امریکہ نے بھی پی آئی کی پروازوں پر پابندی لگادی

  • جمعہ 10 / جولائی / 2020
  • 690

پاکستانی پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز کے معاملے پر برطانیہ اور ملائیشیا کے بعد امریکا نے بھی پی آئی اے کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامہ منسوخ کردیا ہے۔

امریکی حکام نے اجازت نامے کی منسوخی سے متعلق یکم جولائی کو پی آئی اے حکام کو ای میل کی تھی۔  ترجمان پی آئی اے نے اجازت نامے کی منسوخی کی تصدیق کی اور بتایا کہ اجازت نامے کے تحت پی آئی اے کی 6 پروازیں آپریٹ ہوچکی تھیں۔ عبداللہ خان نے بتایا کہ پی آئی اے کو حاصل خصوصی اجازت کے تحت امریکا کے لیے 12 پروازوں کی منظوری دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پروازوں کا اجازت نامہ پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز پر اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی کارروائی کے باعث منسوخ کیا گیا۔  اجازت نامہ منسوخ کیے جانے کی ای میل موصل ہو چکی ہے تاہم امریکی اعتراضات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ فیصلہ پاکستانی عہدیدار کے بیان کی بنیاد پر لیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پی آئی اے کے متعدد پائلٹس کے لائسنس مشکوک ہیں۔ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن( ڈی او ٹی) نے فلائٹس سیفٹی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی حکام کو ارسال کردہ ای میل میں کہا گیا کہ اجازت نامے کی منسوخی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

ای میل میں مزید کہا گیا کہ نہ صرف پی آئی اے کی چارٹر فلائٹس چلانے کی اجازت واپس لی گئی ہے بلکہ قومی ایئرلائن کو امریکی پوائنٹس پر نان ریونیو آپریشنز سے بھی روک دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد پی آئی اے امریکا کیلئے اپنی پروازیں نہیں چلاسکےگی اور یہ پابندی پی آئی اےکی ہرقسم کی پروازوں پرلگائی گئی ہے۔

ڈی او ٹی کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ یہ اقدام، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے حالیہ واقعات کی نشاندہی کے بعد اٹھایا گیا جو ایوی ایشن سیفٹی کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 میں سے 262 کے لائسنس جعلی ہیں۔

اس سے پہلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے لئے پروازوں کو چھ ماہ کے لئے معطل کردیا تھا۔  اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

loading...