پاکستان میں رواں ماہ کے اختتام پر ٹڈی دل کے بڑے حملے کا خدشہ

  • جمعہ 10 / جولائی / 2020
  • 810

حکام نے خبردار کیا ہے کہ رواں ماہ کے اختتام پر ٹڈی دل کے  بڑے حملے کا خطرہ ہے۔  وسائل کی کمی کی وجہ سے اس حملہ پر قابو پانے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (این ایل سی سی) میں سفارتی کورپس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے تین سے چار ہفتوں میں ٹڈیوں کا مسئلہ عروج پر پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ  15 جولائی سے 15 ستمبر کے درمیان مون سون اور کورونا وائرس کی وجہ سے نہایت سخت ہوں گے۔

پاکستان ٹڈیوں کے نقل مکانی کے راستے پر ہے اور یہاں موسم گرما اور بہار دونوں ہی کے افزائش کے علاقے یہاں ہیں لہذا یہ خاص طور پر ٹڈی کے حملوں کا ہدف ہے اور گزشتہ کئی سالوں میں اس مشکل کا سامنا کرتا آرہا ہے۔ یمن، سعودی عرب اور عمان سے متصل جنوبی عرب جزیرے میں 2018 میں موسمیاتی تبدیلی سے بین الاقوامی سطح پر ٹڈی کا بحران شروع ہؤا تھا۔ پاکستان میں ٹڈی کے حملے گزشتہ سال جون میں شروع ہوئے تھے۔

اس سال پاکستان کے لیے 27 برسوں میں سب سے زیادہ خراب صورتحال ہوگی کیونکہ 2019 میں معمول کے مون سون سے زیادہ بارشیں اور سازگار حالات کی وجہ سے 3 نسلوں کی افزائش ہوئی ہے۔ دریں اثنا افریقہ، یمن اور خطے کے دیگر ممالک میں ٹڈیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے نے حملے کا شدید خطرہ پیدا کردیا ہے۔

ابتدائی طور پر خیال کیا جارہا تھا کہ ٹڈی کے حملے جون سے شروع ہوسکتے ہیں تاہم اب تک ایسا نہیں ہوا۔

جنرل محمد افضل کا کہنا تھا کہ '22 جون سے 10 جولائی تک ہماری توقع کے مطابق یہاں ٹڈیوں کی اتنی تعداد نہیں آئی اور جو بھی تعداد سامنے آئی ہے ان میں سے بیشتر بھارت کی جانب جاچکی ہے'۔

ممکنہ طور پر موثر کنٹرول کے اقدامات، موسم بہار میں پیدا ہونے والی نسل کے بیشتر حصے کی بھارت کی جانب ہجرت اور جون کے دوران جنوبی ایران اور جنوب مغربی پاکستان میں نسبتاً خشک موسم کی وجہ سے پاکستان ٹڈی کے شدید حملہ سے محفوظ رہا ہے۔

 این ایل سی سی کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر میجر جنرل سعید اختر نے کہا کہ ایران سے ٹڈی کی ہجرت حال ہی میں ختم ہوگئی ہے لیکن پاکستان ابھی بھی خطرے سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق ملک کے اندر خیبر پختون خوا کے کچھ حصوں میں ٹڈی دل بن رہے ہیں۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کی پیش گوئی کے مطابق اب یہ جھنڈ چولستان کی جانب بڑھیں گے۔ مون سون بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی پاک بھارت سرحد کے قریبی علاقوں میں افزائش کا امکان ہے۔

ایف اے او کو خدشہ ہے کہ اگر ٹڈی دل کا مقابلہ کرنے کے لیے اضافی اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ مون سون کے سیزن میں ٹڈیوں کی تعداد 20 گنا تک بڑھ سکتی ہے۔ دریں اثنا جنوبی افغانستان میں افزائش نسل کے ذریعے بننے والے ٹڈی کے چھوٹے گروپس پاکستان آسکتے ہیں۔ ایران کے صوبہ سستان، بلوچستان اور جنوبی خراسان میں بھی محدود تعداد میں چھوٹے چھوٹے جھنڈ تشکیل پارہے ہیں جو پاکستان میں موسم گرما کے افزائش گاہوں میں منتقل ہوجائیں گے۔

تاہم سب سے بڑا خطرہ اس وقت شمالی صومالیہ میں پروان پانے والے دل سے ہے جو آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ وزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے سیکریٹری عمر حامد خان نے کہا ہے کہ افریقہ سے آنے والے ٹڈی دل گزشتہ سال کی نسبت 400 گنا زیادہ ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پر اگلے دو ہفتوں میں چاروں طرف سےٹڈی کا حملہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ٹڈی دل بھارت میں داخل ہوئے وہ واپس بھی آ سکتے ہیں جبکہ ایران اور افغانستان کی جانب سے بھی ٹڈیوں کے حملے بھی ہوں گے۔

loading...