ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریل منصوبے سے الگ کر دیا

  • منگل 14 / جولائی / 2020
  • 1140

بھارت کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق فنڈز کی فراہمی میں تاخیر پر ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریلوے منصوبے سے الگ کر دیا ہے۔

بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے اسے بھارت کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سفارتی شکست قرار دیا ہے۔ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار سے زاہدان اور افغانستان کی سرحد تک اس ریلوے منصوبے پر 2016 میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، ایران کے صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے دستخط کیے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے بھارت افغانستان اور وسطی ایشیائی ملکوں تک رسائی کے لیے متبادل روٹ کا خواہاں تھا۔ لیکن بھارتی ذرائع ابلاغ نے ایران کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت کی جانب سے منصوبے میں تاخیر کے باعث ایران نے اپنے طور پر یہ منصوبہ مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ محمد اسلامی نے 628 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک بچھانے کا افتتاح کیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ منصوبہ مارچ 2022 میں مکمل کر لیا جائے گا۔ انڈین ریلوے کنسٹرکشن (ارکون) نے اس منصوبے میں تیکنیکی معاونت، سول ورک اور ٹریک بچھانے کی مد میں لگ بھگ 1.6 ارب ڈالر خرچ کرنا تھے۔ لیکن اب ایرانی حکام کے مطابق ایران کے قومی ترقیاتی فنڈ سے منصوبے کے لیے  فوری طور پر 400 ملین ڈالر کی رقم مختص کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے حال ہی میں چین کے ساتھ 25 سال کے لیے معاشی اور سیکیورٹی شراکت داری کے منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے میں چین، ایران میں مواصلات، بینکنگ، صنعت، ریلوے لائنز اور بندرگاہوں کی تعمیر کے سلسلے میں ایرانی حکومت کی معاونت کرے گا۔ اس کے بدلے ایران، چین کو 25 سال تک سستا تیل فراہم کرے گا۔ اس منصوبے کو چین کے خطے میں برھتے ہوئے اثر و رسوخ کی  کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

اُدھر بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ یہ بھارت کی بڑی ناکامی ہے۔ چین نے خاموشی سے ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ انڈیا کی بڑی شکست ہوئی لیکن آپ سوال نہیں کر سکتے۔ بھارتی حکومت کا اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو مزید فعال بنانے کے لیے تہران حکومت کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے۔ اس منصوبے کو چین اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا متبادل قرار دیا جاتا رہا ہے۔

لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کے باعث بھارت پر ان منصوبوں پر عمل درآمد نہ کرنے کے لیے امریکہ کا دباؤ بھی ہے۔

loading...