نصف ایمان کا مقدمہ

صفائی جو خُدا کو پسند ہے ، اُس کے بندوں میں سے بہت سوں کو پسند نہیں ہے اور اُس کا سبب یہ ہے کہ ہر شخص خُدا نہیں کہ وہ صفائی جیسی آسمانی عیاشی کا متحمل ہو سکے ۔ صفائی نصف ایمان ہے اور اُس کا آغاز انسانی سوچوں سے ہوتا ہے جو یا تو صفائی کی گواہی دیتی ہیں یا غلاظت کی ۔

 ہمارے شہروں میں گھومتے پھرتے لوگوں میں سے بیشتر کے چہرے نجاست سے آلودہ ہوتے ہیں اور جب وہ بولتے ہیں تو ماں بہن کی غلیظ گالیاں اُن کے دہن سے ٹپکتی ہیں جو چوبیس گھنٹے اُن کی باچھوں سے لٹکی رہتی ہیں ۔ گالی شرفا کی گفتگو کا مرچ مسالہ ہوتا ہے اور کچھ لوگ کسی مخصوص گالی کو تکیہ کلام کے طور پر اپنی شناختی علامت بنا لیتے ہیں اور لوگ اُن کی پہچان یوں  بتاتے ہیں کہ  یہ وہ بزرگ ہیں  جو بات بات پر ماں کی گالی دیتے ہیں ۔ یہ گالیاں وہ بے پر کی مکھیاں ہیں جو انسانی زبان سے ٹپکتی ہیں ۔ بعض معاشروں میں اُنہیں اس طرح قبول کر لیا جاتا ہے جیسے یہ کوکین کی سلائی لگا پان ہو اور جس سے نہ صرف ہونٹ لال رہتے ہیں بلکہ شرم کے مارے فضا کے چہرے پر بھی حیا کی سُرخی دوڑ جاتی ہے ۔

بعض معاشروں میں یہ چائے اور سگریٹ کی طرح چلتی ہے اور پھر چلتی ہی چلی جاتی ہے ۔ گالی کے بہت سے ڈپو پولیس تھانوں میں قائم ہوتے ہیں جہاں سے باوردی گالیاں تقسیم ہوتی ہیں اور ایسی ایسی تخلیقی  گالیاں کہ عرفی کے تخیئل کا محل بھی اُس کے سامنے دم نہ مار سکے ۔ ہمارے یہاں بیشتر گالیاں جنسی نوعیت کی ہوتی ہیں جس میں نامناسب جنسی تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہی خواہشیں جب شاعری میں در آئیں تو اُسے رومانیت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ گویا گالی ایک شعر ہوتا ہے جو نثری  اسلوب میں ہوتا ہے جسے آپ رومانوی نژی شاعری بھی کہہ سکتے ہیں ۔ انور شعور کا ایک شعر ہے جو اسی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ فرماتے ہین:

میں چھپاتا ہوں برہنہ خواہشیں

تو سمجھتی ہے کہ شرمیلا ہوں میں

چنانچہ گالی برہنہ خواہش کا سرِ عام اظہار ہے جسے جراءتِ رندانہ کا نام دیا جا سکتا ہے ۔ لیکن یہ لسانی غلاظت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم اپنے اندر کی صفائی نہیں کرتے ۔ ہمارے اندر چھپی بے حیائی گالی سے اظہار پاتی ہے اور آسمانی کتاب نے کھلی اور چھپی بے حیائی کو حرام قرار دیا ہے ۔ ہم  حلال و حرام کے بڑے قائل ہیں اور حرامزادوں کو بھی یاد رکھتے ہیں اور حرامزدگیوں کو بھی سماجی قبولیت کی سند جاری کیے ہوتے ہیں ۔ پنجابی زبان  میں یہ اِظہار اوئے  کہہ کر کیا جاتا ہے ۔ اب یہاں اس سوال کو زیرِ بحث لانے کی ضرورت نہیں کہ کسی کو حرامی کہنا مہذب لوگوں کا شیوہ اور رویہ ہوسکتا ہے یا نہیں مگر  مونہہ کے اندر سے جب لفظوں کے پکے ہوئے پھل برآمد ہوتے ہیں تو پھر نہ وہ مخاطب کو دیکھتے ہیں نہ ماحول کو خاطر میں لاتے ہیں ۔ بس غلیظ لفظوں کا ایک طوفان ہوتا ہے جو ہر اخلاقی شجر کو تہس نہس کردیتا ہے ۔یہ وہ کلمات ہیں جنہیں کتاب اللہ میں  کلماتِ خبیثہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور فارسی کی ایک کہاوت اس طرزِ کلام کی تعریف یوں کرتی ہے کہ : از کوزہ ہمی بیروں تراود کہ در اوست ، یعنی برتن سے وہی برآمد ہوتا ہے جو اُس میں ہوتا ہے ۔

