غیر ملکی طلبہ کی واپسی روکنے کے لیے 17 ریاستوں نے ٹرمپ حکومت پر مقدمہ کردیا

  • منگل 14 / جولائی / 2020
  • 1810

امریکہ کی 17 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے جس کے مطابق آن لائن کلاسیں لینے والے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے۔

گزشتہ ہفتے ریاست کیلی فورنیا نے اسی طرح کا الگ مقدمہ دائر کیا تھا جب کہ ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایسی ہی درخواست کی سماعت منگل کو ہو گی۔ ملک بھر کی 200 سے زیادہ یونیورسٹیوں نے ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کے حق میں بیانات عدالت میں داخل کروائے ہیں۔

امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے ایک ہفتہ قبل جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ موسمِ خزاں میں شروع ہونے والے تعلیمی سال کے لیے ان طلبہ کو ویزا جاری نہیں کیا جائے گا جن کی تمام کلاسیں آن لائن ہوں گی اور جو طلبہ ملک میں موجود ہیں، انہیں واپس جانا پڑے گا۔

سترہ ریاستوں نے عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکم نامے سے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی احتیاط سے کی گئی منصوبہ بندی ناکام ہو جائے گی جو وہ کئی مہینوں سے کر رہی تھیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے طلبہ کو وبا کے دوران وطن جانا پڑے گا جہاں ان کی تعلیم حاصل کرنے کی اہلیت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

میساچوسٹس کی اٹارنی جنرل مورا ہیلی نے مقدمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایڈمنسٹریشن پروسیجر ایکٹ کے خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے یہ تک بتانے کی زحمت نہیں کی کہ اس عاقبت نااندیشانہ فیصلے کی بنیاد کیا ہے۔ اس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو اس انتخاب پر مجبور ہونا پڑے گا کہ وہ یا تو صحت عامہ کو لاحق خطرات کے باوجود کیمپس کھولیں یا اپنے غیر ملکی طلبہ کو وطن واپس جانے پر مجبور کریں۔

وفاقی ہدایت نامے کے بعد غیر ملکی طلبہ نے پریشان ہو کر ایسے کورسز کی تلاش شروع کر دی تھی جس میں کیمپس کی حاضری ضروری ہو۔ ایسے کورسز کم دستیاب ہیں۔ بہت سی یونیورسٹیاں منصوبہ بنا رہی ہیں کہ چند آن لائن اور چند حاضری والی کلاسوں پر مشتمل کورس پیش کیے جائیں تاکہ وبا کے دوران اساتذہ، طلبہ اور کمیونٹی کی صحت کا تحفظ کیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیلے میک اینانی نے گزشتہ ہفتے انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کیا تھا۔

ان 17 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں مجموعی طور پر 1124 کالج اور یونیورسٹیاں ہیں جن میں 2019 میں 3 لاکھ 73 ہزار غیر ملکی طلبہ نے داخلہ لیا تھا۔ عدالت میں داخل کی گئی درخواست کے مطابق ان طلبہ کی وجہ سے معیشت کو 14 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا تھا۔

مجموعی طور پر امریکہ میں گزشتہ سال 11 لاکھ غیر ملکی طلبہ نے تعلیم حاصل کی اور امریکی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں میں ان کا تناسب 5٫5 فیصد تھا۔ اعلی تعلیم کے تقریباً 40 اداروں نے اس مقدمے کی حمایت میں بیانات جمع کرائے ہیں جن میں ژیل، ڈی پال، شکاگو یونیورسٹی، ٹفٹس اور رٹجرز کے علاوہ الی نوئے، میری لینڈ، میساچوسیٹس، منی سوٹا اور وسکونسن کی اسٹیٹ یونیورسٹیاں شامل ہیں۔

loading...