سپریم کورٹ نے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی

  • منگل 14 / جولائی / 2020
  • 1380

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔ اس ضمن میں عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکمِ امتناع بھی خارج کر دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے 23 جون کو ایک حکم  میں وفاقی حکومت کو شوگر کمیشن رپورٹ کی روشنی میں شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے منگل کو اس پر سماعت کے دوران ایک حکم میں کہا ہے کہ حکومت اور ادارے قانون کے مطابق شوگر ملز کے خلاف کارروائی کریں لیکن شوگر ملز مالکان کے خلاف غیر ضروری اقدامات نہ کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین ہفتے میں شوگر ملز کی درخواستوں پر فیصلہ کریں۔ عدالت نے شوگر کمیشن رپورٹ پر حکومتی عہدیداروں کو بھی بیان بازی سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران شوگر ملز مالکان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتی وزرا بیان بازی کر کے میڈیا ٹرائل کرتے ہیں جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ بیان بازی سیاسی معاملہ ہے جس پر زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے۔  اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شوگر ملز کی تحقیقات کے معاملے پر بنایا گیا پہلا کمیشن ہے جس میں دو وزرائے اعلی پیش ہوئے اور وزیرِ اعظم کے قریب ترین ساتھی کو بھی کمیشن میں پیش ہونا پڑا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ شفاف کام ہونا چاہیے تاکہ ملوث افراد کیفرِ کردار تک پہنچ سکیں۔ تکنیکی معاملات میں عوام کا مفاد پیچھے نہیں رہنے دیں گے۔  پاکستان میں رواں برس جنوری میں اچانک گندم اور چینی کا بحران پیدا ہو گیا تھا لیکن حکومت کا دعویٰ تھا کہ ملک بھر میں گندم اور چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

اس تمام صورت حال کے بعد ملک بھر میں آٹا 45 روپے فی کلو سے  70 روپے فی کلو تک پہنچ گیا اور چینی بھی مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئی۔ مارکیٹ میں 52 روپے فی کلو میں ملنے والی چینی کی قیمت 75 سے 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ اس بحران میں وزیرِ اعظم کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین اور بعض حکومتی شخصیات پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے جس پر وزیرِ اعظم عمران خان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ایف آئی اے کی چھ رکنی ٹیم نے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں اس تمام معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے چینی بحران کے ذمے داروں کو سزا دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارش پر انکوائری کمیشن قائم کیا۔ یہ کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا گیا اور یہ پہلے ہی اپنا کام شروع کر چکا تھا۔ انکوائری کمیشن کی نو ٹیموں نے بحران سے فائدہ اٹھانے والی شوگر ملز کا فرانزک آڈٹ کیا جس میں جہانگیر ترین کی شوگر ملز بھی شامل تھی۔

کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ حکومت کو ارسال کی جس کے بعد 21 مئی کو وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز اور وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خد و خال کے بارے میں بتایا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں جہانگیر ترین کے علاوہ اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف کو بھی چینی بحران میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے قبل شوگر ملز مالکان اسلام آباد ہائی کورٹ بھی پہنچے تھے جہاں 20 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری رپورٹ پر جاری کردہ حکم امتناع ختم کرتے ہوئے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دی تھی۔

loading...