 اب اگر مولوی خادم رضوی کے جنات پین دی سری کا وظیفہ کرتے ہیں تو اس سے گالی کو مشرف پہ خطابت نہیں کیا جا سکتا مگر ہمارے یہاں ایسے عاشقانِ مذہب کی ایک بڑی آبادی موجود ہے جو شیوخ کی گالیوں کو تبرک خیال کرتی ہے اور  گالی سن کر نعرہ ء تکبیر بلند کرنا نہیں بھولتی ۔ اندر کی یہ غلاظت جب داخل سے خارج کی طرف یا موضوع سے معروض کی طرف پیش رفت کرتی ہے تو جو شاہکار جنم لیتے ہیں ، وہ اُن طویل و عریض تصویروں کی طرح ہوتے ہیں جو دیواروں کے بجائے سڑکوں اور گلی کوچوں کے کینوس پر بنائے جاتے ہیں جنہیں کچرا کُنڈی یا روڑی کہا جاتا ہے ۔ یہ ہماری وہ گالیاں ہیں جو باہر نکل کر مادی شکل اختیار کر چکی ہیں ۔ گالی دینا اور گالی کھانا لازم و ملزوم ہے ۔ جو گالی دیتا ہے وہ گالی کھاتا بھی ہے  یعنی جو گالی کھاتا ہے وہ دیتا بھی ہے۔

گالی رنگ برنگے پیکٹوں میں بھی دستیاب ہوتی ہیں ۔اور وہ دانشوروں کی نجی محفلوں سے لے کر تھڑوں تک ، چودھریوں کے ڈیروں سے لے کر  گلی محلوں کی بیٹھکوں تک ہر جگہ لی اور دی جاتی ہے  ۔ اور بسا اوقات گالیاں دیواروں پر لکھی جاتی ہیں جیسے عوام کی اپنی صوابدید  کے مطابق  سر راہے قائم پیشاب گاہوں میں لکھا ہوتا ہے کہ دیکھیے صاحب ، یہاں ایک کُتّا پیشاب کررہا ہے ۔ جن معاشروں میں سرِ عام وٹوانی کی اجازت ہو وہاں ایسے نوشتہ ہائے دیوار معمول کی بات ہوجاتی ہے ۔ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اس طرح کے جملے سماج سے قبولیت کی سند حاصل کرلیتے ہیں ۔

 ستر کی دہائی میں روزنامہ مساوات میں ، مجھے لاہور شہر کے نصف بے ایمان ہونے کے موضوع پر ایک فیچر لکھنے کی استطاعت حاصل ہوئی تھی تو میں نے یہ سوال اُٹھایا تھا کہ جب صفائی نصف ایمان ہے تو کوڑے کے ڈھیروں سے اٹا یہ شہر نصف بےا یمان ہے لیکن ہم ایسے کمزور لوگ نہیں ہیں کہ اس طرح کے اخباری الزامات سے متاثر ہوں ۔ ہم نہ تو خود سدھرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو سدھرنے دیتے ہیں ۔ چنانچہ ہم گالی کو علامتی زبان میں بھی لیتے اور دیتے ہیں ۔ چنانچہ کسی کو کُتا ، خنزیر یا بندر کہنا گالی کی انتہائی معصوم صورتیں ہیں ۔ اسی تناظر میں میں یہ سوچ رہا تھا کہ جب سعید غنی صاحب علی زیدی کو چبل بلکہ مہا چبل کہتے ہیں تو کیا اسے گالی پر محمول کیا جا سکتا ہے نہیں ۔ لیکن ہمارے سیاسی کلچر میں کسی کو چور کہنا ، کسی کو نالائق کہنا ، نا اہل قرار دینا اور کرپٹ کہنا گالی نہیں بلکہ کوالیفیکیشن ہے ۔ اور مجھے لگنے لگا ہے کہ سیاست نا اہلی ، نالائقی ، کرپشن اور منی لانڈرنگ کے بغیر چل ہی نہیں سکتی ۔

 ہمارا  کرپشن کلچر ہماری شناخت ہے اور ہم اس میں اس طرح رچ بس گئے ہیں کہ اب یہ نہ ہو تو ہم مر ہی جائیں ۔ اور اس کلچر کو ندہ رکھنے کے لیے معاشرے کی اکثریت کو ضروریات، زندگی سے محروم رکھنا ہوتا ہے اور ہمارا یہ طرزِ سیاست ایک ایسی گالی بن چکا ہے جو ہماری قومی شناخت ہے اور اس کے بغیر ہمارا سیاسی وجود برقرار ہی نہیں رہتا ۔ یہ وہ خیالات ہیں جو  بہت بد مزگی پیدا کرتے ہیں  اوربد مزگی کے اس ماحول میں  تھوڑی سی شاعری نہ کر لوں اگر اجازت ہو:

میں ہوں اُستاد وہ ہے اُستانی

مجھ سے بڑھ کر ہے میری مرجانی

ہائے وہ قصّہ ہائے بریانی

یادِ ایامِ عشرتِ فانی

یہ کرپشن ہے وہ حکومت ہے

دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی

لوگ پڑھنے کا آرٹ بھول گئے

اب تو دانائی بھی ہے نادانی

تیری جمہوریت خُدا سمجھے

مارشل لاؤں کی ہے یہ نانی

پارٹی کیا ہے لوگ جانتے ہیں

آپ اور آپ کی یہ کپتانی

بات کوئی ڈھکی چھپی تو نہیں

دور تک اُگ رہی ہے ویرانی

کیک کے ساتھ چائے پی مسعود

کہہ رہی ہے یہ میری مستانی

loading...