہاتھی بنانے کا ہنر جانتے ہیں اور اپنے اس کاروبار کو فتھ جنریشن وار کا نام دیتے ہیں ۔

یہ ففتھ جنریشن وار کیا ہے اور اس کا پاکستان کے خطِ غربت سے نیچے سسکتے کروڑوں لوگوں کو کیا فائدہ ہے ، کوئی نہیں جانتا ۔ نظر یہ آ رہا ہے کہ پورا معاشرہ ہیجان میں مبتلا ہے ، جہاں امن غارت ہے ، ترقی رک گئی ہے ، زرعی اور صنعتی  پیداوار  میں کمی واقع ہو گئی ہے ۔ لوگ پانی اور بجلی کو اور بچے خالص دودھ اور تعلیم کو ترس گئے ہیں اور سب سے سنگین المیہ یہ ہے کہ  مسلمانوں کے ملک میں جہاں تعلیم کو لازمی اور مفت ہونا چاہیے ، بہت مہنگی صنعت بنا دیا گیا ہے ۔ ایسی صنعت میں کروڑوں کا منافع تو ہے لیکن تعلیمی معیار خاک میں مل گیا ہے ۔ اور قومی زبان اردو جسے ذریعہ  تعلیم کے طور پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے ، ٹوٹی پھوٹی انگریزی کی نوکرانی بن کر رہ گئی ہے ۔ علاقائی زبانوں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے اور ایسے نا ہنجار جعلی ماہرینِ تعلیم ان مصنوعی تعلیمی اداروں پر مسلط ہیں  جو  علاقائی یا صوبائی زبان بولنے پر بچوں کو سزا دیتے ہیں ۔

یہ ایک ایسی مکروہ سازش ہے جس پر  اپنی علاقائی زبانوں اور ثقافتوں سے محبت کرنے والوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ یعنی ایک پنجابی بچے کو پنجابی بولنے پر سزا  ؟ لعنت ہو ایسی تعلیمی  پیش رفت پر اور ایسے ماہرینِ تعلیم پر ۔ ادھر مذہبی شعبے کا حال اس بھی بد تر ہے ۔ خود کو علما کہلوانے والے خدا اور رسول صلی الہ علیہ وسلم کے وہ مجرم اور اسلام کے غدار ہیں جو اس قوم کی اخلاقی تربیت کر ہی نہیں پائے ۔ ہر روز  ایسی خبریں دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں مسجد میں ایک کم سن لڑکی کی آبرو ریزی ہوئی ہے ۔ کہیں سے بچوں کے ساتھ بد فعلی کی خبریں مسلسل آتی ہیں اور ملزم  مسجد و مکتب  کے کارکن ٹھہرتے ہیں ۔ ایسے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کہ کیا سچ مچ اس سطح تک گر گئے ہیں اور اس صورتِ حال کا تدارک کرنے کے بجائے مذہبی اداروں کے مہتمم ، علما اور حفاظ اس طرح کی خبروں کو علما کے خلاف منفی پراپیگنڈے کا نام دے کر معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں جو ایک انتہائی مکروہ فعل ہے ۔

یہی حال ازدواجی تعلقات اور شادی بیاہ کے معاملات کا ہے کہ بیڈ روم سے لے کر سمدھیوں کے آنگنوں تک خون  پھیلا ہوا ہے ۔بچے قتل ہو رہے ہیں ۔ کم سن بچوں کو ماں باپ قتل کر رہے ہیں اور  بھوک گلی کوچوں میں بھنگڑا ناچ رہی ہے ۔ کیا یہ سب کچھ سیاست دانوں کو نظر نہیں آتا  ۔ شاید نہیں آتا کیونکہ وہ نفسا نفسی میں اس طرح مبتلا ہیں کہ اوسان کھو بیٹھے ہیں  ۔اُنہیں اپنی کھوئی ہوئی کرسیوں کا غم ہے ، وہ اپنے خلاف نیب کے مقدمات کا خاتمہ چاہتے ہیں اور وہ نون لیگی اکابرین جو کل تک زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی سوگند اُٹھاتے رہے  اب بلاول زرداری سے اپنا اتحاد بنا رہے ہیں ۔ کہاں گئے وہ نظریات ؟ کیا یہی ہے انسانی شرافت کا معیار ؟ یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ ہے کہ مجھے اس کے مختلف پہلوؤں پر لکھتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے ۔ سو میں نے  طے کیا ہے کہ میں ان سیاسی چڑیا گھر کے جانوروں سے  فاصلہ رکھوں گا اور اُن علما کے نظریات سے بھی دورو رہوں گا جو عام آدمی کے ذہن میں زہر تو گھولتے ہیں مگر لوگوں کو نیکی اور اسلامی  اخلاق کا درس نہیں دے سکے اور نہ ہی وہ انسان تعمیر کر سکے جو اسلامی تعلیمات کا شاہکار ہو ۔ سچ مچ کا مسلمان ہو ۔ اقبال نے علما کے منصب اور ذمہ داری کے بارے کہا ہے کہ :

شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر

جس کی صنعت ہے روحِ انسانی

مگر انسانی روح اسلامی اخلاقیات کے سمندر کے کنارے پڑی پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہی ہے اور گداگر کوے حلوہ کھا رہے ہیں ۔ یہ بہت تکلیف دہ صوتِ حال ہے اورایسے  میں کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی وکالت کرنا میرے بس کا روگ نہیں ۔ اور میں نے یہ ساری تمہید اس لیے باندھی ہے کہ  میں دوستوں کو قائل کر سکوں کہ  کرپشن زدہ سیاست کے کیچڑ میں پتھر پھینکنا کسی لکھنے والے کا کام نہیں ۔ میں بنیادی طور پر شاعر ہوں اور  قوم کے دکھوں پر روتا رہتا ہوں ،  اس لیے طے یہ کیا ہے کہ  اب صرف اور صرف  سماجی موضوعات پر لکھوں گا ۔ یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے ۔ اور المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی اصل حکمران قوتوں سے جو اس معاشرے کو تباہ کر رہی ہیں ، لڑنا آسان نہیں اور ہمیں اس کے لیے تیار ہونا ہے جو عوام کی ظالموں کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہوگی ۔ انشا اللہ

loading...