کورونا ویکسین کے بعد بھی سماجی چیلنج باقی رہے گا

  • اتوار 12 / جولائی / 2020
  • 860

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے تک معیشت مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکتی۔ تاہم جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ویکسین فراہم ہونے کے بعد ایک تہائی امریکی اسے لگوانے سے انکار کرسکتے ہیں۔

وبا کا خاتمہ  اور لوگوں کو پھر سے کام کاج میں مشغول کرنا نہ صرف ایک طبی چیلنج ہے، بلکہ یہ ایک سماجی چیلنج کی سی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق طبی معاملات حل کرنے کی غرض سے اربوں ڈالر مختص کیے جا رہے ہیں لیکن سماجی الجھنیں دور کرنے کی جانب توجہ مبذول نہیں کی جا رہی۔

جانز ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے شعبہ ثقافت سے وابستہ ایک سینئر دانشور اور اس رپورٹ کی معاون مصنفہ مونیکا سوک سپانا نے کہا ہے کہ ''آپ کو محض ایک کامیاب طبی آزمائش کے نتیجے میں تیار ہونے والی ویکسین پر اکتفا نہیں کرنا، بلکہ ہمیں سماجی طور پر قابل قبول ویکسین بنانی ہے''۔ سوک سپانا نے کہا کہ سائنس دان کوویڈ 19 کے علاج کے لیے فقید المثال تیزی کے ساتھ ایک محفوظ اور مؤثر ویکسین تیار کرنے کی جستجو میں ہیں۔ لیکن انسانی سوچ کے دھارے کو ذہن نشین کرنے کے حوالے سے کوتاہی برتی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے 22 مصنفین کا کہنا ہے کہ دھیان دینے کہ بات یہ ہے کہ اس کا مداوا کیسے ہو؟ مصنفین میں وبائی امراض، ویکسین تیار کرنے والے اور سماجی سائنس دان شامل ہیں۔ شدید خدشات اور درپیش سماجی ماحول کے پیش نظر ضروری اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

'نیشنل اڈلٹ اور انفلوئنزا امیونائزیشن' کے سربراہ ایل جے ٹین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے مخالفین کوشاں ہیں کہ ویکسین مخالف تحریک کامیاب ہو، جس کے لیے وہ ہر طرح کے حربے آزما رہے ہیں۔ اس کی زیادہ تر وجہ سیاسی نوعیت کی ہے۔ 'نیشنل اڈلٹ اور انفلوئنزا امیونائزیشن' سے وابستہ لوگوں کا تعلق ویکسین کے حق میں کام کرنے والے سرکاری اور نجی اداروں کے اتحاد سے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات پر اصرار کہ ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن کورونا وائرس کے علاج کے لیے مفید ہے، دراصل انتظامیہ طبی ماہرین کی نفی کر رہی ہے۔ یہ حقیقت کے برعکس ہے۔  سوک سپانا کی رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ یہ تاثر دینا کہ الٹرا وائلٹ روشنی یا بلیچ کا استعمال کرونا وائرس کے علاج میں معاون ہو سکتے ہیں، درست نہیں ہے۔

رائے عامہ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بات کی توثیق کے نتیجے میں 36 فی صد افراد ویکسین کے استعمال کی مخالفت کریں گے، جب کہ امکان یہی ہے کہ محض 14 فی صد ایسے افراد ہیں جو اس توثیق کو درست مانیں گے۔

ادھر صحت عامہ کے حکام اس بات کے خواہاں ہیں کہ بداعتمادی کو دور کیا جائے، جس کے لیے وہ رضاکارانہ کام کرنے والے اداروں، گرجا گھروں، کمیونٹی گروپوں وغیرہ سے رابطہ کر رہے ہیں، جن کی مدد سے ویکسین لگانے کا کام بطور احسن مکمل کیا جائے گا۔

loading...